تازہ تر ین

گزارشات نہیں حقائق نامہ

راﺅ محمد اسلام …. بحث و نظر
بھلا ہو ضیا شاہد صاحب کا جنہوں نے 12اور 13 فروری کو ”سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات“ کے عنوان سے خصوصی مضمون لکھ کر اس مثبت بحث کا پھر سے آغاز کیا۔اس وقت ضیا شاہد صاحب کے دونوں مضامین اور اس کے جواب میں اس سے ملحقہ شائع ہونیوالے سرائیکی کالم نگار ظہور دھریجہ کے دونوں مضامین میرے پیش نظر ہیں۔ ضیا شاہد کے مضمون کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان مضامین کا عنوان ”سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات “ نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ ان مضامین کا نام ”سرائیکی لیڈروں کے حوالے سے حقائق نامہ “ہونا چاہیے تھا۔بہرحال ضیاشاہد صاحب نے اپنے مضامین میں اس ”سرائیکی مشاورت “کا ذکر کیا ہے جو گذشتہ دنوں روزنامہ خبریں ملتان کے دفتر میں ضیا شاہد صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ان مضامین کی اشاعت سے قبل خطے میں موجود نان سرائیکی رہنما ایک عجیب سی بے چینی محسوس کررہے تھے کہ ضیا شاہد صاحب نے اس مشاورت میں نان سرائیکی رہنماﺅں کو کیوں نظر انداز کیا مگر ان مضامین کی اشاعت کے ساتھ ہی تشکیک کی گرد خود بخودبیٹھ گئی اور ایسے لگا اگر ضیا شاہد صاحب اس مشاورت میں نان سرائیکی رہنماﺅں کو بھی شامل کرتے تو شائد سرائیکی رہنما اس انداز سے کھل کر بات نہ کرپاتے جس کے نتیجے میں ضیا شاہد صاحب یہ حقائق نامہ لکھنے پر مجبورہوئے۔اور سرائیکی رہنماﺅں کے حوالے سے ان کی رائے مزید نکھر کرسامنے آگئی۔یقیناضیاشاہد صاحب کے مضامین پورے خطے کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں اور یہی وہ موقف ہے جو قرین انصاف ہے۔
انہی مضامین سے چند اہم نکات پر اپنی رائے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ضیا شاہد صاحب کی یہ بات یقینا درست ہے کہ اس خطے میں بسنے والے محض سرائیکی نہیں بلکہ روہتکی،پنجابی،اردو،بلوچی اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی اسی خطے کالازمی حصہ ہیں لیکن ضیا شاہد صاحب کی اس بات سے اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ”لیکن سرائیکی لیڈروں کے شور شرابے سے نان سرائیکی خوفزدہ ہوجاتے ہیں کہ سرائیکیوں کا صوبہ بنا تو نان سرائیکی بی کلاس شہری نہ بن جائیں“۔اس حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا کہ خطے میں بسنے والے نان سرائیکی ان کاغذی سرائیکی لیڈورں کے ”شورشرابے“سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ یہ سرائیکی لیڈر خود خوف کا شکار ہیںاسی لئے محض کاغذی کاروائی تک محدود ہیں۔ یہ ہمت کریں اور خطے کے چند نان سرائیکی اکثریت دیہاتوں میں بھی جا کر سرائیکی صوبے کا نعرہ لگائیں تاکہ انہیں خود اندازہ ہوجائے کہ یہ کتنے پانی میں ہیں۔خطے میں بسنے والے نان سرائیکی لوگ (جو عددی لحاظ سے واضح اکثریت میں ہیں)ان کاغذی لیڈروں کی کاغذی کاروائی کو محض خودنمائی اور اپنے تعصب کے اظہار کا زریعہ سمجھتے ہیں اور اس بات کا پوری طرح اداراک رکھتے ہیں کہ ان کے ”شورشرابے“سے خطے میں لسانی فسادات پھیلانے کے انکے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔آپ نے خود بھی اس خطے کی ترجمانی بجا طور پر ان الفاظ میں کرکے خطے کا بیٹا ہونے کا حق ادا کیا ہے۔”سرائیکی تنظیموں اور لیڈروں میں مجھے کوئی ایک بڑا نام ایسا نظر نہیں آتا جس کے پیچھے سب لگ سکیں،اکثر جماعتیں اور تنظیمیں لیٹر پیڈ کی حد تک محدود ہیں جس پر بیان لکھ کر چھپوائے جاتے ہیں“۔
ضیا شاہد صاحب نے اپنے خصوصی مضمون میں ایک اور بڑی اہم حقیقت بیان کی ہے جو اس طرح ہے”سرائیکی مشاورت میں بعض دوستوں کا خیال تھا کہ بعض حلقے بالخصوص ایم پی اے کی حد تک جو ایم این اے کے حلقے سے چھوٹا ہوتا ہے ہم سرائیکی کے نام پر سیٹ جیت سکتے ہیں لیکن شائد کسی ایک شریک گفتگو کو بھی میں نے یہ دعویٰ کرتے نہیں دیکھا کہ ہم ایم این اے کی سیٹ پر بھی کامیاب ہوسکتے ہیں“۔ایم پی اے کی سیٹ پر کامیابی کا جو دعویٰ سرائیکی مشاورت میں کیا گیا اسے نامور سرائیکی دانشور ظہور دھریجہ نے اپنے 15 فروری کے مضمون میں یہ کہہ کر خود ہی مسترد کردیا”ہمیں اپنی حیثیت اور اوقات کا بھی علم ہے کہ ہم ایم پی اے یا ایم این اے تو کیا ایک کونسلر بھی نہیں بن سکتے“۔یہی بات دھریجہ صاحب مختلف اوقات میں اپنی تحریروں اور گفتگو میں دہراتے ہیںمگر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عوامی تائید سے محرومی کے کھلم کھلادعوے کے باوجود دن رات لسانی تعصب پھیلانے میں مشغول رہنا کس کا ایجنڈا ہے جسے وہ کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔کیونکہ اگر یہ عوام کے مفاد کا ایجنڈا ہوتا تو یقینا اس خطے کے عوام کی تائید بھی اس ایجنڈے کو حاصل ہوتی جو کہ نہیں ہے۔اسی مضمون میں اگلے ہی لمحے وہ غیر شعوری طور پر اپنا ایجنڈا بھی واضح کرتے نظر آتے ہیں جو کچھ یوں ہے”دو صدیاں غلامی میں بیت گئیں،ہم چاہتے ہیں کہ صوبہ بن جائے تاکہ پیارے پاکستان کے اندر وسیب کی آنے والی نسلیں تو سکھ کا سانس لے سکیں“۔دھریجہ صاحب سے سوال یہ ہے کہ آپ دو صدیوں سے کس کی غلامی کا شکار ہیں؟معلوم اور معروف تاریخ کے مطابق تو اہل پاکستان نے 14اگست 1947 ءکو اپنی آزادی کی منزل حاصل کرلی تھی مگر نہیں معلوم وہ کون سی غلامی ہے جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا چین غارت ہوچکا ہے۔اگر آپ پاکستان کے آزاد ہونے کے باوجود بھی خود کو غلام تصور کرتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی آزادی کو آپ اپنی غلامی تصور کرتے ہیں اور اب جو صوبے کے قیام کی تحریک آپ چلا رہے ہیں یہ دراصل آزادی کی تحریک ہے اور ایک آزاد ملک میں اس طرح کی تحریک کو بغاوت ہی کہا جاسکتا ہے۔دوسرا یہ کہ آپ کے اس غلامی سے نجات کے حصول کی خواہش نے آپ کے ایجنڈے کو واضح کردیا ہے اور یہ ایجنڈا صرف دشمن ملک کا ہی ہوسکتا ہے کسی محب وطن کا نہیں۔کیونکہ صوبوں کا قیام بہرحال ملکی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے عمل میں آتا ہے ،صوبوں کے قیام کو کسی بھی قوم کی غلامی یا آزادی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔آزادی کیلئے تو علیحدہ ملک کا قیام عمل میں آتا ہے صوبے کا نہیں۔اس خطے میں بسنے والے سرائیکی بھی سرائیکستان کی حمایت کرنے کو تیار نہیں ہیں چہ جائیکہ غیر سرائیکی اس تعصب پر مبنی نعرے کی حمایت کریں ۔اگر ان کو اپنے دعوے کی سچائی کا اتنا ہی زعم ہے تو کسی ایک حلقے سے چند سو ووٹ تو لے کر دکھادیں جو یہ کبھی نہیں لے سکتے۔
اسی مضمون میںضیا شاہد صاحب نے ایک اور بہت بڑی حقیقت کو واضح کیا ہے جو اس طرح ہے”ہاں البتہ ان متعصب سرائیکی لوگوں سے مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ کا یہ بغض آپ کے علاقے میں نئے صوبے کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے“۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی بناءپر آج تک عوام کی رائے ان نام نہاد دانشوروں اور لیڈروں کے ساتھ نہیں مل سکی۔عوام بھی یہی سوچتے ہیں کہ یہ سرائیکی لیڈراپنے تعصب کی بناءپر اپنے موقف کے خود ہی سب سے بڑے دشمن ہیں اور انہی کی ہٹ دھرمی کے باعث اس خطے کے عوام صوبے کے حصول کی منزل سے دور ہیں۔ان دانشوروں کی سوئی محض اس بات پر اٹکی ہوئی ہے کہ ہماری مرضی کے نام اور جغرافیے پر مشتمل صوبہ ہمیں پلیٹ میں رکھ کر دے دیا جائے ۔مگر عوام کی رائے یہ ہے کہ صوبہ اس خطے کی محرومیوں اور پسماندگی کے باعث بننا چاہے نہ کہ کسی خاص زبان یا قوم کی خواہش کی پیروی میں۔غربت،محرومی اور پسماندگی جس طرح ایک سرائیکی بھائی کے گھر میں آتی ہے اسی طرح غیر سرائیکی کے گھر میں بھی ڈیرے ڈالتی ہے۔لہذا صوبے کے قیام کے مطالبے کا مقصد کسی بھی زبان یا قوم کو نمایا ںکرنا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو حل کرنا ہونا چاہیے۔
آگے چل کر ضیاشاہد صاحب نے ایک اور بہت بڑی حقیقت سے اس طرح پردہ اٹھایا ہے ”علاقے کی ترقی اور زراعت کی بہتری کا تقاضا یہ نہیں کہ مہاجر اور مقامی کی لڑائی کروائی جائے۔مجھے معلوم ہے کہ دھریجہ صاحب سے لے کر عاشق بزدار تک سب کی تحریروں میں بہت نیچے جاکر کہیں یہی مطالبہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے ،کیا ہم اتنے بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کے مستحق ہوسکتے ہیں؟“یہ حقیقت اس پوری تحریک کا مرکزی نقطہ ہے جسے اس خطے کی عوام بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ قوم پرست رہنما محض صوبے کے حصول کا نعرہ دکھاوے کے لئے لگاتے ہیں دراصل ان کا اصل ایجنڈا اس خطے میں لسانی فسادات پیدا کرنا ہے۔ان کی تحریریں اس بات کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں۔1947 ءمیں ہجر ت کرکے آنے والوں کیلئے 70 برس گزرنے کے باوجود مہاجر،پناہی،پناہ گیروغیرہ وغیرہ الفاظ ان کے تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ضیا شاہد صاحب نے اسی مشاورت میں اپنی جانب سے دی گئی ایک تجویز کا ذکر بھی کیا ہے جو کچھ یوں ہے”میں نے سرائیکی مشاوت میں بھی نیک نیتی سے تجویز دی تھی کہ 30 تنظیمیں آپس میں مل کر سرائیکی الائنس بنا لیں اور اس الائنس کو اتنا مضبوط کریں کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ان سے سودے بازی کرنے کی ضرورت محسوس ہو“اس پر صرف اتنا عرض کروں گا کہ تجویز تو بڑی صائب ہے اور پرخلوص بھی مگر کیا کیجئے ان تعصب پرست لسانی رہنماﺅں کا جو آپس میں دست وگریبان رہنے میں ہی اپنی سیاست کی بقاءگردانتے ہیں۔کاش ان کو ضیا شاہد صاحب کی تجویز سمجھ میں آجاتی اور یہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی بجائے اس خطے میں بسنے والے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا گریبان پکڑتے تو شائد آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔
تحریک صوبہ ملتان کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ صوفیاءکرام کے پیغام کو اپنا مشن بنا کر ہر قسم کی نسلی،لسانی اور قوم پرستی سے بالاتر ہوکر محض خطے کے عوام کی بھلائی کیلئے صوبے کے قیام کی جدوجہد کی جائے۔ہمارا مطمع نظر کسی خاص زبان کے بولنے والوں یا کسی خاص نسل یا قوم سے تعلق رکھنے والوں کی بالادستی نہیں بلکہ اس خطے سے غربت،پسماندگی اور محرومیوں کا خاتمہ ہے۔ ضیاشاہد صاحب بھی اسی مشن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔مگر ایک بات ہمیں اپنے دل و دماغ میں راسخ کرلینی چاہے کہ یہ خطہ امن،محبت اور ررواداری کا مسکن ہے ،اس خطے کے بسنے والے باہمی محبت اور احترام کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔یہ لوگ کسی ایسی سازش کا شکار ہوکر اپنے خطے کا امن برباد نہیں کریں گے جو ان کو قوم،نسل یا زبان کے نام پر تقسیم کرنے کا پیغام دے۔اس خطے میں بسنے والے تمام لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے علیحدہ صوبے کا قیام چاہتے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ان پیکران محبت کا جذبہ سرچڑھ کر بولے گا اور ارباب اختیار اس خطے کو علیحدہ صوبہ بنانے پر مجبور ہوجائیںگے۔
(نوٹ:اگرآپ بھی اس بحث میں حصہ لینا
چاہتے ہیں تو ہمارے صفحات حاضر ہیں )
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved