تازہ تر ین

گردش ایام اورفاروق چوہان

پروفیسر فاروق عزمی….جواں عزم
گئے برس کی بات ہے سردیوں کی ایک شام ایک دیرینہ دوست سے ملنے اندرون لوہاری جانے کا اتفاق ہوا۔ فیاض مرا ہاتھ پکڑ کر ایک دودھ جلیبی کی دوکان پر لے گیا جہاں اس نے گرم گرم دودھ میں جلیبیاں ڈلوا کر دو پیالے بنوائے اور ہم دوکان میں رکھے لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے۔ میرے سامنے پرانے اور میلے سے ٹیبل پر ایک کئی دنوں کا پرانا اور بوسیدہ سا اخبار رکھا ہواتھا۔ ہر لکھی ہوئی چیز کو پڑھنا عادت سی ہو گئی ہے۔ میں نے وہ اخبار اٹھا لیا۔ وہ روزنامہ جنگ کا ادارتی صفحہ تھا اور اس پر گردش ایام کے نام سے فاروق چوہان کا ایک کالم بھی تھا۔ اپنے ہم نام رائیٹر کا کالم دیکھ کر میں بے دھیانی سے تحریر پر نظریں گھمانے لگا۔ ساتھ ساتھ خالص دودھ اور جلیبیوں کی حلاوت اور مٹھاس کا لطف بھی لے رہا تھا اور ”فیاض“کی نرم گرم گفتگو بھی سن رہا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ تحریر کی شیرینی اور چاشنی نے مجھے فیاض کی باتوں اور دودھ جلیبی کی مٹھاس اور حلاوت سے بیگانہ کر دیا اور میں چمچ ہاتھ میں تھامے مکمل طور پر تحریر میں گم ہو گیا۔ وہ کالم پاکستان کی شہہ رگ ”وادی کشمیر“ سے متعلق تھا اور جس درد مندی اور خلوص سے لکھا گیا تھا۔ اس نے مجھے ارد گرد کے سارے ماحول سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔ جوں جوں میں تحریر میں آگے بڑھ رہا تھا مجھے احساس ہو رہا تھا کہ قلمکار سچا کھرا انسان، پکا مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہے اور اس کی سوچ کامرکزی خیال انسانیت کی معراج ،اسلام اور پاکستان کی سربلندی ہے۔
حالات حاضرہ اور کرنٹ ایشوز پر ان کے مثبت اور جاندار تجزیے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی امور اور حالات و واقعات پر ان کی گہری نظر ہے۔ کالم نگاری میں ان کا ایک جداگانہ اور منفرد اسلوب ہے۔ جو بہت معتبر اور قابل اعتماد ہے۔ ان کی تحریریں آپ کو فکر و عمل کی دعوت دیتی ہیں اور قاری ان کی انسان دوستی، حب الوطنی اور اسلام سے گہری محبت کا آسانی سے قائل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو حالات سے صحیح صحیح آگاہی حاصل ہو اور مستند اور معتبر حوالوں سے ”معلومات“ کا یقین کی حد تک درست ہونا بھی درکار ہے تو اس کے لئے آپ کو ”محمد فاروق چوہان“ کی قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ”گردش ایام“ کا معالعہ کرنا ہو گا۔ یہ روزنامہ جنگ میں ہر جمعے باقاعدگی سے چھپنے والے ان کے بہترین کالموں کا انتخاب ہے۔ لیکن میں کتاب پر بات کرنے سے پہلے ”صاحب کتاب“ محمد فاروق چوہان سے اپنی ایک دو ملاقاتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
ان کی تحریریں پڑھ کر ان سے ملاقات کا اشتیاق بڑھتا چلا گیا۔ میری ان سے پہلی ملاقات باغ جناح میں ایک کلب میں ہوئی جہاں ورلڈ کالمسٹ کلب کے عہدیداروں کا ایک اجلاس اس کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمن کی صدارت میں ہو رہا تھا۔ جو دور حاضرکے شورش کاشمیری ہیں۔ فاروق چوہان اس ورلڈ کالمسٹ کلب کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ اتنے بہت سارے سینئر صحافیوں ،کالم نگاروں اور دانشوروں کے درمیان جو نشست میرے حصے میں آئی اس کے دائیں طرف حافظ شفیق الرحمن اور ساتھ فاروق چوہان تشریف فرما تھے۔ اپنی تحریروں کی طرح سادہ مگر پر وقار محمد فاروق چوہان بہت محبت اور شفقت سے ملے۔ جب یہ نشست برخاست ہوئی تو میں ان کی شخصیت اور انداز گفتگو کا گہرا نقش لے کر اٹھا۔ان سے دوسری ملاقات ”مقبول اکیڈمی“ کے روح رواں جناب ملک مقبول احمد کی 90ویں سالگرہ کے دن ان کے گھر پر ہوئی جہاں ذرا کھلے ڈھلے ماحول میں گفتگو بھی رہی اور چائے وغیرہ بھی اکٹھے پی گئی۔ یہاں ہم علامہ عبدالستار عاصم کے ساتھ ملک مقبول صاحب کو زندگی کی 90بہاریں پوری کرنے پر مبارک باد دینے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ بعد کی ایک دو اور ملاقاتوں کے نتیجے میں ،میں فاروق چوہان سے دوستی اور احترام کے رشتے کا بجا طور پر دعویٰ کر سکتا ہوں۔فاروق چوہان کی پاکستان اور اسلام سے گہری دلچسپی ، انسانیت کے لئے تڑپ اور وطن سے سچی محبت ان کی گفتگو کا خاص موضوع ہوتا ہے۔ ان کی باتیں فکرو تدبر، علم و دانش، معلومات اور سادگی کا دلکش امتزاج ہوتی ہیں۔
کتاب ”گردش ایام“ میرے ہاتھوں میں ہے اس کتاب میں تقریباً 100کے قریب ان کے بہترین کالم شامل کئے گئے ہیں۔ جن میں قومی، بین الاقوامی اور عصری موضاعات پر انہوں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جو ان کے قلم کی زد میں نہ آیا ہو۔ وہ جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں،خوب کرتے ہیں۔ اور موضوع کو جزیات کے ساتھ وقت اور حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ادھیڑ کر قاری کے نہ صرف سامنے رکھ دیتے ہیں بلکہ قلم و قرطاس کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیںان کی سوچ اور رائے کالم نگاری کی دنیا میں انہیں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ جس کے وہ بجا طور پر حقدار ہیں۔
قومی امور ہوں یا بین الاقوامی ،مسئلہ کشمیر ہو یا سیاست، کرپشن، جمہوریت اور مارشل لاءہو یا بڑے بڑے سانحات ،امریکہ اور افغانستان ہوں، ملکی سلامتی کا موضوع ہو یا دہشت گردی۔ نیشنل ایکشن پلان کا ذکر ہو ،کوئی انتخابی معرکہ ہو یا کراچی کا امن،ڈرائینگ روم کی سیاست ،یا پارلیمان کا اجلاس۔ سرحدوں کی صورت حال ،یا ملک میں محرم اور عید میلاد النبی کے جلسے جلوسوں سے لے کر پاکستان میں این جی اوز کا کردار اور غیر ملکی مداخلت، پاکستانی سیاست دانوں کا رویہ ، غرض زندگی کے ہر پہلو اور سیاست و صحافت کی ہر جہت پر ان کا قلم روانی اور معتبر رائے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ ان کی اپنی ایک سکہ بند سوچ ہوتی ہے جو قاری کی رہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔ قاری ان کی انگلی تھام کر موضوع کے دریا میں ایسا غوطہ زن ہوتا ہے کہ جب وہ کنارے لگتا ہے اور کتاب سے سر اٹھاتا ہے تو فیصلے اور حقیقت کے موتی سمیٹ چکا ہوتا ہے۔ اور یہی ان کی تحریروں کی خوبی ہے کہ وہ سارے ابہام اور گومگو کی کیفیت سے نکال کر اپنے پڑھنے والے کو ایک درست فیصلے کی دہلیز پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ جہاں حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو کر چمکتی دھوپ کا سا سماں پیدا کر دیتی ہے۔ لیکن یہ دھوپ نہ آنکھوں کو چندیاتی ہے نہ بدن کو جلاتی ہے بلکہ اس کی تراوٹ سے دل و دماغ نشوونما پاتے ہیں۔ اچھے اور بہتر فیصلوں اور حقیقتوں کے پھول کھلتے ہیں اور اردگرد کی فضا کو معطر کرتے ہیں۔
گردش ایام کا فاروق چوہان یا فاروق چوہان کی گردش ایام ، علم و عرفان ، تحقیق و جستجو کا ایسا سمندر ہے جس کی تہہ میں اہل تحقیق کے لئے بیش قیمت موتی اور ہیرے جواہرات پوشیدہ ہیں۔ ان کا قلم شستہ نگاری میں کمال کے درجے تک پہنچتا ہے۔ فاروق چوہان سال ہا سال سے روزنامہ جنگ میں بلا تعطل کالم لکھ رہے ہیں۔ جو ان کی اپنے یپشے اور مقصد سے بے انتہا محبت اور مخلص ہونے کی دلیل ہے۔ ان کالموں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے کتابی شکل میں شائع کرنا ایک بڑا کام ہے۔ اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور دوست احباب کی دعاﺅں اور تعاون سے اپنے عمدہ طریقے پر ہوا ہے ۔ کتاب کی پرنٹنگ ،پیپر اور بائنڈنگ دیکھ کر جی خوش ہو جاتا ہے۔ اور اس دور خرابی میں جی کا خوش ہو جانا بڑی بات ہے۔
فاروق چوہان خود اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے دور طالب علمی سے ہی علامہ اقبال ؒ کی شاعری اور جناب مولانا مودودی صاحب کی نثر سے بہت استفادہ حاصل کیا۔ اور یہی مشورہ وہ نوجوان لکھنے والوں کو بھی دیتے ہیں کہ علامہ اقبال کی با مقصد شاعری اور مودودی صاحب کی نثر نگاری سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ آپ کا مطالعہ اور مشاہدہ جتنا زیادہ اور وسیع ہو گا۔ اتنا ہی آپ کے خیالات کو وسعت اور پختگی عطا کرے گا۔ اور آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا۔ کتاب کے مطالعے کے دوران قاری کو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ مصنف درد دل رکھنے والا ایسا شخص ہے جس کے پیش نظر صرف اور صرف ملک و قوم کی ترقی، سیاسی قیادت کو ملک و ملت کی صحیح راہنمائی کے لئے تیار کرنا اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے نشان منزل کا تعین کرنا ہی اولین ترجیح ہے۔
کتاب کے پس ورق پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق مدیر اردو ڈائجسٹ جناب الطاف حسن قریشی ، ممتاز مصنف کالم نگار اور ادیب ڈاکٹر اجمل نیازی (ستارہ امتیاز) گروپ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات عطاءالرحمن اور شفیق الرحمن، چیئرمین ورلڈ کالمسٹ کلب کے قلم سے کتاب کے بارے میں تاثرات نے کتاب کے وزن میں بے انتہاءاضافہ کر دیا ہے۔ کتاب کی اہمیت کو دو چند کرتے ہوئے مزید جن ادیبوں ، دانشوروں ، کالم نگاروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ان میں آپا جی بانو قدسیہ‘ جناب جبار مرزا(دانشور، کالم نگار)بزرگ پبلشر ملک مقبول احمد اور قلم فاﺅنڈیشن کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم شامل ہیں۔
(کالم نگارسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved