تازہ تر ین

نوازشریف کی سیاسی جانشین مریم نواز!

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
مسلم لیگ نواز کی قیادت بالخصوص سپریم کورٹ سے نااہل نوازشریف نے لودھراں کے ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کے فرزند علی ترین کی لیگی امیدوار پیر اقبال شاہ سے ہار کو بھرپور انجوائے کیا۔ان کی خوشی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ نوازشریف ،شہباز شریف ،حمزہ شہبازاور مریم نوازشریف ساری مصروفیات ترک کرکے لودھر ں پہنچے او رایک بڑے جلسہ میں عوام کا شکریہ اداکیا ۔ لیگی لیڈر نوازشریف اور شہبازشریف عموما جنوبی پنجاب میں سرائیکی زبان میں عوام سے مخاطب نہیں ہوتے ہیں لیکن یہ پہلی بارتھاکہ نوازشریف نے سرائیکی زبان میں اس بڑی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا جواس بات کی دلیل ہے کہ شریف برادران لودھراں کی جیت کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں ۔اسی طرح لیگی لیڈروں اور ہمدردوں نے بھی لودھراں کی کامیابی کو اس بات سے تعبیر کیا کہ عوام کی عدالت میں نوازشریف سرخرو ہورہے ہیں ۔مطلب سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مقابلے میں عوام کے مینڈیٹ کو بڑا قراردے رہے ہیں۔ادھر انصافی بھائیوں کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تیسری شادی کرکے بڑی خوشی کا موقع دیاہے لیکن لودھراں کے ضمنی الیکشن میںہار کا دکھ بھی ان کیساتھ ایسا چل رہاہے کہ وہ اس شادی کو اس طرح پورے جوش وجذبہ سے یادگار نہیں بنارہے ہیں جس طرح اس سے پہلے کی دوشادیوں کو تاریخ ساز بنایاتھا۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ شادی ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن اس بات کے باوجود سمجھداروں کا خیال ہے کہ عمران خان کی شادیوں کا معاملہ اور پھر علیحدگی کا قصہ پاکستان تحریک انصاف کے الیکشن امید واروں کیلئے کوئی اچھی نوید کا سبب نہیں بن رہاہے ۔ دھیان رہے کہ پاکستان میں شادی کو تو لوگ پسند کرتے ہیں لیکن شادیوں اور علیحدگی کے تسلسل کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں ،باقی عمران خان سمجھدار ہیں انہوں نے بھی شادیوں کی ہیٹرک کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کرکیاہوگا اور توقع رکھنی چاہیے کہ نئی نویلی دلہن” پیرنی” کا انجام ریحام اور جمائما سے ذر ا ہٹ کر ہوگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تیسری شادی اور مسلم لیگ نوازکی لودھراں کے ضمنی الیکشن میں ترین کے فرزند علی ترین کو شکست سے دوچار کرنے کی خوشی کے بعد سیاست کے میدان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نوازکو ایک بڑی مشکل کا سامنایوں ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو ان کی سیاسی جماعت کی صدارت کیلئے بھی نااہل قراردیاہے اور ان کی جانب سے 28جولائی کے بعد بطور پارٹی صدر کیے جانیوالے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیاہے۔ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے مسلم لیگ نواز کے سربراہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد اس کے چیئرمین کی جانب سے سینٹ انتخابات کیلئے جاری کی گئی ٹکٹوں کو مسترد کردیاہے ۔ادھر الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ مسلم لیگ نواز کے ارکان کو سینٹ کے جاری کردہ نئے ٹکٹس کو مسترد کرتے ہوئے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے انتخابات کے شیڈول کے مطابق اب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے ٹکٹ جاری نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ ادھر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب سیاسی جماعتوں کی فہرست میں موجود پاکستان مسلم لیگ نواز کے نام کے آگے موجود خانے میں سے پارٹی سربراہ کانام ہٹادیاگیاہے۔یوں مسلم لیگ نواز فی الحال سربراہ کے بغیر ہی سفر پر نکل پڑی ہے۔الیکشن کمیشن کے انکار کے بعد مسلم لیگ نواز بطور جماعت سینٹ الیکشن سے باہر ہوگئی ہے اور اس کے ارکان آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد نوازشریف کا کہناتھا کل کا جو فیصلہ ہے ،جسے پارلیمان کہتے ہیں اس کا اختیار بھی چھین لیاگیاہے اور جو 28جولائی کا فیصلہ تھا جس میں میری وزرات چھین لی گئی تھی ،یہ جو فیصلہ ہے میرے لیے غیر متوقع فیصلہ نہیں ہے ۔ان کا یہ بھی کہناتھا کہ اب ان کا نام ہی بچا ہے اور میرا نام محمد نوازشریف ہے ،اس کو بھی چھینناہے تو چھین لیں۔ہمارے خیال میں نوازشریف نے پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد بھی وہی موقف اختیار کیاہے جوکہ موصوف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد نااہل ہوکر وزیراعظم ہاوس سے نکال دئیے گئے تھے ۔مطلب ٹکراﺅ کی پالیسی انہوں نے ترک نہیں کی ہے ۔نوازشریف ہی نہیں اب تو صورتحال دوسرے درجہ کی لیگی قیادت کیلئے یوں ابتر ہوچکی ہے کہ نوازشریف کے علاوہ مریم نوازشریف بھی اسی راہ پر چلی پڑی ہیں جوکہ ٹکراﺅ کی طرف جاتاہے اور انجام وہی ہوگا جوکہ نوازشریف کی سیاست کا ماضی میں ہوتاآیاہے ۔ نوازشریف وزیراعظم ہاوس سے سپریم کورٹ سے نکالے جانے کے باوجود مسلم لیگ نواز کو اپنی قیادت میں لے کر چل رہے ہیں لیکن شہبازشریف اور نوازشریف کا مسلم لیگ نواز کی صدارت پر اندرون خانہ اختلاف بھی چل رہاہے خاص طورپر اطلاعات تھیں کہ نوازشریف اپنی پارٹی صدارت سے ناہلی کے بعد اپنی بیٹی مریم نوازشریف کو پارٹی قیادت سوپناچاہتے ہیں ۔دلچسپ صورتھال یوں بھی ہے کہ نوازشریف نے عوام میں اپنے ساتھ مریم نوازشریف کو لیجانے کو ترجیح دی ہے ۔ اب وہ فیصلہ کی گھڑی آچکی ہے، جس کا سب کو انتظارتھا مطلب اب نوازشریف نے اپنے بھائی شہبازشریف اور مریم نوازشریف میں سے ایک کا مسلم لیگ نواز کی صدارت کیلئے چناﺅ کرنا ہے ۔ یقینا نوازشریف کیلئے مشکل ترین فیصلہ ہے لیکن ہمارے خیال میں لیگی لیڈرنوازشریف اپنے بھائی شہبازشریف کی بجائے اپنی بیٹی مریم نوازشریف کو پارٹی قیادت کیلئے آگے لارہے ہیں،چاہے ان کو سیاسی میدان میں شہبازشریف کی مخالفت کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved