تازہ تر ین

حمید اصغر شاہین صاحب !جھوٹا کون؟

محمدانور قریشی….بحث ونظر
25فروری ”خبریں“ میں حمید اصغر شاہین کا کالم بعنوان ”انور قریشی کے جواب میں“ شائع ہوا۔ گزشتہ کالم میں ان کی بزرگی کا احترام کرتے ہوئے میں نے انتہائی دھیمہ لہجہ اور مودبانہ انداز تحریر کیا لیکن محترمہ ڈاکٹر نخبہ لنگاہ اور ساجدہ لنگاہ کے حوالے سے چند کڑوے کسیلے حوالہ جات کی تاب نہ لاتے ہوئے حمید اصغر صاحب نے انتہائی جارحانہ اور متشدد انداز اپناتے ہوئے ”سازشی“ ”جھوٹ پر جھوٹ“ جیسے گھٹیا الفاظ میرے بارے استعمال کئے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ جانے کب زندگی کی شام ہو جائے۔ دوسری طرف کوثر و تسنیم میں دھلی مشک و عنبر سے آراستہ شہد سے زیادہ میٹھی زبان کے دعویدار نے جو اخلاق سے گرے اشتعال انگیز الفاظ استعمال فرمائے یقینا پانچ ہزار سالہ تہذیب و ثقافت نے شرمندگی سے منہ چھپا لیا ہو گا۔
وہی رٹے رٹائے بنگلہ دیشی‘ سندھو دیشی ”بودے“ دلائل‘ وہی گھسی پٹی پرانی دلیلیں‘ وہی غیرمتعلقہ اوٹ پٹانگ باتیں‘ بے دلیل گفتگو‘ نفرت‘ بغض و عناد‘ لسانیت پرستی کے زہر میں بجھے وہی ”افکار عالیہ“۔ جواب جاہلاں خاموشی را باشد سمجھ کر نظرانداز کر دیتا لیکن حمید اصغر نے ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے ”نخبہ لنگاہ“ کی تمام باتوں کو ”جھوٹ“ قرار دیا۔
حمید اصغر صاحب تو پھر آج اس سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہوجائے یادش بخیر محترمہ ڈاکٹر نخبہ لنگاہ بقلم خود اپنے ایک کالم میں تمام واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ
”آخر میں ایک دفعہ میں پھر “CLEAR” کرتی چلوں جو میرے کلپ یو ٹیوب نیتاجی سبھاش یونیورسٹی (کلکتہ بھارت) میں پارٹیشن کے موضوع پر ہونے والی 2012ئ کی ایک کانفرنس کا ہے۔“
”میری یو ٹیوب کی کلپ میں بات واضح ہے کہ 1971ئ کے بعد سرائیکی ادبی کانفرنس میں سرائیکی قوم پرستوں کیلئے فیصلہ کن موڑ کا درجہ رکھتی تھی۔“
”سرائیکی تحریک اور نام نہاد دانشور از محترمہ ڈاکٹر نخبہ لنگاہ 14اکتوبر 2016ئ روزنامہ خبریں ملتان)
محترم شاہین صاحب اب بتایئے جھوٹا کون اور سچا کون ہے؟ میں نے آج تک کوئی بات بغیردلیل اور ثبوت کے نہیں کی۔ آپ اس ”اعترافی جھوٹ“ پر جی بھر کر ”سر دھنیے“ ہم اس حقیقت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔
(1)ڈاکٹر نخبہ لنگاہ 2012ئ میں نیتا سبھاش یونیورسٹی کلکتہ بھارت تشریف لے گئیں۔ (2)ڈاکٹر نخبہ لنگاہ نے نیتا سبھاش یونیورسٹی کلکتہ بھارت میں ”سرائیکی ابا?ٹ سپریشن“ یعنی (سرائیکیوں کی علیحدگی کی تحریک) کے عنوان سے لیکچر دیا۔ (3)نخبہ لنگاہ نے اپنے لیکچر میں فرمایا کہ ”وہ بنگلہ دیش کی آزادی سے بہت ”انسپائر“ (متاثر) ہیں“۔ (4) نخبہ لنگاہ نے فرمایا کہ 71ئ کے بعد (بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد) سرائیکی تحریک نے فیصلہ کن موڑ کا درجہ اختیار کیا۔“
محترمہ شاہین صاحب ڈاکٹر نخبہ لنگاہ بقید حیات ہیں‘ اگر وہ ان تمام باتوں کو جھوٹ قرار دے دیں‘ خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی طرف سے دی گئی ہر ”سزا“ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ اور اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر آپ گیارہ سو گیارہ مرتبہ (1111) لعنت اللہ علی الکذبین کی ایک تسبیح پڑھ کر دم ضرور فرمائیں۔ نخبہ لنگاہ نے نیتا سبھاش یونیورسٹی کے لیکچر میں مظلومیت محرومیت کے کیا کیا رونے روئے‘ کیا وعدے وعید ہوئے‘ کیا عہدوپیمان ہوئے‘ 30دسمبر 2017ئ خبریں میں ضیاشاہد صاحب کی زبانی بہت کچھ پڑھنے کو ہے۔
دخترسرائیکستان ساجدہ لنگاہ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ ”چند این جی او کے سر پر چلنے والی ایک تحریک تمام سرائیکیوں کو بدنام کیوں کرتے ہو۔ جو بھی تمہارے خلاف بات کرے تم دلیل سے جواب دینے کی بجائے اپنی این جی اوز کی عورتوں کو مارکیٹ میں پراپیگنڈا کیلئے چھوڑ دیتے ہو اور چند گالم گلوچ والے جاہلوں کو پیسہ دے کر سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرواتے ہو۔ اس طریقے سے صوبہ مل جائے گا؟ تم چند جاہل گماشتے سرائیکی قوم کا تشخص ہی خراب کر رہے ہو۔“
”یہ کیسے ممکن ہے قوم کی ایک بیٹی آنکھوں کے سامنے ملک توڑنے کی سازش کو پنپتا دیکھے۔ یہ کیسے ممکن ہے سرائیکی تحریک کے نام پر غیرملکی فنڈنگ پر چلنے والی آرگنائزیشنز پاکستان مخالف سرگرمیاں اس تحریک کے نام پر کرتی رہےں۔“
(ساجدہ لنگاہ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ 4اکتوبر 2016ئ روزنامہ خبریں ملتان آصفہ بلوچ)
الطاف حسین سے اگر ہم متفق ہوتے تو ہمارے ہاتھ میں قلم کی بجائے کلاشنکوف ہوتی۔ ”صوبہ ملتان“ کی بجائے ہم ”مہاجر صوبہ“ کی بات کرتے۔ اگر ہم ایم کیو ایم کے ہم خیال ہوتے تو ”صوبہ ملتان“ کی بجائے ”جناح پور“ کے علمبردار ہوتے۔ ویسے شاہین صاحب یہ خیال تمہیں بڑی دیر سے آیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا دامن ہر ایسے اختلاف سے پاک ہے۔ ضیائ الحق‘ پرویزمشرف یا کسی اور شخص بارے نازیبا الفاظ کا استعمال ذہنی پستی اور جہالت کی دلیل ہے۔ بتاتا چلوں کہ آپ کے مہاگرو ”تاج لنگاہ“ دبئی میں پرویزمشرف سے چوری چھپے ملاقات کیلئے کتنا بے تاب اور بے چین ہوتا تھا۔ چشم دید گواہ منصور بلوچ سے تفصیلات ”شیئر“ کی جا سکتی ہیں۔
1965ئ کی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کیلئے بھارت نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں شیخ مجیب اور صوبہ سندھ میں ”جی ایم سید“ کو اپنا آلہ کار بنا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور پاکستان کے حصے بخرے کرنے کیلئے سازشیں کیں۔ سندھ میں زبان اور ثقافت کے نام پر لسانی فسادات کرائے گئے۔ غیر سندھیوں (مہاجرین) کا دن دہاڑے قتل عام کیا گیا۔ تہذیب و ثقافت کے نام پر ”بدترین لسانی فسادات“ برپا کئے گئے۔ مہاجرین کی جائیداد‘ املاک سب کچھ لوٹ لی گئیں۔ مہاجرین کے پورے پورے گا?ں نذرآتش کئے گئے۔ مہاجرین پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے گئے جن کے ذکر سے آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زبان‘ نسل کے نام پر مہاجرین کے خون سے ”سکھر بیراج“ رنگین کیا گیا اور ایک وقت چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ دریائے سندھ میں پانی کی بجائے مہاجرین کا خون بہتا تھا۔
نواب محمد احمد قصوری کے قاتل 302کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان سے پھانسی کی سزا پانے والا قاتل مشرقی پاکستان قاتل بھٹو اور ظالم بدبخت شقی القلب وزیراعلیٰ ممتاز بھٹو نے جئے سندھ کی شراکت اقتدار کی طاقت کے بل بوتے پر زبان کے نام پر مہاجرین پر وہ ظلم و ستم ڈھائے کہ ہلاکو‘ چنگیز خان کی روحیں بھی شرما گئیں۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے شاہ لطیف یونیورسٹی میں مہاجر طلبہ کو ایسے چن چن کر قتل کیا کہ مہاجر طلبہ آج تک ڈر‘ خوف سے یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں لیتے۔ پاکستان بنانے‘ قربانیاں دینے‘ اس کی تعمیروترقی میں کردار ادا کرنے والوں کو ”بحیرہ عرب“ کے دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ اسی خونی ڈرامے کا نشر مکرر پنجاب میں قوم پرست‘ انتہاپسند لسانیت اور زبان و ثقافت کے نام پر کرنا چاہتے ہیں۔
کبھی کبھار چند لائنیں لکھنے والے اس ذرہ ناچیز سے دم دبا کر پتلی گلی سے نکلنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ”ازھر منیر“ جیسے بڑے کالم نگار کو بحث میں ناکامی کا طعنہ دے۔سات کروڑ ہونے کا دعویٰ سات کروڑ سے زائد مالیت سے ”سرائیکی ڈیپارٹمنٹ“ کا قیام اور طلبہ کی تعداد صرف ”7“ سات ہزار سالہ قدیم تہذیب و ثقافت پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس پر مجھے نہیں شاہین صاحب آپ کو شرم آنی چاہئے۔
بھارت شیخ مجیب کو آلہ کار بنا کر مشرقی پاکستان میں تو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو چکا ہے جبکہ سندھ میں قاتل مشرقی پاکستان بھٹو نے وزارت عظمیٰ‘ شقی القلب بدبخت ممتاز بھٹو نے وزارت اعلیٰ اور فسطائیت کا سرغنہ جی ایم سید کی تکون نے طاقت کے بل بوتے پر سندھ میں شہری دیہاتی سندھی مہاجر کی تفریق نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب بھارت کو سندھ کے حصے بخرے کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
سرائیکستان کی ابھی تو ایک اینٹ بھی نہیں لگی جو نان سرائیکیوں کے ساتھ آپ کے حسن سلوک کی جھلک نمایاں ہونے لگی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رہے یہ پنجاب ہے سندھ نہیں۔ ہمارے آگے ”جناب“ اور پیچھے ”چناب“ ہم تیسری ہجرت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
وفا کرو گے وفا کریں گے جفا کرو گے جفا کریں گے
ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے
(کالم نگار کا تعلق صوبہ تحریک ملتان سے ہے)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved