تازہ تر ین

وہ دن مجھے کل کی طرح یاد ہے

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
ایک روز صبح جب درختوں کے پتے متاع حیات کی طرح راہ گزاروں پر نچھاور ہو رہے تھے۔ صبح دم گھر کے دروازے پر ایک درویش صورت کو پا کر حیرت ہوئی۔ وہ غالباً نماز فجر کے بعد ہی گھر سے نکل آئے تھے اور ہم اپنی کاہلی کے باعث سوئے پڑے تھے۔ بہت صبح گھر کی گھنٹی کا بجنا کئی قسم کے وسوسے جنم دیتا ہے۔ گیٹ تک پہنچتے پہنچتے میں نے کئی بار سوچا کہ یقیناکوئی حادثہ ہو چکا ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے راولپنڈی منتقل ہوئے دو برس گزرے تھے۔ ان دو برسوں میں ترنول سے فیض آباد تک مکان تلاش کیا لیکن کہیں ڈھب کا کہیں اپنی پسند کا اور کہیں سکت کا معاملہ درپیش ہوتا۔ صدر کے نواحی علاقے افشاں کالونی میں مکان پسند تو آ گیا لیکن چاروں طرف کہیں کھیت کہیں بھینسوں کے باڑے اور کہیں جان کو کاٹتا ویرانہ۔ اس مکان میں آئے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ محلے کے لوگ چڑیلوں اور جنات سے ڈرانے لگے۔ صبح صبح کسی کا بھی آنا خطرے کی گھنٹی تھی۔ آنکھیں ملتا، گیٹ تک پہنچا تو خضر صورت بزرگ کو کھڑے پایا۔
” جی فرمائیے !“ میں نے اکتاہٹ سے کہا۔
” میرا نام قاضی محمد سرور ہے “ وہ بولے۔
” تو ؟“ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
” میں سامنے والے محلے میںرہتا ہوں ، مسجد مائی جان ….“
یہاں تک کہہ کروہ رک گئے۔ وہ اندازہ کر چکے تھے کہ میں ان کو پہلے سے نہیں جانتا۔
” میں مسجد مائی جان کا امام ہوں۔“
مجھے کچھ کچھ یاد آنے لگا۔ کسی نے ان کا تذکرہ کیا تھا۔
میں نے انہیں اندر آنے کی دعوت دی اور وہ بے تکلفی سے مہمان خانے میں آ کر بیٹھ گئے۔ یہ برسوں پہلے کی بات ہے لیکن اس پہلی ملاقات کی حلاوت اب تک محسوس ہوتی ہے۔ وہ تعارف کے چند لمحے تھے جو مجھے یاد رہے۔ ان کی چند باتیں تھیںجو میری زندگی کے ساتھ ساتھ رہیں۔ بنیادی طور پر مولانا محمد سرور ایک داعی الی ا? اور راہ خدا میں سراپا جہد انسان تھے۔ وہ انسانوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے اور انہیں آگ کے گڑھے سے بچانے والے۔اس ملاقات کے دوران چائے آ گئی چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
” دودھ کہاں سے لیتے ہیں ؟“
” کیوں کوئی مسئلہ ہے کیا ؟“ میںنے پوچھا تو کہنے لگے۔
” مسئلہ تو نہیں بس اس علاقے میں بے شمار بھینسوں کے باڑے ہیں پھر بھی دودھ بہت خراب ملتا ہے۔ گوالوں کو خدا کا خوف نہیں ، گندہ پانی ملا کر لوگوں کو زہر دیتے ہیں۔“ یہاں میری کوئی واقفیت بھی نہیں۔ دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ دودھ خالص ملے۔ میں نے کہا۔
وہ محض مسکرائے اور سلام دعا کے بعد چلے گئے۔ اسی زمانے میں مشہور انقلابی شاعر سلیم ناز بریلوی? بھی ہجرت کر کے راولپنڈی آئے تھے۔ چند روز قبل وہ میرے ہمسائے میں آن بسے تھے ، وہ ان کے گھر کا ایڈریس لے کر چلے گئے۔ اگلی صبح جب پھر گہری نیند میں تھا دروازے پر بیل بجی میں ہڑ بڑا کر اٹھا۔ ابھی سورج نکلنے میں کچھ وقت تھا۔ باہر گیٹ پر مولانا سرور کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی تھی۔ سردی سے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بالٹی مجھے تھماتے ہوئے بولے ” میں آپ کے لیے خالص دودھ لے کر آیا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں کل کے بعد آپ کو ایسا ہی دودھ گھر پر مل جایا کرے گا۔ “
شرمندگی کے مارے میرے منہ سے نہ معلوم کیا الفاظ ادا ہوئے ہوں گے۔ میں انہیں بازو سے پکڑ کر اندر لے آیا۔ وہ دن ہماری دوستی کا پہلا دن تھا۔
سلیم ناز بریلوی کے انقلابی ترانوں کے وہ عاشق تھے، چنانچہ وہ اکثر آتے ہی ان ترانوں کے کیسٹ اور مجھ سے پندرہ روزہ ” جہاد کشمیر “ اور بچوں کا جریدہ ” مجاہد “ لے جاتے۔ ماضی کے جھروکوں سے ابھرتی مٹتی یادوں کے اس پار ان کا نورانی چہرے پر ہمیشہ نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ اسلام سے ان کی وابستگی اتنی لازوال اور بے مثل تھی کہ ان کے پائے کے لوگ اب اس معاشرے میںخال خال ملتے ہیں۔ ایک ” پوری “ مسجد کے خطیب و امام ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی فتویٰ نہیں دیا ، کبھی کسی پرپھبتی نہیں کسی ، کبھی کسی کو اسلام سے ” خارج “ نہیں کیا اور اس علاقے کے لوگ گواہ ہیں کہ کبھی انہوں نے فرقہ پرستی کی لعنت کو فروغ نہیں دیا۔وہ اسلامی لٹریچر لے کر مختلف جگہوں پر سٹال لگاتے۔ جہاں موقع ملتا ، اسلام کے عالمگیر نظام کی بات کرتے، جہاں بیٹھتے اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہد تیز تر کرنے کا تذکرہ ہوتا۔ ایک جید عالم دین کیا ہوتا ہے ؟ کبھی ان سے مل کر اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ ان سے دوستی کے نئے نئے دن تھے اور ہماری جوانی بھی جذبات میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ہمارے ساتھ والے محلے کے ایک امام مسجد نے فجر کی نماز میں بلند آواز کے ساتھ آمین کہنے پر ایک بزرگ ( بعد میں معلوم ہوا وہ سعودی عرب سے آئے تھے ) کو بری طرح سب کے سامنے ڈانٹ دیا۔ ان کے خیال میں یہ مسجد صرف ان کے مسلک کے لیے مختص تھی۔ کسی بھی دوسرے مسلک والے ان کی مسجد میں بلند آواز سے ” آمین “ کہنے کا حق نہیں تھا۔ ہم نے امام صاحب کے اس رویے پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ محلے کے کچھ معززین کے ساتھ مل کر مولوی صاحب کا گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگلی صبح مولانا سرور ہمارے گھر تشریف لائے تو ان سے گزشتہ واقعے کا ذکر کیا۔ تفصیل سننے کے بعد بہت دیر تک مسکراتے رہے۔ میں نے اپنے ” عزائم “ کا ذکر کیا تو پہلے حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر زیر لب دیر تک کچھ پڑھتے رہے۔
” آپ ایک عالم دین کے خلاف اس طرح لوگوں میں نفرت پھیلا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟“ ان کے اس سوال پر تلخی نمایاں تھی۔
” اس عالم دین نے سب لوگوں کے سامنے ایک نمازی کی عزت نفس مجروح کی “ ا? کے رسول صلی ا? علیہ و سلم نے تو کبھی ایسا نہیں کیا “ میں نے وضاحت کی۔
وہ دیر تک مسکراتے رہے پھر بولے۔
” آپ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ناں ، سب کے ساتھ مل کر ایک عالم دین ، ایک انسان جس سے غلطی ہو گئی ہے ، ان کو خوار کر رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی سنت رسول نہیں۔ آپ تو ایسا نہیں کرتے تھے۔“
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گھڑوں پانی میرے اوپر کسی نے انڈیل دیا ہو۔ دیر تک حواس بے قابو رہے۔
” تو پھر آپ کیا کہتے ہیں کیا کرنا چاہیے ؟ “ کافی دیر بعد میرے منہ سے یہ سوا ل نکلا۔
” کچھ بھی نہیں …. آپ میرے ساتھ چلیں ہم دونوں ان عالم دین سے ملتے ہیں۔ “
” یہ ٹھیک ہے۔“ میںنے کہا ،اور ہم دونوں ساتھ والے محلے کی مسجد جا پہنچے۔ مسجد کے تہہ خانے میں وہ عالم دین آلتی پالتی مارے بچوں کو قرآن یادکروا رہے تھے۔ بچوں کی ٹانگیں انہوں نے رسی کے ساتھ باندھی ہوئی تھیں اور کچھ کو مرغا بنایا ہواتھا۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ اٹھے۔ بچوں کو انہوں نے اشارہ کیا اورپورے تہہ خانے میں سناٹا طاری ہوگیا۔ وہ مولانا سرور صاحب سے اس قدر تعظیم اور احترام سے ملے کہ ہمیں اپنے اندر کا غصہ ہوا ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے اپنی مسند کھینچ کر مولانا سرور کی طرف بڑھائی اور خود سامنے فرش پر بیٹھ گئے۔
خیر خیریت کے بعد امام صاحب نے ایک نظر مجھے دیکھا اور بولے ” آپ کا غصہ ختم ہوا کہ نہیں۔“
” نہیں “ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
مولانا سرور نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے چپ کرادیا۔ انہوں نے کمال حکمت سے گفتگوکا موضوع بدل دیا۔ تفاسیر ، احادیث، سند ، روایت و درایت ، منطق ، فلسفہ جیسے موضوع زیر بحث آ گئے اور میں ایک بدھو کی طرح دو مولویوں کے درمیان چپ سادھے بیٹھا رہا۔دوران گفتگو چار آئمہ کا ذکر بھی آگیا۔ اہل سنت کے نزدیک چاروں امام (امام شافعی ?، احمد بن حنبل ?، امام ابو حنیفہ ? اور امام مالک ?) برحق ہیں۔ یہاں تک جب بحث پہنچی تو مولانا سرور نے کمال حکمت سے کہا۔
” جب ہم سب چاروں آئمہ کو حق برحق مانتے ہیں تو کوئی سینے پر ہاتھ باندھے یا ناف پر کوئی ”آمین “ زور سے کہے یا آہستہ سے ، جب امام شافعی کے نزدیک سینے پر ہاتھ باندھنا اور بلند آواز سے آمین کہنا درست ہے تو ہم اس کو اختلاف کی بنیاد نہیں بنا سکتے۔ اگر بنائیں گے تو خدا نخواستہ امام شافعی ? کے علم تقویٰ اور تحقیق پر انگشت زنی کریںگے۔‘ ‘
انہوں نے اتنا کہا کہ امام مسجد کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ یہ تو دو عشرے ادھر کی بات ہے، تب شاید مروت بھی ہوتی تھی اور وضح داری بھی۔ لوگ بڑوں کا آج کی نسبت زیادہ احترام کرتے تھے۔ قوت برداشت سے عاری ہمارا معاشہ آج صدیوں پیچھے چلا گیا ہے۔ جہاں پانی پینے پلانے اور گھوڑا آگے بڑھانے پر قتل ہوجایا کرتے تھے۔آج پھر وہ مناظر ہر کہیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ زندگی اپنے ڈگر پر چلتی رہتی ہے۔ انسان آتے اور چلے جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ دلوں میں بس جاتے ہیںاور جو دلوں میں بس جاتے ہیں ان کا جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ امر ہو جاتے ہیں۔ مولانا سرور بھی امر ہو گئے۔ انہیں اس دنیا سے گئے ہوئے کئی ماہ ہو چکے۔ اس دوران وہ بار ہا یاد آئے، بار ہا ان کی یادوں نے مشام جان معطر کیے۔ کتنی بار ان سے وابستہ یادوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا سوچا اور کئی بار یہ سوچ کر قلم رکھ دیا کہ میرے قلم میں ان کے بارے میں لکھنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ایسی چنار صفت ہستی،ایساشجر سایہ دار ،مٹی کا نک پہاڑی کا چراغ،اب تو اس قبیلے کے لوگ دن میں چراغ لے ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔
کبھی زمانے کے ہنگام سے فرصت کے لمحے میسر ہوں تو عہد رفتہ کو یاد کیجیے۔کیسے کیسے لوگ ہم اپنے ماضی میںچھوڑ آئے،کیسی کیسی روایات ہم سے کھو گئیں۔اب تو جیسے رواداری،تواضح،ہمدردی اور ایک دوسرے کی بات سننے کا زمانہ ہی نہیں رہا۔نہ وہ وقت رہا نہ وہ لوگ۔۔!!±
تیری محفل بھی گئی‘ چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں‘ صبح کے نالے بھی گئے
آئے عشاق. گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
(امور کشمیر کے ماہر ، سینئر کالم نگار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved