تازہ تر ین

ن لیگ سینٹ انتخاب سے آﺅٹ ،تمام امید وار آزاد قرار

اسلام آباد (این این آئی، صباح نیوز) الیکشن کمیشن نے نوازشریف کے بعد مسلم لیگ (ن)کے چیئر مین راجہ ظفر الحق کے دستخط سے امیدواروں کو ٹکٹس جاری کر نے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے امیدوار کو آزاد ڈکلیئر کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے گزشتہ روز انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ءکیس کے فیصلے میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کو پارٹی صدارت کےلئے نااہل دیتے ہوئے ان کے بطور پارٹی صدر کیے گئے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیاجس کے بعد نوازشریف کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کےلئے امیدواروں کو دیئے گئے ٹکٹس بھی منسوخ ہوگئے۔ تاہم جمعرات کو مسلم لیگ (ن) نے سینٹ انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا اور پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق کے دستخط سے امیدواروں کو ٹکٹس جاری کیے گئے۔ اس سلسلے میں راجہ ظفر الحق نے الیکشن کمیشن کے دفتر جاکر امیدواروں کے فارمز پر دستخط کیے ۔الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ کل کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ضروری سمجھی، الیکشن کمیشن میں میرے نام سے امیدواروں کے پارٹی ٹکٹس جمع کرا دیئے ہیں، صدر یا چیئرمین پارٹی ٹکٹ جاری کرسکتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بعدازاں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ارکان، سیکرٹری ، چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز، ڈی جی لاءاور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینٹ امیدواروں کی قانونی حیثیت پر غور کیا گیا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ن لیگ کے نمائندوں کو آزاد امیدوار قرار دےدیا اس فیصلے کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) سیاسی جماعت کی حیثیت سے سینیٹ الیکشن سے آو¿ٹ ہوگئی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن)کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ سینٹ انتخابات کے حوالے سے جار ی کر دہ شیڈول تبدیل نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کیا گیاجبکہ ضمنی انتخاب کے لیے بھی (ن) لیگ کے امیدوار کو آزاد قرار دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل فیصلہ کہا گیا کہ تمام ریٹرننگ آفسرز مسلم لیگ (ن)کے امیدوار وں کو آزاد تصور کریں ۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں 4 آپشنز پر غور کیا گیا ¾ کمیشن نے سینیٹ انتخابات کو ملتوی کرنے، (ن )لیگ کے امیدواروں کو آزاد امیدوار قرار دینے، نیا پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کیلئے وقت دینے اور امیدواروں کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ سے رہنمائی لینے کے آپشنز پر غور کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہاگیا کہ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو متاثر نہیں کر ناچاہتے ¾ فیصلے کے اطلاق سینٹ انتخابات ¾ پی پی 30اور پی ایس 7پر بھی ہوگا ۔ اس سے قبل درخواست جمع کرانے کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ کل کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ضروری سمجھی، الیکشن کمیشن میں میرے نام سے امیدواروں کے پارٹی ٹکٹس جمع کرا دیئے ہیں، صدر یا چیئرمین پارٹی ٹکٹ جاری کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی صدارت کے لیے نام پر مشاورت ہو رہی ہے، اس حوالے سے پارٹی کی مرکزی مجلس عامہ فیصلہ کرے گی واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف کی پارٹی صدارت کالعدم قراردینے کے بعد نوازشریف کے بطور پارٹی صدر تمام فیصلوں بشمول سینٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی کالعدم ہوگئی تھی۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved