تازہ تر ین

سینٹ انتخاب کا متوقع نتیجہ

عبدالودودقریشی
سینٹ میں مسلم لیگ ن کی شکست اور اپوزیشن اتحاد کی فتح پر انہی صفحات پر دس مارچ کو لکھا تھا”سینٹ میں زرداری کی کامیابی کا امکان“جو ہوبہو درست نکلا سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی شکست دراصل میاں نواز شریف اور ان کے ساتھ ایک عقابی گروپ کو شکست ہوئی ہے جنہوں نے باقی سیاسی جماعتوں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ کھول دیا ہے اور وہ اپنے رویے سے اداروں کو ڈرانا چاہتے ہیں کہ اگر میرا ساتھ دو گے تو درست اگر نہیں دو گے تو میں شور کروں گا اور اگر تم نیوٹرل رہے تب بھی میں شور و غوغامچا?ں گا۔مسلم لیگ ن کی سینٹ میں دوٹوک اور واضح شکست نے مسلم لیگ ن کی پسپائی کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے مستقبل میں بھی یہی نقشہ ہوگا کہ کسی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور اتحادی مل کر نیا وزیر اعظم بنائیں گے جس میں مسلم لیگ ن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا مسلم لیگ ن کی قیادت اپنے رویے سے بہت جلد جیلوں کا رخ کرے گی اور یوں ان کی سیاست کا باب رفتہ رفتہ بند ہوتا چلا جائے گا۔موجودہ انتخاب میں پیپلز پارٹی کے 20پی ٹی آئی کے12،فاٹا کے 8،بلوچستان اسمبلی کے 8اور فاٹا کے 5 کل ملا کر 53ووٹ بنتے ہیں جو سینٹ میں کامیابی کے لئے درکار تھے مگر چار ووٹ مزید کہاں سے آئے کا حساب لگانا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ چاروں ووٹ جے یو آئی نے دیئے جبکہ فاٹا کے 8ارکان میں جن دو ارکان کے بارے میں مسلم لیگ ن کا دعویٰ تھا وہ بھی انہیں نہیں ملے جہاں تک تعلق ہے ایم کیو ایم کا تو اس نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کر دیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں ان کے رویے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیں گے لہٰذا سلیم مانڈوی والا کو ایم کیو ایم کے 5ووٹ نہیں پڑے لہٰذا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کس نے کس کو ووٹ دیا۔مسلم لیگ ن کی قیادت اپنے آپ کو عقابوں کے گھیرے میں اس مقام تک لے گئی ہے کہ اس کی واپسی ناممکن لگتی ہے۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان جس طرح مسلم لیگ ن کو بچانا چاہتے تھے وہ نہیں بچ سکی سردار مہتاب خان عباسی جنھوں نے گورنر کے پی کے کے عہدے سے اس انداز میں اور جمع تفریق کے بعد استعفیٰ دیا کہ وہ مستقبل میں چیئرمین سینٹ ہوں گے اور سب کو ساتھ ملا کر چلیں گے مگر انہی عقابی لوگوں نے میاں نواز شریف کو مہتاب عباسی کو سینٹ کا ٹکٹ دینے سے روک دیا۔سینٹ میں شکست کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت میں تلخی بڑھے گی اور اس عجلت اور غصے میں ان سے کئی غلطیاں سرزد ہوں گی جس سے وہ مزید قومی سیاست سے دور ہوتے چلے جائیں گے مسلم لیگ ن کے قائدین کو اصل میں تاریخ اور علم سے کوئی لگا? نہیں ہے اور نہ ہی ان کے گرد اس طرح کے لوگ ہیں کہ وہ انہیں تاریخ سے آگاہ کریں بلکہ جو لوگ ہیں وہ انہیں اورنگزیب عالمگیر کی طرح شاعری اور لطیفے سناتے ہیں یا پھر بہادری کے نام پر جنگ و جدل کی بات کرتے ہیں۔میاں نواز شریف نے چند دن پہلے اعلان کیا کہ میں بغاوت کا اعلان کرتا ہوں جبکہ جامعہ نعیمیہ میں انہیں اسی مدرسے کے ایک سینئر طالب علم نے جوتا مار دیا جس کی دیگر سیاستدانوں سمیت مسلم لیگ ن کی قیادت آخری حد تک مذمت کر رہی ہے۔مگر انھیں یہ معلوم نہیں کہ بغاوت میں تو جان بھی دینی پڑتی ہے سر بھی کٹوانا پڑتا ہے ،جائیدادیں بھی ضبط کروانا پڑتی ہیں یہ جوتا باری تو باغی کے لئے کوئی معنی اور حیثیت ہی نہیں رکھتا۔سوشل میڈیا پر طاہر القادری کے ایک جلسے میں سٹیج پر سپیکر پھٹنے کی آواز سے طاہر القادری کا پیچھے ہٹنا میاں نواز شریف نے اپنے جلسے میں ایکٹنگ کرکے پیش کیا کہ میں اس طرح ڈرنے والا نہیں ہوں مگر جب انھیں جامعہ نعیمیہ میں جوتا مارا گیا تو وہ اس سے سو گنا زیادہ جھنجھلائے ،ہاتھوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی اور پھر چند منٹوں کی تقریر کرکے راہ لی۔سوشل میڈیا پر دونوں کلپ من چلوں نے ڈال دیئے ہیں تو لگتا ہے کہ طاہر القادری کا جس بات پر میاں نواز شریف نے تمسخر اڑایا خود انھیں اس سے بھی زیادہ جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہونا پڑا۔عمران خان نے نہ جانے کیسے یہ راہ اختیار کی کہ وہ بلوچستان کے آزاد سنیٹر زکو اپنے سنیٹرز ووٹ کے لئے پیش کرتے ہیں اور پھر جب انھوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی کو بھی آپ ووٹ دیں گے اس پر بھی انھوں نے حامی بھر لی پیپلز پارٹی کی حمایت نہ کرنے کے باوجود وہ پیپلز پارٹی کی حمایت کر بیٹھے ان کے اس عمل کو مسلم لیگ ن والے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ حیرت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے چیئرمین سنیٹر رضا ربانی کا نام بطور نئے چیئرمین سینٹ مسلم لیگ ن نے پیش کیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے بقول میاں نواز شریف نے رضا ربانی سے دشمنی کی اور ہم نے رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کے لئے نامزد نہیں کیا۔آصف علی زرداری نے سلیم مانڈوی والا کو پہلے چیئرمین اور پھر ڈپٹی چیئرمین کے لئے نامزد کیا جو بڑی آسانی سے جیت گئے جنھیں ایم کیو ایم نے اعلانیہ پانچ ووٹ نہیں دیئے اور نہ ہی وہ پانچ ووٹ انھوں نے اس کی مخالفت میں دیئے۔سینٹ میں صادق سنجرانی کی کامیابی کسی ایک کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ میاں نواز شریف کے خلاف اس کے رویے کی وجہ سے ایک اتحاد کی کامیابی ہوئی ہے اور مستقبل میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد یہی صورتحال سامنے آئے گی اور ایک قومی حکومت بنے گی چونکہ اس حکومت میں کوئی خاندانی عصبیت یا ڈکٹیٹر شپ نہیں ہوگی لہٰذا بد عنوانی کے امکانات بہت کم ہوں گے جمہوریت میں یہی ہوتا ہے مگر جب جمہوریت کے نام پر خاندانی آمریت مسلط ہوجائے تو پھر قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved