تازہ تر ین

چرمی کے آنسو اور درجہ چہارم کی نوکریاں!

تحسین بخاری….درد نگر سے
چرمی کاتعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ چرمی کی عمر 10سال ہے اور یہ میری بیٹی ارم کی ہم عمر ہے۔چرمی کی ماں اس کی پیدائش کے دوران ہی اسے دنیا میں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ چرمی کی پیدائش پر ڈاکٹروں نے گپتا رام کو بتایا کہ اس کی بیوی موری کا بڑا آپریشن ہو گا مگر آپریشن کے لیے بیس ہزار روپے درکار تھے اب بھلا پنڈ کے چوہدری کے پاس چھ ہزار ماہانہ پر کام کرنے والے گپتا رام کے پاس یہ رقم کہاں تھی اگر اس کے پاس بیس ہزار ہوتے تو وہ پچھلے دس سال سے کھڑے ادھورے کچے کوٹھے کی چھت نہ مکمل کروا لیتا۔ضروری اس نے تین دن قبل ہونے والی بارش کا پانی اب تک ٹپکانے والے چھت کے نیچے گزارا کرنا تھا وہ بھی سخت سردیوں میں۔اس لیے اس کی غربت نے اسے یہ ڈلیوری گھر میں ہی کرانے پر مجبور کر دیا او ر پھر وہی ہوا جو ہونا تھا ،چرمی کو دنیا میں چھوڑ کر موری خود دنیا سے چلی گئی۔چرمی سے بڑا اس کا بھائی ہمتہ رام ہے۔ چرمی کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو اس کے والد گپتا رام کو فالج کا اٹیک ہوا اور بستر پر جا پڑا۔ ہمتہ اور چرمی جن کی کھیلنے کی عمر تھی اور جنھوں نے اپنے بابا سے اپنے لاڈ منوانے تھے انھیں اس بابا کی دیکھ بھال کرنی پڑ گئی ،کچھ عرصہ تک تو رشتہ داروں نے ساتھ دیا مگر آہستہ آہستہ سب نے منہ موڑ لیا ،چند روز قبل میں خیریت دریافت کرنے چرمی کے گھر گیا تو یہ شام کا وقت تھا سورج سرخ چادر لپیٹے اندھیرے کو خدا حافظ کہہ رہا تھا اور رات کالا لباس تبدیل کرنے کی تیاری میںتھی۔ میں نے دیکھا کہ چرمی اپنے بھائی ہمتہ کے ہاتھوں کو کبھی دباتی ہے کبھی چومتی ہے اور ساتھ رو بھی رہی ہے میں نے جا کر چرمی کے سر پر ہاتھ رکھا تو یہ میرے ساتھ لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی میں نے تسلی دی اور پوچھا کہ ہمتہ بھیا کو کیا ہواتو کہنے لگے چاچو پہلے تو کچھ رشتہ دار تعاون کر دیا کرتے تھے تو ہم ابو کی دوائی بھی لے لیتے تھے اور کچھ آٹا دال بھی خرید لیتے تھے مگر پچھلے کچھ دنوں سے سب نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے توکبھی ہمارے پاس کچھ کھانے کو ہوتا ہے او ر کبھی بھوکے سو جاتے ہیں اس لیے کل میں نے بھیا سے کہا کہ میں شہر جا کر بھیک مانگوں گی آپ گھر میں ابو کا خیال رکھنا مگر بھیا نے ضد کی کہ تم گھر میں رہنا میں کہیں مزدوری کرنے جا?ں گا۔ اب شام کو بھیا گھر آیا ہے تو اسکے ہاتھوں میں پڑے چھالے مجھ سے دیکھے نہیں جا رہے اس لیے چاچو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں کل سے بھیک مانگوں گی اور بھیا گھر میں ابو کا خیال رکھیں گے ،چرمی سسکیاں لے لے کرحالات بتا رہی تھی اور سن سن کر میرا بھی دامن تر ہوتا جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش میں جا کرملک کو ترقیوں کی راہ پر گامزن کرنے کے دعویداروں سے پوچھ سکوں کہ آپ کی ترقی کے ثمرات ابھی تک چرمی تک کیوں نہیں پہنچ سکے۔
میٹرو بس اور اورنج ٹرین پر اربوں روپے برباد کرکے سینہ فخر سے تان کر چلنے والے بے حس حکمرانو آ? میں تمھیں چرمی کے گھر لے چلوں تا کہ تم اپنی آنکھوں سے ایک معصوم تتلی کی بے بسی کو دیکھ سکو،اربوں روپے کا یہ بجٹ آپ ذاتی اکا?نٹ میں اضافے کا سبب تو بن سکتا ہے مگر یہ چرمی کی بھوک نہیں مٹا سکتا ،آپ جسے ترقی کہتے ہیں وہ ترقی ہے ہی نہیں اگر ہو سکے تو اس ملک کی چرمی جیسی ننھی کلیوں کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ کریں۔یہ اورنج ٹرین منصوبے یہ میٹرو بسیں آپ کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کا سبب تو ضرو ر بن سکتی ہیں مگر یہ غربت کے خاتمے کا کوئی علاج نہیں۔ میرے وطن عزیز کے باد شاہ سلامت آپ بھلے اس ملک کی سڑکیں چاندی کی بنا دیں اوراس ملک کی تمام با?نڈری وال سونے کی کر دیں اس سے کسی غریب کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر کر سکتے ہیں تو کوئی بھوک کا علاج ہی ڈھونڈ لیں۔ باد شا ہ سلامت آپ کی یہ حاکمیت کس کام کی کہ میرے وطن عزیز میں چرمی جیسے کئی بچے رات کو بھوکے سوئیں آپ اپنے نظام حکومت پرذرہ غورکریں تو شاید آپ جان سکیں کہ آپ کے دور حکومت میں کسی کے کتے دودھ بچا کر سوتے ہیں اور کسی کے بچے بھوک سے ساری رات روتے رہتے ہیں۔میں گزشتہ روز رحیم یار خان کے ضلعی ایجوکیشن آفس کے قریب سے گزر رہا تھا وہاں پر رش دیکھا تو وجہ جاننے کی کوشش کی اندر جا کر دفتر کے کلرک سے پوچھا تو پتہ چلا کہ درجہ چہارم کی کچھ سیٹیں آئی ہوئیں اس لیے انٹر ویو کیلئے لوگ آئے ہوئے ہیں مزید معلومات سے پتہ چلا کہ 2662 سیٹوں کیلے ایک لاکھ پچھتر ہزار،175000 کے قریب درخواستیں وصول کی گئی ہیں جن میں 26000درخواستیں صرف گریجویٹ نوجوانوں نے جمع کروائیں ہیں۔ یہ تو بے روزگاری کا عالم ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ ان سیٹوں کیلئے اہل وہی ہوگا جس کو ایم پی اے یا ایم این اے کی خوشنودی حاصل ہو گی ،مطلب درجہ چہارم کی نوکری حاصل کرنے کیلئے بھی کسی غریب کو ایم پی اے ،ایم این اے کے تلوے چاٹنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔جو لسٹ ایم پی اے یا ایم این اے بھجوائے گا وہی آدمی نوکری حاصل کر سکے گا۔
جس کے پاس ایم پی اے یا ایم این اے کی سفار ش نہیں ہے وہ جائے بھاڑ میں وہ چاہے گریجو ایٹ ہے یا ماسٹر ڈگری اگر اس کا سفارشی ایم پی اے نہیں ہے تو پھر وہ اس درجہ چہارم کی نوکری کابھی حقدار نہیں ہے۔ بھلے وہ کتنے سپنے سجا کر انٹرویو دینے جاتے۔بھلے ماں باپ کی دعائیں لے کر گھر سے نکلے۔پھرمیں نے ان غریبوں کو ان وڈیروں کے در پر دھکے کھاتے بھی دیکھا اور وڈیروں کی جھڑکیاں سہتے بھی دیکھا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غریب عوام کو وڈیروں کے تابع رکھنے کی گھنا?نی سازش ہے تا کہ یہ ایک نوکری کے عوض ساری زندگی ان کے غلام رہ سکیں تو پھر خود دار معاشرہ کیسے پروان چڑھ پائے گا جہاں حکمران طبقے کی اپنی سوچ ہی یہ ہو کہ لوگوں کو غلام بنا کررکھا جائے۔ان کے اندر خود داری کو زندہ درگو ر کر دیا جائے اور پھر غلام قومیں غلام ہی ہوا کرتی ہیں غلام قوموں والا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایسا معاشرہ سر اٹھا کر جی سکتا ہے۔حکمران طبقے کو یہ نہیں معلوم کہ جس ملک میں غلامی تخلیق کرنے ولی فیکٹریاں لگا کر غلام پیدا کیے جائیں ان ملکوں کو کسی کے زیر عتاب آتے دیر نہیں لگتی جب کوئی ملک زیر عتاب آتا ہے تو پھر وہ چاہے بہادر شاہ ظفر ہو ،صدام حسین ہو یا کوئی بھی ہو سب سے پہلے نیزے پہ سر باد شاہ سلامت کا ہوتا ہے۔جنگیں صرف فوجیں نہیں لڑا کرتیں بلکہ جنگیں لڑنے کیلئے فوجوں کے کاندھوں پہ قومی حمیعت کا ہتھیا ر سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ ہتھیا ر وہاں ہوتا ہے جہاں خود دار قوم ہوتی ہے جہاں غلامی کی سوچ پروان چڑھے وہاں یہ ہتھیار کار گر ثابت نہیں ہوتا اور پھر یہ ہوتا ہے کہ(،دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں)اس لیے میں آج کے اپنے اس کالم کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے یہی گزارش کروں گا کہ خدارا ووٹوں کی خاطر ایم پی ایز اور ایم این ایز سے پڑھے لکھے لوگوں کی عزت نفس مجروح نہ کروائیں اور لوگوں کو ان کا غلام نہ بنائیں۔ آپ ان سیٹوں کی میرٹ پر بھرتی کروائیں اور غربت کے خاتمے کیلئے میٹرو بسوں اور اورنج ٹرین منصوبوں کو ایک طرف رکھیں اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے عملی اقدامت اٹھائیں ورنہ اگر وطن عزیز کی ہر چرمی اور درجہ چہارم کی تلاش میںرہنے والے اسی طرح بھوک افلاس کی چادر اوڑھ کر بے بسی کے آنسو بہا کر قدرت کی زنجیر عدل ہلاتی رہی تو پھر بہادر شاہ ظفر ،صدام حسین اور دیگر بے شمار بادشاہوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔
(سیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved