تازہ تر ین

صادق اور امین نگران وزیر اعظم وقت کی ضرورت

عبدالودودقریشی

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جانے دیں گے اور نگران وزیر اعظم کے لئے تحریک انصاف کے ساتھ مشاورت کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ تاریخ کا اعلان کریں گے۔قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد نگران وزیر اعظم لایا جاتا ہے جس کے لئے حکومت اور اپوزیشن لیڈر آپس میں مشورہ کرتے ہیں اگر ان میں اتفاق نہ ہو تو یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جاتا ہے اور پھر نگران وزیر اعظم کا تقرر چیف الیکشن کمشنر اپنے باضابطہ اجلاس میں کثرت رائے سے کرتا ہے اور اگر یہ معاملہ وہاں بھی حل نہ ہو تو پھر سپریم کورٹ اس کا فیصلہ کرتی ہے یہ آئین میں ترمیم کے بعد ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے صدر مملکت ہی کسی شخص کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیتے تھے اور متعلقہ وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ارکان چنتے تھے اس طریقہ کار میں یہ قباحت تھی کہ حکمران جماعت اپنے ہی کسی شخص کو وزیر اعظم بنا لیتی تھی اس وزیراعظم نے اپنے بنانے والوں کی منشاءکے مطابق چلنا ہوتا تھا کیونکہ وہ انہی کا ممنون احسان ہوتا تھا اور گزشتہ حکومت کے تمام افراد،بیورو کریسی حسب سابق جانے والی حکومت کے لئے کام کرتے تھے اس سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات دھندلائے رہتے تھے۔حکومتیں جب کئی بار اقتدار میں رہیں تو وہ پولیس،بیورو کریسی حتیٰ کہ عدلیہ تک میں اپنا جال بچھا لیتی ہیں اور پھر وہ ملک میں جو کچھ بھی کرتے پھریں انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اور پھر وہ آئندہ بھی ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنے کے انتظامات مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات کے بعد جب مفاہمت ہوئی تو طے پایا کہ آئندہ عبوری وزیر اعظم کسی ایک پارٹی کی مرضی سے نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں کی مرضی سے طے کیا جائے گا۔حکومت کی سادہ اکثریت ہوتی ہے اور اپوزیشن کئی جماعتوں سے مل کر بنتی ہے مگر آئینی طور پر صرف اپوزیشن لیڈر کا کسی معاملے پر اتفاق کر لینا ہی کافی ہوتا ہے۔مستقبل میں چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات ملکی تاریخ کا نقشہ بدلنے جارہے ہیں گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھاری شکست ہوئی عوام نے انھیں مسترد کر دیا اپنی شکست کو وہ نہیں مانتے مسلم لیگ ن کو حقائق کا ادراک نہیں کہ عام انتخابات میں انھیں کتنی بری طرح شکست ہوگی۔مسلم لیگی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والی عبوری حکومت تین ماہ کی بجائے ڈیڑھ دو سال تک بھی پھیل سکتی ہے کیونکہ ملک میں احتسابی عمل اور عدالتی شکنجہ مدتوں بعد قانون کی عملداری کے لئے تیار ہے۔عدالتیں بلا تخصیص پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی جو فائل یا دستاویز ان کے سامنے آتی ہے وہ اس پرمنصفانہ کارروائی شروع کر دیتی ہیں مسلم لیگ ن عدالتی فیصلوں کو ماننے کو تیار نہیں۔میاں نواز شریف بغاوت کا نعرہ لگا چکے ہیں اور ججوں کو بھی دھمکیاں لگا رہے ہیں کہ وہ ان سے بھی پوچھیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نواز شریف کو بیٹی اور داماد سمیت آمدن سے زائد بیرون ملک اثاثے بنانے پر سزا ہوگی کیونکہ اس کے لئے پراپرٹی تو موجود ہے مگر آمدن کے ذرائع نامعلوم ہیں۔سارا شور اسی پر ہے لہٰذا سزا کی صورت میں پنجاب میں مسلم لیگ ن بڑے پیمانے پر گڑ بڑ کروانے کی بھی تیاریاں کر رہی ہے ایسی صورت میں انتخابات کا التواءممکن ہے اس کے لئے مسلم لیگ ن ایسے شخص کو عبوری وزیر اعظم بنانے کے لئے کوشاں ہے جو مکمل طورپر ان کا ہو اور ان کے مفادات کی نگرانی کرے۔پیپلز پارٹی کے کو چیئرپرسن آصف علی زرداری یہ نہیں چاہیں گے کہ عبوری وزیراعظم مکمل طور پر مسلم لیگ ن کا ہی ہو اس اختلاف کی صورت میں اگر کسی ایک شخص پر متفق نہیں ہوجاتے تو پھر یہ معاملہ اپوزیشن اور حکومت کے ہاتھ سے نکل کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس چلا جائے گا جس کے لئے مدت اور تمام جزئیات آئین میں درج ہیں۔پھر الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی مرضی ہوگی کہ وہ کسے وزیر اعظم بناتے ہیں اور پھر اس کی ذمہ داری بھی انہی کے ذمے ہوگی۔سید خورشید شاہ نے اسی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جانے دیں گے مگر اس کا کیا یقین کہ مسلم لیگ ن جس کے سربراہ میاں نواز شریف ہیں اور پیپلز پارٹی جس کے حقیقی سربراہ آصف علی زرداری ہیں خورشید شاہ کے توسط سے ایسے امیدوار پر متفق ہوجائیں گے جن پر دونوں کو مکمل یقین ہو یا ایسا شخص جو بالکل ایماندار ہو جو ان سیاسی جماعتوں کی باتوں پر کان نہ دھرے۔یقینی طور پر ان دونوں سیاسی جماعتوں کو کسی ایسے شخص پر اتفاق ہونا ممکن نہیں جو انتہائی ایماندار ہو اور ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائے۔حالات اور واقعات یہ بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف،جماعت اسلامی،ایم کیو ایم وغیرہ سے خورشید شاہ کی مشاورت محض ایک رسمی کاروائی ہوگی اور اصل وزیر اعظم کا نام اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ ہی دیں گے اور کیا میاں نواز شریف ایسے آدمی کو قبول کریں گے جو آصف علی زرداری نے دیا ہو یا ان کے مفادات کا کسی حد تک نگران ہو مگر سید خورشید شاہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر معاملہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا تو آنے والا شخص ان دونوں پارٹیوں کے مفاد کا خیال کیے بغیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات پر زور دے گا عین ممکن ہے اگر جانبدار اور آئین کی دفعہ 62-63پر پورا نہ اترنے والا وزیر اعظم آیا تو لوگ عدالتوں سے رجوع کریں گے اور پھر اس معاملے پر بھی ان دونوں جماعتوں کو تشویش لاحق ہوجائے گی۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved