تازہ تر ین

پی پی 137شاہدرہ کے عوام کی پکار بنام وزیراعلیٰ پنجاب

طلال اشتیاق
صوبائی دارلحکومت کے سب سے قدےم اور اہم حلقہ شاہدرہ پی پی 137جو کہ ہمےشہ سے سیاسی اور سماجی اہمےت کا حامل رہا ہے جہاں پاکستان مسلم لےگ (ن) کی مرکزی قےادت نے اس حلقے سے الےکشن جےت کر اےوان مےں حکومت بھی کی ہے ۔گزشتہ روز کسی کام کے سلسلے میں اس حلقے مےں واقع گورنمنٹ شاہدرہ ہسپتال جانا ہوا تو خےال آےا کہ بطورصحافی کیسے یہ ممکن ہے کہ ےہاں کی عوام کے مسائل بھی نہ سنتا چلوں۔قارئین کی دلچسپی کے لیے بتادوں کہ اس حلقہ مےں ٹوٹل ےونےن کونسل کی تعداد دس ہے جس مےں بےگم کوٹ ،ےوسف پارک ،شمس آباد ،کوٹ محبوب ،چاہ چمھےاں والا،کوٹ شہاب الدےن ،لجپت روڈ ،عابد خان ماچس فےکٹری ،برکت ٹاﺅن،قےصر ٹاﺅن شامل ہےں ۔ وزےر پرائمری اےنڈ سکےنڈری خواجہ عمران نذےر اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے نمائندہ کے طور پر کام کررہے ہیںحلقے کی حالت زار دیکھنے کے بعد کوئی بھی اس بات کا اندازہ لگاسکتا ہے کہ جب عوامی نمائندہ اپنے آبائی علاقے کے علاوہ منتخب ہو تو حلقہ شاید اس کی ترجیحات میں نہیں آتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کی سوچ اور ویژن کیا ہے اس کا اندازہ مریم بی بی کی این اے120میں سرگرمی سے لگایا جاسکتا ہے شاید کوئی دن ہوتا ہو جب وہ حلقے کے کسی علاقے ،گلی یا محلے میں موجود نہ ہوں مگر شاید ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر ممبر پارلیمان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ عوام اس بات کا غصہ عین انتخاب والے دن نکالتے ہیں ۔ویسے بھی علاقے سے تعلق رکھنے والے ووٹرز انہیں امپورٹڈ ایم پی اے متصور کرتے ہیں بلکہ نین سکھ سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض ،محمد شفیق اور ندیم نے مجھے اس بات پر مجبور کیا کہ آپ اس بات کو ہمارے ناموں کے ساتھ ن لیگ کی قیادت تک پہنچائیں کہ ہم نے آج تک شیر کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کا نہیں سوچا تھا مگر دوسرے درآمدشدہ امیدوار کو منتخب کروانے کے بعد یہ بات سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ اس دفعہ کسی اور امیدوار یا جماعت کو کیوں نہ آزمایا جائے۔نین سکھ کا علاقہ بیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے مگر حیرت انگیز طور پر کوئی فلٹریشن پلانٹ موجود نہیں ہے جہاں تک علاقے میں قائم سکول ،طبی مرکز اور مین بازار یہاں مستقل کھڑے ہوئے پانی کی وجہ سے جوہڑ کا منظر پیش کرتا ہے ،اب تک یہاں کھڑے پانی میں کرنٹ لگنے سے کئی اموات ہوچکی ہیں جبکہ دس سے زائد سے بچوں کی ہلاکت صرف جوہڑ میں گرنے سے ہوئی ،اس علاقے میں رہنے والوں کے لیے ان کے مویشی نہایت اہمیت کے حامل ہیں جو ان کی روزی کا ہیں مگر اس پانی کی وجہ سے ہی درجنوں مویشی ہلاک ہوچکے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں بھی رینگتی ہو۔ایک شہری نے تو مجھے یہاں تک بتایا کہ اس پانی کی وجہ سے ہماری بچیوں کے رشتے نہیں ہوپارہے ہیں شاید یہ بات دوسروں کو عامیانہ سے لگے مگر ہم جس علاقے کا منظر پیش کررہے ہیںوہاں رہنے والوں کے لیے یہ زندگی کے اہم مسئلوں میں شمار ہوتا ہے ۔ میرے لیے یہ حیرت کی بات اس لیے تھی کہ جہاں تک مجھے علم ہے خواجہ عمران نذیر کئی بار اس علاقے میں مختلف پانی کی سکیموں کا افتتاح بھی کیا جس کے لیے 37کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ بھی منظور ہوا ۔خواجہ عمران نذیر صوبائی حکومت میں بطور وزیرپرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کام کررہے ہیں مگر علاقے میں موجود شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال کا جائزہ لیں تو اس کو وزیراعلی پنجاب نے اپنی ڈاتی کاوش اور توجہ سے شاہدرہ کے پسماندہ علاقے کے لیے تیار کروایا تھا اس کی تیاری کے مراحل میں وہ کئی بار یہاں آئے مگر آج اس کا حال یہ ہے کہ این اے118میںایم این اے ملک ریاض کے حکم نادر شاہی کے بغیر نہ تو وہاں کوئی ملازمت کرسکتا ہے جبکہ رہی سہی کسر وزیر موصوف خواجہ عمران نذیر نے پوری کردی ہے جنہوں نے ایک دو بار اس کے دورے ضرور کئے لیکن ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کرنے میں ناکام رہے اور آج اس ہسپتال میں صرف سیاسی بنیادوں پر بھرتی افراد کام کررہے ہیں جو مریضوں کا علاج معالجہ بھی بغیر سیاسی سفارش ممکن نہیں رہا ہے۔حلقہ صوبائی وزیر صحت کا ہو تو لوگوں کو گمان ہوگا کہ یہاں بیمار افراد کی تعداد دیگر علاقوں سے کم ہوگی لیکن ظلم کی انتہا ہے کہ علاقے کے پچاس فیصد افراد گندے پانی نامناسب طبی سہولیات کے سبب ہپاٹیٹس کے شکار ہیں اور اگر ان افراد کا ٹیسٹ کروایا جائے تو اس کے علاوہ دیگر موذی امراض بھی اس علاقے سے منسوب نظر آئیں گے۔اگر آپ پی پی 137کی عوام سے بات کریں تو آپ کو واضع طور پر محسوس ہوگا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے نوجوان قائد حمزہ شہباز شریف کو پکار رہے ہیں کہ وہ خود یہاں آئیں کیونکہ انکی عدم توجہ نے منتخب نمائندوں کو بھی ان سے دور کردیا ہے جو صرف فوٹو سیشن اور افتتاحی تختیوں کی نقاب کشائی کے موقعہ پر ہی اس حلقے میں نظر آتے ہیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved