تازہ تر ین

ٹرمپ کی تجارتی جنگ خطرناک کیوں؟

ورگس کے جارج….مہمان کالم
امریکا کی سالانہ عالمی تجارت کا حجم 50 کھرب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور امریکا کو 500 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے سال میں یہ خسارہ بڑھ کر556ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ خسارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام تجارتی پارٹنرز امریکا کیساتھ ناروا سلوک کر رہے ہیں؛ انہیں یقین ہے کہ امریکا میں مینوفیکچرنگ کے گرنے سے ملک کمزور اور ورکنگ کلاس کی مفلسی میں اضافہ ہوا۔2016ئ کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کا وعدہ کیا جن سے مینوفیکچرنگ کے شعبے کی بحالی ممکن ہو سکے ، تجارتی خسارے میں بھی خاطرخواہ کمی آئے۔ ان کی پالیسی کا مرکزی نکتہ ”امریکا فرسٹ“ ہے۔ رواں ہفتے اسٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد ڈیوٹی کا اعلان اس پالیسی کی جانب ایک قدم ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو کوفی الوقت استثنیٰ حاصل ہے، نئے ٹیرف دو ہفتے تک مو¿ثر ہو جائینگے۔
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ” اسٹیل اور ایلومینیم کی صنعتوں کا مضبوط ہونا ہماری قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے؛ اسٹیل بہرحال اسٹیل ہے۔ اگر آپ کے پاس اسٹیل نہیں ہے، تو آپ کا ملک کچھ بھی نہیں ہے“۔ یہ تصور کہ ملک کی عظمت کا راز مختلف مصنوعات کی تیاری میں پنہاں ہے، ٹرمپ کی صدارتی مہم کا مرکزی نکتہ تھا۔ ٹیرف کے نفاذ کیلئے انہوں نے نیشنل سکیورٹی کی کبھی نہ استعمال ہونیوالی شق کا حوالہ دیا جوکہ بیشتر عالمی تجارتی معاہدوں کے خلاف ہے۔ مینوفیکچرنگ شعبہ فعال بنانے اور تجارتی خسارہ کم کرنے پر زوردے کر صدر ٹرمپ حالیہ کچھ عشروں کی امریکی معیشت میں رونما ہونیوالی تبدیلیاں نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں امریکا سروسز برآمد کرنیوالا ایک بڑا ملک بن کر ابھرا۔ سامان تجارت میں بھلے امریکی معیشت کو خسارے کا سامنا ہو، سروسز میں امریکی معیشت فاضل ہے۔ امریکا سے سروسز کی برآمد میں بتدریج اضافہ ہوا، بدلے میں مصنوعات کی درآمد میں اضافہ کیا، جس سے اشیائ کی تجارت کا توازن خراب ہوا۔
ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف دیگر ممالک جوابی اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس سے عالمی تجارتی جنگ بڑھنے کا امکان ہے۔
تاہم ٹرمپ کا خیال ہے کہ اس سے امریکا کو فائدہ ہو گا۔ ٹیرف کے اعلان سے چند روز قبل اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا ، ” جب ایک ملک کو ہر غیر ملک کیساتھ تجارتی لین دین میں اربوں کے خسارے کا سامنا ہو، تب تجارتی جنگیں اچھی اور انہیں جیتنا آسان ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہمیں کسی خاص ملک کیساتھ تجارت میں 100ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہواور وہ ملک بہتر ہو رہا ہو، تب اس سے تجارت مزید نہ کریں، فائدہ ہمیں ہو گا“۔ یورپی کمیشن جواب میں امریکی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کر سکتا ہے، جن میں نمایاں امریکی زرعی منصوعات ہوں گی، جیسے کہ فلوریڈا کا کینو کا جوس، مونگ پھلی کا مکھن وغیرہ۔ لیوی جین کی مصنوعات پر بھی ٹیرف لگنے کا خدشہ ہے، امریکی ایئر کرافٹس اور میڈیکل آلات پر عالمی منڈی میں سخت دبا? پڑ سکتا ہے۔وہ امریکی صنعتیں جوکہ اسٹیل اور ایلومینیم بطور خام مال استعمال کرتی ہیں، وہ بھی متاثر ہونگی۔بعض ماہرین معاشیات نے اس خطرے کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ دنیا کو معاشی بحران کی طرف لے جانے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف لگانے کے امریکی معیشت پر مطلوبہ اثرات مرتب ہوں گے کہ نہیں؛ البتہ ان دونوں شعبوں کےبراہ راست ورکنگ کلاس سے تعلق کے باعث اس فیصلے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔چین جس کیساتھ تجارت میں امریکا کو سب سے زیادہ خسارے کا سامنا ہے، ٹرمپ کے فیصلے سے خاص متاثر نہیں ہوگا۔کشیدہ ترین تجارتی کشمکش انٹلیکچول پراپرٹی پر ہونیوالی ہے، ٹرمپ یہ محاذ جلد کھولنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔سات مارچ کے اپنے ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا ،” امریکا انٹلیکچول پراپرٹی کی چوری کے خلاف جلد کام تیز کرنے کا خواہاں ہے۔ کئی سال سے جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی“۔
امریکا کے تجارتی نمائندے رابرٹ ای لائٹزر نے چین کیساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں انٹلیکچول پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے گزشتہ اگست سے خصوصی انکوائری شروع کی تھی؛ جس کی رپورٹ ابھی جاری ہونا ہے۔ امریکی کمپنیاں ایک عرصہ سے شکایت کر رہی ہیں کہ چینی حکومت ٹیکنالوجی کی شیئرنگ کے لیے ان پر سخت دبا? ڈالتی ہے۔ چین میں کاروبار کی خواہاں امریکی کمپنیوں کو مبینہ طور پر جائنٹ ونچر کیلئے مجبور کیا جاتا ہے، چینی پارٹنر کو ٹیکنالوجی منتقل کرنے کیلئے دبا? ڈالنا وہاں کی معمولات میں شامل ہے۔حالیہ ایک رپورٹ میں بعض امریکیوں نے انٹلیکچول پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کے باعث امریکی معیشت کو پہنچنے والے سالانہ نقصان کا تخمینہ 600ارب ڈالر لگایا ہے۔ مبصرین کی نظر میں ہائی ٹیک سیکٹر میں سخت اقدامات چین کیلئے اشتعال انگیز ہونگے۔
ٹرمپ نے عالمی تجارت پرا پنے بعض ریمارکس میں بھارت کا بھی ذکر کیا ہے۔ بھارت میں انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس کے معیار پر ہمیشہ سے امریکا نے تنقید کی ہے؛ اس سلسلے میں رواں سال کی رپورٹ کے بعد امریکا کا موقف سخت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگ میں بھارت کا بھی بہت کچھ دا? پر لگ سکتا ہے۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved