تازہ تر ین

ہندوستان میں ظلم کی نئی لہر…….. 2

ڈاکٹر محمد محب الحق/خصوصی مضمون

درحقیقت بھارتیہ جنتاپارٹی، آر ایس ایس وغیرہ جب یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’مکھ دھارے‘ میں شامل ہونا چاہیے تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ملک کی تہذیب و ثقافت سے جوڑ کر دیکھیں اور طارق، خالد، علی، حسین، محمد، فاطمہ، عائشہ، زینب وغیرہ جیسے نام رکھ کر بیرونی کرداروں سے خود کی شناخت نہ کرائیں۔ عیسائی اپنے آپ کو ڈیوڈ، جوزف، میری وغیرہ کی جگہ رام، سیتا، ہنومان، کرشنا وغیرہ سے جوڑیں، اور اس کا اظہار مسلمانوں اور عیسائیوں کے ناموں اور ان کے اداروں سے ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ مساجد اور چرچوں کی عمارتیں بھی ہندستانی تہذیب کی عکاسی کریں۔ لہٰذا،مینار و گنبد اور چرچوں کی تعمیر کا طریقہ ہندستان کی تہذیب کے خلاف ہے۔Bunch of Thoughts (گل دستہ افکار) (۱۹۶۶ئ) میں ’ہندوتوا‘پر مبنی بھارت میں فسطائیت کی نظریاتی اساس کی اصل جھلک ملتی ہے۔ چوں کہ گولوالکر نے ۱۹۴۰ئ سے لے کر ۱۹۷۳ئ تک آر ایس ایس کی قیادت کی، اس لیے گولوالکر کے افکار و خیالات آر ایس ایس کے کام کاج کے طریقوں پر آج تک حاوی ہیں۔ آج جو کچھ بھی سنگھ پریوار کرتا یا کہتا ہے، اس کی جڑیں گولوالکر کے افکار میں ہی ملتی ہیں۔ اس کتاب کے تعارف میں ایم اے وینکٹ رقم طراز ہے کہ: جس طرح مسلمانوں سے پہلے کے حملہ ?وروں کو قومی معاشرت میں ضم کرنے میں ہندستانی سماج نے کامیابی حاصل کی تھی، مگر مسلمانوں کے معاملے میں وہ ناکام رہا ہے۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے جسے قومی آزادی کے رہنما?ں نے یکسرنظرانداز کیا۔ انھوں نے یہ سوچ کر بہت بڑی غلطی کی کہ اکثریت کی قیمت پر مسلمانوں کو مراعات دے کر انھیں جیتا جاسکتا ہے۔رعایتیں حاصل کرنے والوں کے اندر جب تک نظریاتی تبدیلی نہیں آتی، اس وقت تک مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا“۔گولوالکر کے مطابق ”مسلمانوں کا انضمام ممکن بھی ہے اور ضروری بھی، لیکن اس کے لیے صحیح فلسفے، صحیح نفسیات اور صحیح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ لیکن ہندستانی لیڈر ایسی کوئی بھی تکنیک وضع کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنی زبردست غلطیوں پر مسلسل گامزن رہے، حتیٰ کہ مادرِ وطن کو تقسیم کرنا پڑا۔ افسوس وہ آج بھی انھی غلطیوں پر قائم ہیں اور اس طرح وہ ایک اور پاکستان کو بڑھاوا دے رہے ہیں“۔قابلِ غور ہے کہ گولوالکر نے جہاں حملہ آوروں کا ذکر کیا ہے، وہاں مسلمانوں کے علاوہ شکاس (Shakas)، ستھیانس (Sythians) اور ہ±نز (Huns ) کا ذکر کیا ہے لیکن دانستہ طور پر آریائی حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےجو مختلف تحقیقات سے ثابت ہوچکی ہے کہ آریائی نسل کے لوگوں کا تعلق ہندستان سے نہیں بلکہ یورپ اور وسطی ایشیا سے ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آریائی نسل کے لوگوں کی آمد سے قبل ہندستان میں ایک شان دار تہذیب موجود تھی، جسے ’وادیِ سندھ کی تہذیب‘ کہتے ہیں اور بہت سارے مورخین اور محققین کا تسلیم کرنا ہے کہ یہ تہذیب آریائی حملے میں تباہ ہوئی۔ اس لیے آریائی نسل کے لوگ بھی اس ملک میں اسی طرح باہر سے آئے، جیسے شکاس، ستھیانس اور ہ±نز اور مسلمان آئے تھے۔ تمام غیر جانب دار دانش ور اور محقق اس بات کو نہایت ہی شدومد کے ساتھ ا±ٹھاتے ہیں۔مزید یہ کہ ’ہندوتوا‘ کے علَم برداروں کے نزدیک ہندستان کی تہذیب دراصل ’ویدک تہذیب‘ یا ’آریائی تہذیب‘ ہی ہے اور تمام لوگ جو ہندستان کی تہذیب میں اپنی حصہ داری یا نمایندگی چاہتے ہیں انھیں اسی ’ویدک تہذیب‘ سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ لہٰذا، تمام مذاہب کے ماننے والوں، مثلاً بدھ مت، جین مت، سکھ مت، مسلمان، عیسائی وغیرہ خود کو اس تہذیب، یعنی ’ہندوتوا‘ میں ضم کرنا ہوگا۔ اپنی علیحدہ شناخت کو ختم کر کے ’ہندوتوا‘ کے رنگ میں رنگنا ہوگا۔Bunch of Thoughtsمیں تین اندرونی خطرات‘ کی نشان دہی کی گئی ہے، اور سب سے پہلا خطرہ مسلمانوں کو بتایا گیا ہے، دوسرا عیسائیوں کو اور تیسرا کمیونسٹوں کو۔ مسلمانوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ ”ہمارے لیے یہ سوچنا خودکشی کے مترادف ہوگا کہ پاکستان بننے کے بعد (ہندوستانی) مسلمان راتوں رات وطن پرست ہوگئے ہیں بلکہ مسلم خطرناکی، پاکستان کے قیام کے بعد سو گنا بڑھ گئی ہے، کیوں کہ پاکستان مستقبل میں ہندستان کے خلاف مسلم جارحیت کا مرکز ہوگا“۔اسی کتاب میں مشرقی پاکستان، یعنی بنگلہ دیش میں ہندو?ں کی نقل مکانی کا ذکر ہے اور بنگال، بہار، اترپردیش اور دہلی میں ہونے والے ’ہندو مسلم فسادات‘ میں آر ایس ایس کے ممبران کی گرفتاریوں کا تذکرہ ہے۔ گولوالکر کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس وقت کے ملک کے اہم لیڈر ولبھ بھائی پٹیل (م:دسمبر۱۹۵۰ئ)سے ملاقات کی اور انھیں ہندستان میں مسلمانوں سے درپیش خطرات کا ذکر کیا، جس پر سردار پٹیل نے کہا کہ: ”تمھاری بات میں سچائی ہے اور آر ایس ایس کے تمام کارکنان کو چھوڑ دیا گیا“۔اس کتاب میں ’ٹائم بم‘ کے نام سے ایک ضمنی عنوان ہے، جس میں مغربی اترپردیش میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دہلی سے لے کررام پور اور لکھنو تک دھماکا خیزحالات پیدا ہورہے ہیں، اور اس موہوم امکانی صورتِ حال کا ۱۹۴۶ئ-۱۹۴۷ئ کے حالات سے موازنہ کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بے معنی اور خلافِ واقعہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ”متذکرہ علاقوں میں مسلمان ہتھیار جمع کر رہے ہیں اور اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ جب پاکستان ، ہندستان پر حملے کرےگا تو وہ اندرونی طور پر ملک کے خلاف بغاوت کردیں گے اور مسلح جدوجہد شروع کردیں گے“۔ (ختم شد)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved