تازہ تر ین

سقراط صفتوں کی ضرورت!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
1995ءسے 2014ءتک آئرنیٹیو نوبل امن ایوارڈز سے لیکر دنیا بھر کے ایوارڈ بٹورنے والی عاصمہ جہانگیر کوانسانی حقوق، آزادی صحافت، سماجی آزادیوں ، حقوق خواتین اور بہادری کے یہ تمام ایوارڈ کبھی نہ ملتے اگر وہ ایجنٹ نہ ہوتی۔ ایجنٹ ہی تو تھی اسی لئے اسے ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز جیسے ایوارڈز اس کے اپنے ملک پاکستان نے بھی دئیے، اگر وہ ایجنٹ نہ ہوتی تو 2016ءمیں قوام متحدہ کی طرف سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر کام کرنے کیلئے آواز اٹھانے کیلئے خصوصی رپورٹر کیوں نامزد ہوتی، سویڈن کو کیا ضرورت تھی اسے انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے اور صحافت و صحافیوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے کے اعتراف کے طور پر امن ایوارڈ کیلئے چار دیگر عالمی شخصیات کے ساتھ منتخب کیاجاتا اور پھر ان امریکی، سوئس اور کینیڈین یونیورسٹیز کو کیا ضرورت تھی کہ عاصمہ جہانگیر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دیتیں یقینا اس پس پردہ بھی یہی کہانی تھی کہ وہ ایجنٹ تھی ورنہ برطانیہ ہوکہ یورپ امریکہ ہو یا کینیڈا کیوں ان ترقی یافتہ ممالک کے مو¿قر ترین تعلیمی ادارے اور تھنک ٹینک اسے اپنے ہاں لیکچرز دینے کیلئے بلانے پر بے قرار رہتے تھے۔ لندن ہو یا پیرس نیویارک ہو یا جنیوا جہاں کہیں بھی ظلم کے خلاف مظاہرے یا تنقیدی سیمینار ہوتےعاصمہ کو صرف اسی لئے بلایاجاتا کہ وہ ایجنٹ تھی، چائلڈ لیبر کی مخالفت میں، بھٹہ مزدوروں کے حقوق، بنیادی انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور ہر انسان کے مساوی بنیادی حقوق کیلئے تازندگی اونچی آواز میں بات کرنے والے انسانوں کی ایجنٹ لٹل ہیروئن (عاصمہ جہانگیر کا نک نیم)11فروری 2018ءکو 66سال کی عمرمیں موت کی وادی میں ابدی نیند جا سوئی۔
چند سال پہلے عاصمہ جہانگیر لندن کے ایک ہسپتا ل میںغالباً اپینڈیکس کے آپریشن کیلئے داخل تھیں میں اپنے ایک صحافی دوست غلام حسین اعوان کے ساتھ ”پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن یوکے“ کی طرف سے گلدستہ لیکر ان کی عیادت کیلئے پہنچا، وہ بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور شکریہ کیساتھ خوشگوار حیرت سے بولیں، مجھے انتہائی خوشی ہے کہ ایک صحافی تنظیم نے میری خبر گیری کی۔ بعدازاں وہ صحت یاب ہوئیں تو ہمارے اصرار پر وہ ”پی جے اے“ کے پروگرام ” میٹ دی پریس“ میں بھی شریک ہوئیں اور صحافیوں کیساتھ ایک طویل نشست میں ان پر لگائے جانے والے ہر الزام کا جواب بڑی جرا¿ت اور خندہ پیشانی سے دیا۔ یقینی طور پر وہ پاکستان کی متنازع ترین چند شخصیات میں پہلے چند نمبروں میں سے تھیں وطنیت کے سرٹیفکیٹ کے تقسیم کار اور محراب و منبر کے ٹھیکیدار نہیں غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی غدار کہتے تھے وقتاً فوقتاً انہیں احمدیت کے ساتھ بھی جوڑا جاتا تھا حالانکہ وہ ایک دبنگ خاتون تھیں اور انہوں نے ہمیشہ اقرار کیا کہ وہ ایک سیکولر ذہنی رحجان رکھتی ہیں اور مذہبی عقائد کے لڑائی جھگڑوں سے ان کا قطعی تعلق نہیں وہ رنگ و نسل عقیدے کی بنیاد پر نہیں ظلم و زیادتی اورمعاشرتی عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں ، یہ بات بھی درست ہے کہ وہ زندگی بھرملا ملٹری الائنس حتیٰ کہ اپنے عدلیہ کے بعض غلط فیصلوں اور رویوں پر بھی تنقید کرتی رہیں۔ ہم نے صحافت کے طالب علم ہوتے ہوئے ”عاصمہ جیلانی کیس“ بھی پڑھا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے کس جرا¿ت سے ایک کم عمر کالج کی طالبہ ہوتے ہوئے بھی اپنے والد کی گرفتاری پر یحییٰ خان کی آمریت سے ٹکرائی اور پھر پرویزمشرف کے غےرآئینی اقدامات تک عاصمہ کے عزم میں جھکاﺅ نہیں آیا۔ عاصمہ جیلانی کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا وہ دراصل دو الگ الگ مقدمات کے ضمن میں تھا‘ ان میں پہلا مقدمہ ”مس عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب“ جو کہ ملک غلام جیلانی کی بیٹی عاصمہ جیلانی نے اپنے والد کی گرفتاری کیخلاف کیا تھا جبکہ دوسرا مقدمہ ”مس زرینہ گوہر بنام حکومت سندھ“ جسے الطاف گوہر کی بیگم نے اپنے شوہر کی نظربندی کے خلاف کیا تھا‘ سپریم کورٹ نے ان دونوں اپیلوں کو ایک ساتھ سنا اور ایک ہی فیصلہ صادر کیا اس لئے اسے عام طور پر عاصمہ جیلانی کیس ہی کہا جاتا ہے اور اس لئے بھی کہ وہ عاصمہ ہی تھیں جنہوں نے عدلیہ کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا کہ یحییٰ خان کے مارشل لاءکا جواز کیا تھا‘ گو کہ بظاہر یہ مقدمہ ملک غلام جیلانی کی غیرقانونی گرفتاری کیخلاف تھا‘ تاریخ کے صفحات میں یہ بات بھی محفوظ ہے کہ اس مقدمہ میں سپریم کورٹ نے جو تاریخی فیصلہ دیا بلاشبہ اس کے الفاظ بڑے جرا¿ت مندانہ اور قابل تعریف تھے۔ تاہم تاریخ کو یہ بھی پتہ ہے کہ جس وقت یہ فیصلہ لکھا جارہا تھا اس وقت آمر و غاصب قرار پانے والا یحییٰ خان اقتدار سے معزول ہوکر اپنے گھر میں نظربندی گزار رہا تھا!! عاصمہ جیلانی کیس ملکی تاریخ کا وہ واحد مقدمہ تھا جس کے فیصلے میں چیف جسٹس نے قرار دیا کہ فوج کے سپریم کمانڈر کو کسی حالت میں بھی یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ قانونی حکومت کو توڑ دے یا آئین کو منسوخ کردے۔ اگر وہ ایسا کرکے زبردستی حکومت پر قبضہ جمائے گا تو غاصب قرار پائے گا۔
عاصمہ جہانگیر ہی وہ ایجنٹ تھی جو خاتون ہوتے ہوئے بھی فوجی آمریتوں کے خلاف جمہوریت کی جنگ لڑتی رہیں۔ ان کے دامن پہ کرپشن کا کوئی داغ نہیں تھا۔ اس کے باوجود کہ وہ ایک بلند پایہ وکیل اور سپریم کورٹ بار کی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور کئی ایک بین الاقوامی تنظیموں میں بھی ایک کلیدی نام تھیں لیکن آج تک نہ ان پر سوئس اکاﺅنٹ رکھنے اور نہ ہی برطانیہ‘ دبئی‘ امریکہ یا کسی دوسرے ملک میں اربوں کی پراپرٹی بنانے کا الزام لگایا گیا‘ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو انہیں اپنی شہریت دینے سے انکاری تھا۔ عاصمہ کے جرائم کیا ہیں۔ یہ کہ وہ غیرآئینی اقدامات کے خلاف تھیں‘ ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایتی تھیں‘ اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی تھیں‘ عورتوں پر ظلم و زیادتی کی مخالفت کرتی تھیں اور غریب کسانوں‘ ہاریوں اور مجبوروں‘ بے کسوں کے مقدمات بغیر کسی فیس کے لڑتی تھیں‘ لیکن کیا یہ افسوس کی بات نہیں ہے کہ جب حقیقی زندگی میں بعض رجعت پسند ان کا مقابلہ نہ کرسکے تو وطنیت اور مذہبیت کی آڑ لے کر عاصمہ جہانگیر کی زندگی میں تو تنقید کرتے رہے لیکن آج جبکہ وہ اس دنیا میں ہی نہیں ناقدین آج بھی ان کی برائی سے ہاتھ نہیں کھینچتے۔ یعنی ان کے جنازے میں عورتیں کیوں شریک ہوئیں‘ ان کی قبر فارم ہاﺅس پر کیوں بنائی گئی‘ جنازہ کسی مولوی نے نہیں حیدر فاروق مودودی نے کیوں پڑھایا وغیرہ۔ بھلا ہو جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کا جنہوں نے ابھی کچھ روز قبل کہا ہے کہ اگر مجھے کہا جاتا تو عاصمہ جہانگیر کا جنازہ میں بھی پڑھا دیتا۔
کسی بھی قوم کی بدقسمتی ہوتی ہے کہ جو اپنے ملک کے ایسے ہیروز کو کھو کردکھی نہیں ہوتی جو ملک و قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں جو روز روز نہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، ایسے لوگ جو دہشت گردی کے الزامات میں پکڑے گئے ان کے مقدمات بھی عاصمہ اس لیے لڑتی رہیں کہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں!! چنانچہ تھیں وہ ایجنٹ ہی۔ لہٰذا وہ معافی کے قابل کہاں ہیں؟ ان کا یہ جرم کیا کم ہے کہ وہ زندگی بھر کہتی رہیں میں تمام مذاہب کو ایک ساہی سمجھتی ہوں، میں انسانیت کو مقدم سمجھتی ہوں اور میرا مذہب بھی یہی ہے۔ میں سیکولر ہوں، حالانکہ عاصمہ تو اللہ اور اس کی ہدایت کے راستے پر چل رہی تھیں لیکن وقت کے فتاویٰ سازوں کیلئے وہ پھر بھی معتوب ٹھہریں، تاریخ کا یہ سبق ہے کہ معصوم دنیا کی تاریخ میں ظلم کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا ہے اور مظلوم کیلئے آواز اٹھانے اور اس کا سہارا بننے والوں کو باغی کا خطاب ہی دیا جاتا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس قسم کے باغی ہر زمانے میں آتے رہے اور آئندہ بھی آتے رہیں گے کہ انسانی معاشروں میں مساوات قائم رکھنے کیلئے عاصمہ جہانگیر قسم کے سقراط صفتوں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ بہرکیف اچھا ہوا مر گئی، ایجنٹ ہی تو تھی ، انسانیت اور پاکستان کی!!۔
(معروف کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved