تازہ تر ین

کلیبری فونٹ کی حقیقت!

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
کلیبری فانٹ یا فانٹ گیٹ (Font gate) کا قصہ یہ ہے:
مریم اور حسین نواز کے درمیان فروری 2006ءمیں ایک ٹرسٹ ڈیڈ تحریر کی گئی جس کے مطابق آف شور کمپنیوں نیئلسن اور نیسکول جس کے تحت شریف فیملی کے لندن فلیٹس ہیں کا مالک حسین نواز ہوگا اور مریم ان کی ٹرسٹی۔ ٹرسٹی کیوں؟ اس لئے کہ خدانخواستہ حسین نواز کی اگر موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کے ورثاءمیں جائیداد کی تقسیم کرے گی۔ یہ معاہدہ اسی سلسلے میں تحریر کیا گیا تھا۔ اب پانامہ لیکس کی جے آئی ٹی نے جب ان کمپنیوں کی ملکیت کے بارے میں دریافت کیا اور ثبوت مانگا تو انہیں اس معاہدے کی کاپی دے دی گئی (حالانکہ اس کے دینے کی ان پر قانونی کوئی پابندی نہیں تھی) لیکن اس معاہدے کے تحریر کئے جانے میں کمپیوٹر کا جو فانٹ استعمال ہوا تھا اس کا نام ہے کلیبری (Calibri) جے آئی ٹی نے لندن کی ایک فرم سے دریافت کیا کہ یہ فانٹ کب کمرشل ہوا یا عام لوگوں کے لئے ریلیسس کیا گیا تھا؟ اس کا جواب ملا ”فروری 2007ءمیں۔“ اور معاہدہ لکھا گیا تھا جنوری 2006ءمیں۔ یعنی کلیبری فانٹ کے عام پبلک کے لئے ریلیسس کئے جانے سے گیارہ ماہ پہلے۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ یہ کہ معاہدہ جعلی ہے۔ اس لئے کہ یہ 2006ءمیں نہیں‘ فروری 2007ءیا اس کے بعد لکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ کلیبری فانٹ تو آیا ہی 2007ءمیں ہے لیکن حقیقت یوں نہیں۔
کلیبری فانٹ (Calibri Font) حقیقتاً 2007ءمیں نہیں‘ 2004ءمیں ایجاد ہوا تھا۔ جنوری 2007ءمیں اسے کمرشل کیا گیا یا عام لوگوں کے لئے ریلیسس کیا گیا۔ دستیاب یہ پہلے بھی تھا اور جنوری 2007ءتک یعنی اس کے عام پبلک کے لئے ریلیسس کئے جانے کے پہلے ڈیڑھ کروڑ لوگ اسے ڈاﺅن لوڈ کرچکے تھے۔ جی ہاں ڈیڑھ کروڑ۔
اسے پہلی مرتبہ 2004ءمیں ونڈوز وسٹا (Windows Vista) کے بیٹا (Beta) میں لانگ ہارن (Long horn) کے کوڈ نیم کے ساتھ پیش کیا گیا جبکہ بیٹا 2 ورشن او آفس 2007ء(Beta 2 Version of office 2007) کے ساتھ استعمال کے لئے 23 فروری 2006ءکو ریلیسس کیا گیا جبکہ 2005ءمیں‘ جی جہاں 2005ءمیں اسے ٹائپ ڈائریکٹر کلب کی طرف سے ٹائپ سسٹم کیٹیگری میں ٹی ڈی سی 2 (TDC2) ایوارڈ مل چکا تھا۔ لہٰذا اس فانٹ میں 2006ءمیں کوئی تحریر لکھنا بالکل ممکن تھا اور کمپیوٹر بھی شریف فیملی کا نہیں‘ وکیل کا تھا اور یہ ٹیکنیکل لوگ بھی نہیں (2006 ءمیں) انہیں کیا معلوم کہ وکیل کے کمپیوٹر میں کونسا سافٹ ویئر ڈاﺅن لوڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے معاہدہ لکھنے کو کہا اور اس نے اسے ڈرافٹ کرکے کمپیوٹر آپریٹر سے ٹائپ کرالیا۔ لیکن پوچھنے والوں یعنی جے آئی ٹی نے اس بارے میں سوال بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا۔ یعنی اس کا جو جواب آئے وہ اس معاہدے کو جعلی ثابت کرے ، سوال کیا ہے:
”کلیبری فانٹ عام پبلک کیلئے کب ریلیز کیا گیا؟
جواب ملا ”جنوری 2007ءمیں“۔
”لو: فانٹ 2007ءمیں آ رہا ہے اور معاہدہ اس سے گیارہ ماہ پہلے 2006ءکا دکھایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب بعد میں لکھا گیا سو جعلی ہے“۔ یہ سب اس بنا پر ممکن ہوا کہ جو سوال…. سوچ سمجھ کر اور ناپ تول کر تیار کیا گیا جو سوال لندن بھیجا گیا اس کا یہی جواب آنا تھا۔
اور یہ سب معلومات کس سے حاصل کی گئیں؟
Quist Solicters سے جو راجہ ریاض اختر کی فرم ہے یعنی جے آئی ٹی کے سربراہ اپنے واجد ضیاءصاحب کے سگے چچا زاد بھائی کی اور انہیں اس ”خدمت¿¿ کا انچاس ہزار پاﺅنڈ معاوضہ بھی ادا کیا گیا، یعنی پاکستانی تقریباً ستر لاکھ روپے۔ یوں گھر کی رقم گھر ہی میں رہی۔ کسی کافر، غیر مسلم گورے کی جیب میں نہیں گئیں، تاہم اس پر اپنے اعتزاز احسن صاحب کو یہ بیان جاری کرنے کا موقع مل گیا:
”معاہدہ جعلی لگتا ہے۔ اس لیے کہ جس ”رسم الخط“ میں یہ لکھا گیا ہے وہ اس کے تحریر کیے جانے کے ایک سال بعد ایجاد ہوا تھا“۔لیکن اس حوالے سے ایک اور تنازعے کا ذکر ابھی باقی ہے اور وہ تنازعہ یہ ہے۔
مریم حسین نواز معاہدے کا موازنہ ترکیہ کی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی جعلی دستاویزات سے کیا جاتا ہے۔ ان دستاویزات کا قصہ یہ ہے:
رجب طیب اردگان کی حکومت سیاسی مخالفین پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں گرفتار کرنے اور سزا دینے کی شہرت رکھتی ہے۔ جولائی 2016ءکے انجینئرڈانقلاب کی ناکامی کے بعد سے تو خیر اس نے سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور سرکاری ملازمت سے ان کی برخاستگیوں کے فلڈ گیٹ کھول دئیے ہیں لیکن اس سے پہلے بھی یہ جھوٹے الزامات لگا کر اور جھوٹی دستاویزات پیش کرکے سیاسی مخالفین کو پس دیوار زنداں بھیجنے کی کوششیں کرتی رہی ہے۔
2012ءمیں اس نے تین سو افراد کو اس الزام میں گرفتار کیا کہ انہوں نے 2003ءمیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی تھی اور ثبوت؟ ثبوت کے طور پر حکومت نے 2003ءمیں لکھی کئی دستاویزات پیش کیں جو حکومت کے دعوے کے مطابق ان لوگوںنے تحریر کی تھیں اور جو اس سازش کے منصوبے کے حوالے سے تھیں۔ لیکن جب ان دستاویزات کی نقول میڈیا کو فراہم کی گئیں اور کمپیوٹر فرانزک لیب میں ان کا تجزیہ کیاگیا تو پتہ چلا کہ یہ دستاویزات کلیبری فانٹ میں تحریر کی گئی ہیں۔ یعنی اس فانٹ کے ڈیزائن کیے جانے یا ایجاد ہونے سے بھی پہلے 2003ءمیں یوں حکومت کا جھوٹ آشکار ہوگیا۔
مریم حسین نواز معاہدے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ معاملہ اردگان حکومت کی ان جعلی دستاویزات سے مماثلت رکھتاہے ۔ اس لیے کہ اس میں بھی کلیبری فانٹ استعمال ہواہے لیکن اس پر تاریخ اس فانٹ کی ایجاد سے پہلے کی ہے۔ یعنی فروری 2006ءکی جبکہ کلیبری فانٹ جنوری 2007ءمیں آیا۔
لیکن مریم حسین نواز معاہدے اور اردگان حکومت کی ان جعلی دستاویزات کا موازنہ درست نہیں۔ اس لیے کہ ان دستاویزات کے بارے میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ یہ 2003ءمیں لکھی گئی تھیں اور ان میں کلیبری فانٹ استعمال ہوا تھا جبکہ اس برس یعنی 2003ءتک یہ فانٹ ابھی ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں فروری 2006ءمیں یعنی جب مریم اور حسین نواز کے درمیان معاہدہ تحریر کیاگیا تب اسے ایجاد ہوئے دو برس بیت چکے تھے اور اگرچہ تب تک اسے عام لوگوںکیلئے ریلیسس نہیں کیا گیا تھا لیکن یہ انٹرنیٹ پہ دستیاب تھا جہاں سے آپ اسے حاصل کرسکتے تھے اور جیسا کہ قبل ازیں بیان کیاگیا،جنوری 2007ءیعنی اس کے عام پبلک کے لیے ریلیس کیے جانے کے وقت تک ڈیڑھ کروڑ لوگ اسے ڈاﺅن لوڈ کر چکے تھے۔ تو کیا جس وکیل نے یہ معاہدہ ڈرافٹ کیا اس کے کمپیوٹر آپریٹر نے یہ فانٹ لوڈ نہیں کیا ہو گا، یوں اس وکیل کے کمپیوٹر میں اس فانٹ کا ہونا ناممکنات میں سے نہیں۔ اگرچہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ خود اس وکیل کو بھی اس بات کا علم نہ ہو۔ اس لیے کہ یہ کام کمپیوٹر سے متعلقہ عملے سے تعلق رکھتا ہے اور بعض اوقات ایک دفتر کا مالک یا انچارج یا اخبار کا ایڈیٹر اپنے ہی دفتر کے کمپیوٹر سے متعلق کئی ٹیکنیکل باتوں سے بے خبر ہوتا ہے۔ جو کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں۔ اس لیے کہ وہ ”قانونی“ انتظامی یا صحافتی امور کا ماہر ہوتا ہے، کمپیوٹر کا نہیں۔
مختصراً جب مریم حسین نواز معاہدہ تحریر کیا گیا تب یہ فانٹ ایجاد بھی ہو چکا تھا اور انٹر نیٹ پر دستیاب بھی تھا۔ لہٰذا فروری 2006ءمیں اس فانٹ میں کسی تحریر کا لکھا جانا نا ممکنات میں سے نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں اردگان حکومت کی پیش کردہ جعلی دستاویزات کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ 2003ءمیں تحریر کی گئی یقین اور ان پر اسی برس 2003ءکی تاریخ درج تھی یعنی اس فانٹ کی ایجاد سے بھی پہلے۔ جو ظاہر ہے جھوٹ ہے اور مریم نواز کیا ایسی ہی سادہ اور بے خبر تھی کہ اردگان حکومت کے اتنے بڑے اسکینڈل جو دنیا بھر میں مشہور ہوا اس میں کلیبری فانٹ کے استعال کے قصے کے بعد بھی اگر وہ 2017ءمیں کوئی جعلی دستاویز تیار کر رہی تھی جیسا کہ اپنے اعتزاز احسن صاحب کا دعویٰ ہے تو اس بات کا خیال نہ رکھتی کہ اس میں کوئی ایسا فانٹ استعمال نہ ہو جو فروری 2006ءسے پہلے ایجاد ہی نہیں ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہے یہ معاہدہ 2006ءہی میں لکھا گیا جب اردگان حکومت کا اس حوالے سے ابھی کوئی اسکینڈل نہیں بنا تھااور انھیں کسی قسم کا جعلی معاہدہ تیار کرنے اور اسے جے آئی ٹی کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی، وہ کہہ سکتی تھیں کہ میں ان فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی صرف ٹرسٹی ہوں، بینی فشل اونریا مالک نہیں۔ اور اس بات کی تصدیق حسین نواز بھی کر رہا ہے جو ان کا مالک ہے۔ تو اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ ” نہیں مالک آپ ہیں“ تو ثبوت پیش کریں۔ اور ثبوت کون پیش کر سکتا تھا، کوئی نہیں۔ لہٰذا اگر اس معاملے میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تو وہ یہ معاہدہ پیش ہی نہ کرتیں۔ کوئی اس الزام کو ثابت نہیں کر سکتا تھا۔ معاہدے کا پیش کیا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاملے میںکوئی گڑ بڑ نہیں تھی۔
شریف فیملی کے سیاسی مخالفین کے علاوہ ایک اور شخصیت بھی ایسی ہے جس کی کوشش اور خواہش ہے کہ مریم حسین معاہدے کے بارے میں یہ بات زیادہ سے زیادہ مشہور ہو کہ یہ جعلی ہے اور اس کا اسکینڈل بنے۔ یہ شخصیت ہے اس فانٹ کے ڈچ ٹایپ فیس ڈیزاسٹر لیوکس ڈی گروٹ (Lucas de Groot) کی اور اُسے اس بات کی خواہش کیوں ہے؟
اس لئے کہ یہ بات جس قدر پھیلے گی اور مشہور ہو گی کہ یہ معاہدے جعلی ہے اور اس کے حوالے سے اسکینڈل بنے گا اور بار بار تذکرہ ہو گا اس کے نتیجے میں اس فانٹ اور خود اس کے ڈیزاسٹر کو بھی شہرت اور اس سے وابستہ فوائد حاصل ہوں گے اور اس نے یہ بات چھپائی بھی نہیں اور اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اسے اس تمام صورت حال پر خوشی ہے۔ اسی لئے اس نے یہ بیان دیا ہے کہ یہ معاہدہ جعلی لگتا ہے۔ حالانکہ فانٹ کے ڈیزاسٹر کی حیثیت سے اسے یہ بات خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ جب یہ معاہدہ لکھا گیا تھا یعنی فروری 2006ءمیں تب یہ فائٹ ایجاد ہو چکا تھا اور اگرچہ اسے عام لوگوں کے لئے ریلیسس نہیں کیا گیا تھا تا ہم کوئی بھی شخص اسے انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتا تھا اور اس سے یہ بات بھی پوشیدہ نہیں ہو گی کہ اس کے عام پبلک کے لئے ریلیسس کئے جانے کے وقت یعنی فوری 2007ءتک ڈیڑھ کروڑ لوگ اے ڈاﺅن لوڈ کر چکے تھے اور جس طرح اس فانٹ کے ڈیزاسٹر کی کوشش ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں یہ بات زیادہ سے زیادہ پھیلے اور کسی طور یہ ثابت ہو کہ یہ جعلی ہے اسی طرح انٹرنیشنل کنسورشیم او انویسٹی گیٹو جرنلٹس (آئی سی آئی جے) کی بھی بھرپور کوشش ہے کہ جن لوگوں کے نام پانامہ پیپرز میں آئے ہیں ان میں سے زیادہ سے زیادہ کو زیادہ سے زیادہ سزا ملے۔ اس لئے کہ اس کے نتیجے میں پانامہ لیکس اور آئی سی آئی جے کو شہرت مل رہی ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی، شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved