تازہ تر ین

آگے خطرناک موڑ ہے!

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں کسی پل سے گزرتا ہوں،وہاں لکھا ہوتا ہے “پل کی تصویر لینا منع ہے۔ایسا کرنے والے کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔”اور میں اردگرد دیکھتا ہوں وہا ں کوئی پولیس نہیں ہوتی ، وہاں کوئی پولیس کو بلانے والااور تصویر بنانے والے کو پولیس کے حوالے کرنے والا بھی نہیں ہوتا اور لوگ تصویر بنا کر چلے جاتے ہیں پھر مدت گزر جاتی ہے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں ریل کی پٹری کے کنارے چلتا ہوں وہاں جگہ جگہ لکھا ہوتا ہے ۔
“پٹری کراس کرنا قانوناََجرم ہے ایسا کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔”
میں دیکھتا ہوں کہ انسانوں کا ہجوم پٹڑی کراس کرتا ہے ۔لوگ آجا رہے ہیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔کئی ایک بار تو یہاں انسان کچلے بھی جاتے ہیںلیکن اس بورڈ کے علاوہ کوئی قانون نافذ کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی قانونی کاروائی کرنے والا۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں کسی محلے کے اندر سے گزتا ہوں جہاں گلیاں کوڑے اور کیچڑسے اٹی رہتی ہیں۔خالی پلاٹوں میں گندگی کے ڈھیرکے کنارے ایک بورڈ لگا ہوتاہے۔
“یہاں کوڑا کرکٹ پھینکنا جرم ہے۔ایسا کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔”
لمحے بھر کے بعد تھڑپ تھڑپ کوڑے کے تھیلے وہاں آ کر گرتے ہیں۔لیکن قانون حرکت میں نہیں آتا۔یہاں تک کہ کوڑے کے ڈھیرچھتوں تک پہنچ جاتے ہیںاور پورا محلہ اس کے تعفن سے مستفید ہو رہا ہوتا ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کسی مارکیٹ کے قریب سے گزرتا ہوں وہاں ایک سائن بورڈ لگا ہوتا ہے۔
“یہاں پارکنگ قانوناََ منع ہے ۔©”
اور لوگ اپنی گاڑی عین اس بورڈ کے نیچے پارک کر کے چلے جاتے ہیں۔ان کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔کوئی گاڑی کو ضبط نہیں کرتا۔کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔شاہراہ عام پر “حد رفتار “کے بورڈ دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے وہاں ساٹھ اور ستر کی حد لکھی ہوتی ہے۔لوگ کبھی چالیس پر چلتے ہیںکبھی اسی نوے کو کراس کر جاتے ہیں لیکن قانون دور دورتک نظر نہیں آتا۔
میں دیکھتا اور حیران ہوتا ہوں اس بورڈ کو جس پر لکھا ہے۔
“آگے خطرناک موڑ ہے ۔آہستہ چلیں۔”
کوئی اس بورڈ کی پرواہ نہیں کرتا ۔ہر کوئی تیز رفتاری سے موڑ کاٹتا ہے۔تنبیہہ کا کوئی اثر نہیں ہوتااور پھر موڑ مڑتے ہی حادثہ ہو جاتا ہے۔پیچھے سے آنے والا اسے خون میں لت پت دیکھتا ہے اور گزر جاتا ہے ۔اس کے ذہن میں دوسرا خیا ل آتا ہے “بے چارے کی موت آئی تھی مر گیا”آئے روز لوگ اپنی موت اس خطرناک موڑ کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔حیر ت ہے کوئی بھی عبرت نہیں پکڑتا، کوئی بھی قانون کی اطاعت نہیں کرتا۔کوئی بھی نہیں سوچتا۔
حیرت ہوتی ہے جب بھی میں کسی دفتر میں جاتا ہوں اور دفتر کے باہر موٹے حروف میں لکھا پاتا ہوں۔
©”رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔”
پھر بوسیدہ کمرے میں بھاری فائلوں کے درمیان بیٹھا کلرک بادشاہ ٹوٹے میز پر درازہ واکر دیتا اور پیسے طلب کرتا ہے۔کام میں روڑے اٹکاتا ،عجب طرح کے بہانے تراشتا اور قانونی موشگافیوں میں الجھاتا ہے۔آپ کی آہ و بکا ہ کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ اگر رقم دے کر ناجائزکام کو ©”جائز “کرنے کی کوشش کریں تو یہ رشوت ہوتی ہے۔لیکن آپ کے جائز کام کے راستے میں رکاوٹ ڈال دی جائے تو رقم دے کر کام کرانا “جائز “ہے یہ رشوت نہیں کہلاتی ۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں کسی اوور ہیڈ برج کو دیکھتا ہوں ۔اس کے کنارے لکھا ہوتا ہے ” اوور ہیڈپل پر سے گزریں۔سڑک عبور کرنا قانوناََ جرم ہے۔”لیکن لوگ پل کو چھوڑ دیتے ہیںاور سڑک کے بیچوں بیچ دوڑتے پھرتے ہیں۔قانون دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن حرکت میں نہیں آتا ۔
حیرت ہوتی ہے اس وقت جب کسی ٹریفک سگنل پر رکتا ہوں سامنے اشارہ سرخ ہو چکا ہوتا اور قانون کا نمائندہ بھی کھڑا ہوتا ہے لیکن لوگ پھر بھی اشارہ توڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔لیکن قانون حرکت میں نہیں آتا۔قانون کا نمائندہ منہ پھیر لیتا ہے۔
میں حیرت سے سوچتا ہوں کہ ہم کس طرح کی قوم ہیں۔ہم کون سی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔عین اس لمحے جب چیختی چنگاڑتی اور انسانی جان بچانے کی جدوجہد کرنے والی ایک ایمبولنس سڑک پر آتی ہے ۔اس کا سائرن دردبکھیر رہا ہوتا ہے لیکن آگے کھڑا گاڑی والااسے حقارت سے دیکھتا ہے ۔راستہ دینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے ۔میں اس وقت مزید حیرت زدہ ہو جاتا ہوں جب ایمبولینس قریب آتی ہے ۔اس میں چندلوفر سگریٹ پھونکتے اور باقیوں کو احمق سمجھتے ہوئے دھواں اڑاتے گزر جاتے ہیں۔
حیرت ہوتی ہے اس وقت ایک ایسی خاتون کو دیکھتا ہوںجو نو بجے کے خبر نامے میں دوپٹہ اوڑھ کر خبریں پڑھتی ہے اور ٹھیک ایک گھنٹے بعد دوپٹہ گلے میں ڈال کر خبریں سناتی ہے ۔معلوم نہیں اس ترتیب کے موجد کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔روشن خیالی یا اپنی ذہنی پسماندگی۔
حیرت ہوتی ہے جب کچھ محسنوں کے احسانات کی بات ہوتی ہے ان کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے انہیں قومی اعزازات سے نوازا جاتا ہے ۔پھر انہیں راندہ درگاہ بنا دیا جاتا ہے ۔ان سے اعزازات چھیننے اور پھانسی چڑھانے کے مطالبے ہوتے ہیںحیرت ہوتی ہے جب اس ملک لوٹنے والے مطالبہ کر رہے ہوتے کہ چوروں کو پکڑو اور ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔حیرت ہوتی ہے جب سب قانون کی بالا دستیکی بات کر رہے ہوتے ہیںلیکن قانون کی منشا ءکوئی نہیں مان رہا ہوتا۔
حیرت ہے میرے دوستو!جب قاتل قتل کرنے کے بعد مقتول کے جنازے کو کندھا دے کر آنسو بہا رہاہوتا ہے اور جنازے میں شریک لوگ اسی سے ہمدردی کر رہے ہوتے ہیں۔
حیرت ہوتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم ہے لیکن آئین کے مطابق جب کوئی اپنا رول ادا کرنا ہوتا ہے وہ ہمیشہ پردہ سکرین سے غائب کر دئیے جاتے ہیں۔ایسے ان دیکھے ہاتھ بڑھتے ہیں جن کا دستور اور آئین میں کردار طے نہیں ہوتا۔
حیرت ہوتی ہے اس وقت جب ایک پہلوان اپنا اکھاڑا چھوڑکر باﺅنڈری سے باہر نکل آتا ہے اور اپنی فتح کا اعلان کر کے انتظام خود سنبھال لیتا ہے ۔حیرت ہوتی ہے اس وقت جب ہم دشمن کے آگے بچھے جاتے ہیں اور اپنے دوستوں کے لیے زمین تنگ کر دیتے ہیں ۔
اور دوستو!
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ ب سب کھلی آنکھوں دیکھتے ، کا نوں سنتے ، بھگتتے ، برتتے اور خود استعمال ہوتے ہیں اور پھر بھی حیرت نہیں ہوتی !!
(امورکشمیرکے ماہر‘ملکی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved