تازہ تر ین

ہمیں کسی سے محاذآرائی نہیں کرنی ۔۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار

لاہور (ویب ڈیسک)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایک جج کی مجبوری یہ ہے کہ اسے یہ سوچنا نہیں ہوتا کہ کیا بولنا ہے بلکہ اس کی مجبوری یہ ہے کہ اسے سوچنا ہوتاہے کہ کیا نہیں کہنااورجب ا?پ اس پوزیشن میں ہوں تو بہت سے باتیں نہیں کہہ سکتے۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جج کا کام انصاف کی فراہمی ہے، اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے کیونکہ اس ملک کی بقا قانون کی حکمرانی سے منسلک ہے اور اس کا مطلب ہے کہ قانون سب کےلئے برابر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نا انصافی کے دور کے خاتمے کی ابتدائ شروع کردی ہے، ہم کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف فراہم کریں تاہم ہم نے کسی کے خلاف محاذ ا?رائی نہیں کرنی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی خدمت کےلیے وکلاءکو سخت محنت کرنی ہوگی، شفاف اشیائ کی فراہمی کےلیے کوشاں ہوں تاہم ہم اصل سمت سے ہٹ گئے ہیں، ہم نے کسی ادارے سے محاذا?رائی نہیں کرنی، ہمیں جنگ اپنے ساتھ لڑنی ہے اور ان لوگوں جنگ لڑنی ہے جن کے پاس استطاعت نہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved