تازہ تر ین

کیبلری فونٹ ، سوال چادروں کا تھا چوری کا نہیں

عبدلودود قریشی
شریف خاندان کو قانونی ماہرین پھر الجھا رہے ہیں، جس طرح جے آئی ٹی بننے پر انہیں مٹھائیاں کھلوادی گئیں۔
حضرت عمر ؓ سے سوال دو چادروں کا گیا تھا جسکا جواب انہوں نے دیاتھا کہ میں نے ایک چادر بیٹے سے لی ہے اور بیٹے نے موقع پر موجود اس کی تصدیق فرمائی ، خلیفہ دوئم نے سائل سے یہ دریافت نہیں کیا تھا کہ دوسری چادر کس کی چوری ہوئی ہے ۔
ساری دنیا میں جب وائٹ کالر کرائم کی بنیاد نہیں پڑی تھی سوال کیا جاتا تھا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ ملزم سے جو سامان پکڑا گیا ہے وہ چوری کہاں سے ہوا ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ طے پایا کہ جس سے سامان برآمد ہوا ہے اس نے ثبوت دینا ہے کہ اس کے پاس سامان اسکی جائز دولت سے حاصل کردہ ہے اور اس حوالے سے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور آمد سے زائد اخراجات کرنے اور زندگی پر تعش گذارنے پر پوچھ گچھ ہوتی مقدمہ بنتا اور سزا ہوتی ہے ۔
آج مریم نواز نے سوشل میڈیا کے نام سے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ پوچھو کہ اثاثہ جات کتنے ہیں ، یہ بتاو¿ کہ چوری کہاں سے ہوئے ، یہی بات چند روز قبل پانچ ہزار اور ایک ہزار کا نوٹ دکھا کر میاں نوازشریف نے کی تھی ، پاکستان کی احتسابی عدالتوں سے آمد ن سے زائد اثاثے بنانے پر سزائیں ہوچکی ہیں، موجودہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے والد بھی اسی الزام میں جیل تھے کہ رحلت فرماگئے۔
جہاں تک تعلق ہے کیبلری فونٹ کا کہ وہ 2004میں تیار ہوا اور 2007میں وہ عوام کے استعمال کے کیلئے جاری کیاگیا جبکہ نواز فیملی کی جانب سے پیش کی جانیوالی دستاویزات اس فونٹ میں تحریرکی گئی ہیں یہ فونٹ ماہرین کے زیر استعمال تھا ، اس کا واضح مطلب ہے کہ جب کوئی فونٹ ایجاد کیا جاتا ہے تو صرف ماہر کو دیا جاتا ہے کہ وہ اس میں خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کریں اور پھر مختلف ماہرین اور اندازمیں اسے جانچ کر ہر ایک کے استعمال کیلئے پیش کیا جاتا ہے ، پاکستان بھارت اور دیگر ممالک میں اسطرح آزمائی گئی فونٹ لوگ استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ میاں فیملی کی ڈیڈ برطانیہ کی تحریر کردہ ہے ، برطانیہ میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی معاہدے کروانے والی فرم ایسا فونٹ استعمال کرے جو باضابطہ طور پر کمپنی نے جاری نہیں کیا اور محض ماہرین کو جانچ کیلئے دیا ہے ، کیونکہ اگر ایک ایسا فونٹ جو معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور کوئی استعمال کرے تو اس میں پائی جانیوالی غلطیوں سے دستاویز ضائع یا قانونی طور پر خراب ہو جائیں تو ذمہ دار کون ہوگا اور اگر جانچ پڑتال کے بعد جاری فونٹ کی وجہ سے کوئی غلطی ہوجائے تو کمپنی سے سارا نقصان مع ہرجانے وصول کیا جاتا ہے کیونکہ باضابطہ طور پر جاری فونٹ کی سی ڈی بھاری قیمت پر فروخت کرکے اسکے اخراجات اور بھاری منافع کمایا جاتا ہے ۔
شریف فیملی کو انکی قانونی ٹیم حقائق سے لاعلم رکھ کر انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کررہی ہے کہ انہیں عدالت کی سازش کے تحت سزا دیگی جبکہ شریف فیملی خود جانتی ہے کہ انکے جو اثاثے ہیں انکا انکے پاس کوئی واضح ثبوت نہیں ما سوائے اس کے کہ میاں شریف دوحہ قطر گئے نہیں مگر ایک نوعمر قطری کو کروڑوں ڈالر دے گئے اور انکی وفات کے بعد قطری جو مالی معاملات میں بھائیوں کا حق غصب کرنے کی شہرت رکھتا ہے نے شریف خاندان کو وہ دولت اور وہ بھی میاں نوازشریف کی فیملی کو دی جبکہ اس میں شہبازشریف کو بھی وراثتی حصہ بنتا ہوا کو نہیں دی۔
عمران خان اور اپوزیشن بضد تھی کہ نوازشریف فیملی کے اثاثے جو وکی لیکس میں آئے ہیں پر پارلیمانی کمیٹی بناکر تحقیقات کروائی جائیں جس پر بڑا شور ہوا اور خود میاں نوازشریف نے عدلیہ کو اس کی تحقیقات کیلئے خط لکھ دیا جبکہ پرائیویٹ درخواست پر عدالت نے اعتراضات لگادیئے تھے ، پھر اس پر جب جے آئی ٹی بنی تو مسلم لیگی قیادت نے مٹھائیاں تقسیم کیں ، اسکی ویڈیو بنوائی سوشل میڈیا پر اسکی بھرمار کردی ، میں نے اسی دن کالم لکھا تھا کہ اب معاملہ سنجیدہ ہوگیاہے ، اب جنہیں ہیرے کا خطاب دیاجارہاہے پر مٹھائیاں کیوں کھائیں اور کھلائی گئی تھیں، اور وہ اب مورد الزام کیوں ہیں ، اس لئے کہ انہوں نے حق میں فیصلہ نہیں دیا اگر حق میں فیصلہ کرتے تو درست اور اگر خلاف کرتے تو جج ، جے آئی ٹی اور مخالف وکیل پراسیکیوٹر سب غلط اور قابل ملامت ہے کوئی انصاف اور حق کی بات نہیں۔
اس بات پر خود شریف فیملی نے ذہنی طور پر ساری قوم کو تیار کرلیا کہ شریف فیملی کو احتسابی عدالت سے سزا ہوگی ، اسی تاثر کی بنیاد پر مسلم لیگ ن میں پارلیمنٹ سے متعلق افراد دوری اختیار کررہے ہیں ، انکی پارٹی میں پرانے اور نئے شامل ہونےوالے افراد پہلے انکی پارٹی میں تھے پھر وہ مسلم لیگ ق یعنی جنرل مشرف کی حمایت میں بنائی گئی پارٹی میں شامل ہوگئے اور مشرف کے جاتے ہی وہ ان سے آملے ، جبکہ کچھ فصلی بٹیرے عمران خان کی کشتی میں سوار ہوگئے ، اسکی پارٹی میں ہچکولے انہی افراد کی بدولت ہیں ۔
ساری دنیا میں یہ روایت اور اصول ہے کہ عدالت میں زیر سماعت مقدمے پر مدعی اور مدعی علیہ کوئی بات اور تبصرہ نہیں کرتے البتہ وکلاءکو قانونی بحث کرنے کا عدالت میں حق ہوتا ہے ، اخبارات اور جلسہ عام میں نہیں ، مگر اب تو روز روز کی کارروائی کا جلسوں میں تجزیہ اورتنقید اس حد تک کی جاتی ہے کہ اسے گالیوں سے منسوب کرنا حق بجانب ہوگا، اس کا نقصان خود ن لیگ کو ہے کہ کمزور دل اور ہمیشہ اقتدار کے خواہشمند ان سے دور بھاگ رہے ہیں، جسکا احساس کچھ وقت بعد انکو ہوگا، کیونکہ جو لوگ بند گلی میں تھے اور انکی کوئی حیثیت نہ مالی ہے نہ سیاسی میاں خاندان کے گرد جمع ہوگئے ہیں، انکا خیال ہے کہ اچھے حالات میں ہم نوازے جائیں گے جبکہ انہیں یہ احساس نہیں ، اگر اچھے دن آرہے ہوتے تو آپکو میاں خاندان کے قریب کھڑے ہونے کی جگہ کہاں ملتی۔
سوال یہ ہے کہ جب عدالتی فیصلہ جس کے جزیات جج ساتھ ساتھ تحریر کررہے ہونگے جو ججوں کا طریقہ ہے آئیگا تو میاں نوازشریف ، انکی بیٹی اور داماد عدالت میں ہونگے ، اپنی سزا خود سننے کیلئے ، انہیں وزیرداخلہ احسن اقبال گرفتار کرنے کی اجازت دینگے یا انکے ساتھ پروٹوکول انہیں بھگا کر پنجاب ہاو¿س لے آئیگا اور پنجاب ہاو¿س کی سب جیل قرار دیدیا جائیگا ، اس صورت میں سارے دیگر قیدی بھی فائیو سٹار ہوٹلوں اور سندھ ہاو¿س میں رہنے کو اپنا حق تصور نہیں کرینگے ، یا پھر میاں نوازشریف اور انکی بیٹی اور داماد برطانیہ چلے جائیں گے اس کے نتائج کوئی ہونگے عوامی ردِ عمل کا کوئی امکان نہیں جس پر اس خاندان کو کتنی مایوسی ہوگی۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved