تازہ تر ین

عدالتی فیصلے خواہشات کے تابع نہیں ہوتے

عبدالودود قریشی
سپریم کورٹ کی جانب سے دیا جانیوالا فیصلہ نہ صرف آئینی اور قانونی ہے بلکہ باقی ممالک میں بھی ی ہی رائج الوقت ضابطہ ہے ، بھارتی سپریم کورٹ میں بھی یہ بات زیر بحث آئی جب بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں کو بدعنوانی کرنے ، کمیشن کھانے پر عدالتوں نے سزا دیدی ،مگر وہ اپنی پارٹی کے سربراہ رہنے پر مصر تھے جن میں لالوپرشاد یادیو بھی شامل تھے، تو عدالت نے سوال کیا کہ کوئی چور ڈاکو اگر عدالت سے قرار دیدیاجائے تو وہ پھر بھی سیاسی جماعت کا سربراہ رہ سکتا ہے ، جس پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ فیصلہ قرار دیا کہ جو شخص سزا یافتہ ہوجائیگا اسے پارٹی سربراہ کے طور پر نیک اور ایماندار لوگوں کی قیادت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،برطانیہ میں بھی غیر تحریری روایات کے مطابق بدعنوانی میں سزا تو بڑی بات ہے الزام لگنے پر بھی تمام افراد فوری طور پر اپنے عہدے اور حلقہ کی نشست سے بھی استعفیٰ دیدیتے ہیں ۔
میاں نوازشریف کے قانونی مشیر وں نے انہیں بتایا کہ پارلیمنٹ سے قانون سازی کرکے عدالتی فیصلے کوغیر موثر بنا دیتے ہیں جس پر عملدرآمد کیلئے کام شروع کیا گیا تو اس میں سن 2014سے الیکشن اصلاحات کیلئے ہونے والی قانون سازی کی فائل کا سہارا لیاگیا، جسکا بھانڈا شازیہ مری نے قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت پھوڑ دیا جب انہوں نے کہا کہ وزیرقانون نے ختم نبوت کے حوالے سے اور دیگر معاملات کوہم سے خفیہ رکھا اور کہا تھا کہ آپ سب مجھ پر چھوڑ دیں، میں وزارت قانون اور الیکشن کمیشن سے بات اور مشورہ کرونگا ، مگر پس پردہ ایک قانونی ٹیم کام کررہی تھی جس میں دھوکہ دہی کا عنصر بھی شامل تھا، ان قانونی مشیروں کو معلوم تھا کہ یہ ترمیم آئین کے ابتدائیہ اسلام اور بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے اور عدالت سے ختم ہو جائیگی ، لہٰذا عدلیہ کو دباو¿ میں رکھنے کیلئے اس میں ختم نبوت کی شقیں بھی ختم کردی جائیں ، جب عدلیہ کے پاس مقدمہ جائیگا تو امریکہ، برطانیہ اورسارا یورپ اس ترمیم کے پیچھے کھڑے ہوجائیں گے،لہٰذا میاں نوازشریف کی نااہلیت کو اہلیت میں بدلنے کا قانون ختم کرنے میں بین الاقوامی دباو¿ کام آئیگا، مگر علامہ خادم حسین رضوی کے دھرنے نے بین الاقوامی دباو¿ کی بازی الٹ دی ۔
میں نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی جبکہ ابھی خادم حسین رضوی نے احتجاج کا اعلان بھی نہیں کیاتھا کہ اسے رجسٹرار نے ضابطے سے گذارنا شروع کیا، احتجاج ہوا آٹھ نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا، سارا پاکستان جام ہونا شروع ہوگیا،لوگوں نے بااثر اور موثر وزراءجن میں سابق وزیر داخلہ پاکستان ، وزیر قانون پنجاب ، وزیر ریلوے کے گھروں پر حملے شروع کردیئے اور یوں ملک فسادات کی لپیٹ میں آنا شروع ہوگیا کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کودرخواست کی جنہوں نے ثالثی کرواکر معاملہ رفع دفع کروایا۔
اس میں وزیرقانون کو گھر بھیج دیاگیااور پارلیمنٹ کے ارکان کے دباو¿ پر تین دن کے اندر اندر انتخابی اصلاحات 2017میں کی گئی ترمیم ختم نبوت کے حوالے سے واپس بحال کردی گئی، اس ترمیم کی بحالی کے بعد امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی دلچسپی ختم ہوگئی اور اس قانون سازی کیلئے کی جانیوالی منصوبہ بندی ناکام ہوگئی ۔
چونکہ ذاتیات کیلئے ختم نبوت پر بھی قانون میں ترمیم کردی گئی جو ایک ظلم تھا لہٰذا قانون قدرت نے انہیں عذاب میں لے لیا، یورپ ، امریکہ ، برطانیہ بھی مدد کو نہ آئے مگر اس حوالے سے جو جگ ہنسائی اور بے عزتی ہوئی وہ اب تاریخ کا حصہ ہے ۔
گذشتہ روایت کے مطابق عدالتی فیصلوں میں اگر کسی شخص کو کسی عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو اسکے اقدامات کو تحفظ دیا جاتا ہے ، اس لئے کہ وہ دانستہ کسی خاص مقصد کیلئے یاانجام دیئے گئے مقاصد کیلئے نہیں ہوتا ، اس معاملے میں تو دانستہ عدالتی فیصلے کو بے اثر کرنے کیلئے قانون سازی کی گئی اور سارے کام کے پیچھے بدنیتی شامل تھی۔
لہٰذا اب نظریہ ضرورت کو دفن کرکے ان اقدامات کو بھی کالعدم قرار دینا ضروری تھا تاکہ مستقبل میں کوئی اور یہ واردات نہ کرے کہ غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر عہدے پر براجمان ہوکر فیصلے کرلئے جائیں اور جب عدالت فیصلے دیگی تو ہمارے مقاصد تو پورے ہوچکے ہونگے اور انہیں عدالتی تحفظ بھی حاصل ہوچکا ہوگا۔
لہٰذا سپریم کورٹ نے آئینی اصلاحات 2017کے بل میں کی گئی ترمیم کو ختم کرنے کے ساتھ ان اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیکر ایک مثبت اور قابل تعریف فیصلہ دیا ہے جو قوم کی راہ متعین کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور آئندہ کوئی بھی شخص غیر قانونی و غیر آئینی اقتدامات سے بڑے فیصلے اور اقدامات کرنے سے گریز کریگا کہ یہ فیصلے اب مکمل طور پر ختم بھی کئے جائیں گے ، گزشتہ اور موثر اقدامات کو تحفظ نہیں دیا جائیگا ۔
لہٰذا اب اس سوچ سے کہ عارضی طور پر منصب حاصل کرکے غیر قانونی اقتدامات اور مفادات حاصل کرلئے جائیں سے بھی بڑی حد تک گریز کیا جائیگا، سپریم کورٹ کو بنیادی آئینی ڈھانچے اور قانون میں آئین سے متضاد ترامیم ، بنیادی انسانی حقوق سے متضاد قانون سازی اور آئین میں شامل قرارداد مقاصد سے متصادم قانون سازی کو مکمل ختم یا جزوی ختم کرنے کا حق حاصل ہے، عدالت کو یہ حق آئین پاکستان نے دیا ہے اوردنیا کے تمام ممالک میں پارلیمنٹ کو مادر پدر آزادی نہیں دی جاتی کہ وہ آئین میں ایک ترمیم کرکے بادشاہت قائم کر لیں۔
پاکستان میں موجودہ پارلیمنٹ ایک قانون ساز ادارہ ہے ، اسے اصولی طور پر آئین سازی کا حق حاصل نہیں ، اگر کہیں بہت مشکل ہو تو معمولی ترمیم کا حق حاصل ہے ، ایسا کرنے کیلئے ملک میں ریفرنڈم یا پھر آئین ساز اسمبلی کو معرض وجود میں لانے کیلئے آئین ساز اسمبلی کا انتخاب عمل میں لانا ہوگا جس میں قرارداد مقاصد سے پھر بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا جوکہ آئین کا ابتدائیہ ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بددیانت اور جو شخص صادق و امین نہ ہو اسے حکمرانی یا پارٹی سربراہ بننے کی قانونی اجازت دیدی جائے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved