تازہ تر ین

سکیورٹی کونسل قرارداد‘ترکی اورعفرین

یسریاکس….مہمان کالم
شام کے ضلع عفرین میں ترک فوجی آپریشن کو 40 سے زیادہ روز ہو چکے ہیں، ترک فوج نے عفرین جانیوالی شاہراہ کے کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے، جس کے بعد شہر پر ترک فوج کا قبضہ مزید مستحکم ہو جائے گا۔ ترک وزارت دفاع کی طرف سے جاری اعدادوشما ر کے مطابق عفرین آپریشن میں 157فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 116ترکی کی تربیت یافتہ آزاد شامی فوج کے ارکان جبکہ 41کا تعلق ترک فوج سے تھا۔
جیسے ہی جنگ عفرین کے شہری علاقوں تک پہنچے گی، اس کی شدت میں اضافہ ہو جائیگا۔ ایک غیر ملک میں ترکی فوجیوں کیلئے یہ مشکل ہو گا کہ ایک جنگجو اور عام شہری کے درمیان فرق کر سکیں۔ ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوﺅں کیساتھ لڑائیوں کے دوران ترک فوج کو کئی بار بھاری جانی نقصان ا±ٹھانا پڑا۔ عفرین کی جنگ ایسے ماحول میں لڑی جا رہی ہے جوکہ مکمل طور پر ترکی مخالف ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی کے تربیت یافتہ جنگجو وائی پی جی کے کرد جنگجوﺅں کی مدد کیلئے ضرور پہنچیں گے؛ ان کی حمایت وائی پی جی کیلئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ ترک فوج کی حربی چالوں اور اسلوب سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
عفرین میں وائی پی جی اور کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوﺅں کے علاوہ عرب، قفقازی، آرمینیائی اور چیچن آباد ہیںجوکہ غیر ملکی فوج کیخلاف اپنے شہرکا ہر ممکن دفاع کرینگے۔اگر ترک فوج کے پہنچنے سے قبل وائی پی جی اور شامی حکومت کے مذاکرات ہوتے ہیں جس میں شہریوں سے ہتھیار واپس پر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ، اس کا مطلب ہو گا کہ عفرین کا ہر شہری مسلح ہو گا۔ کئی یورپی ملکوں میں وائی پی جی کی حمایت موجود ہے اور نوجوان رضاکاراس تنظیم میں شامل ہونے کیلئے عفرین پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ یوں ترک فوج کا عفرین میں مقابلہ کاسموپولین دشمن سے ہو گا۔یہیں پر بس نہیں،ایک رپورٹ کے مطابق شامی حکومت کی حامی ملیشیا کے تین دستے عفرین پہنچ چکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ دستے حکومت نواز ملیشیا پر مشتمل ہیں جنہیں ایرانی سپورٹ حاصل ہے، وہ امریکی حمایت یافتہ وائی پی جی سے تعاون کر رہے تھے۔ ایرانی سپورٹ کے حامل حکومت نواز ملیشیاﺅں کا امریکی حمایت یافتہ وائی پی جی سے تعاون کرنا شامی دلدل ایک اور خصوصیت ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ عفرین شہر کی جنگ ترک فوج کو بھاری نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
ایک طرف عفرین میں ترک آپریشن کومختلف چیلنجز کا سامنا ہے، دوسری جانب سکیورٹی کونسل نے گزشتہ ہفتے قرارداد نمبر 2401منظور کی جس میں شام میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد نے ترک آپریشن کی کامیابی کا امکان مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ قرارداد دراصل مشرقی غوطہ میں شامی فورسز کی جاری بمباری روکنے کیلئے تیار کی گئی تھی، مگر اس کا حتمی متن ایک ایسی قرار داد بن گیا جس میں شام میں جاری تمام فوجی آپریشن شامل ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق پورے شام پر ہو گا ، جس نے اقوام متحدہ میں سویڈن کے مستقل مندوب اولوف سکوگ کے بیان کی تصدیق کی کہ متن کا بنیادی نکتہ شام بھر سے جارحانہ سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔قرارداد کے ایک آرٹیکل کے مطابق جارحانہ سرگرمیوں کے خاتمے کا اطلاق داعش، القاعدہ ، النصرة فرنٹ اوران کے اتحادی دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن پر نہیں ہو گا۔
ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداگ نے قرارداد پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس سے عفرین کا فوجی آپریشن متاثر نہیں ہو گا۔ ترکی اس کا جواز تین دلائل کی صورت میں پیش کرتا ہے :اوّل چونکہ قرارداد میںمختلف دہشت گرد گروپوں کیخلاف فوجی آپریشن کا ذکر نہیں ہے، اسلئے وائی پی جی کیخلاف لڑائی کو قرارداد سے استثنیٰ حاصل ہے؛ دوم ترکی داعش کیخلاف امریکی اتحاد کا حصہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ عفرین آپریشن قرار داد کے اطلاق سے مبرا ہونا چاہیے؛ سوم عفرین آپریشن کی بنیاد ترکی کا اپنے دفاع کا حق ہے،جوکہ اقوام متحدہ کا آرٹیکل 51تمام اقوام کو دیتا ہے۔ترکی کو غیر ضروری بحث مباحثے میں الجھنے کے بجائے اپنی کوششیں تیسری دلیل کی بنیاد پر جاری رکھنی چاہئیں، کیونکہ پہلے دونوں دلائل کی بنیاد پر قائل کرنا آسان نہیں ہو گا۔
اس بحث سے قطع نظر جب تک عالمی برادری کا دباﺅ قابل برداشت حد تک رہے گا، ترکی عفرین آپریشن جاری رکھے گا۔یہ دباﺅ فرانس سے شروع ہوا ہے جب فرانسیسی صدر میکرون نے ترک ہم منصب سے پوچھا کہ قرارداد کا اطلاق عفرین آپریشن پر ہوتا ہے کہ نہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ترکی پر زور دیںگی کہ وہ قرارداد کا گہرائی سے جائزہ لے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ عفرین آپریشن کے باعث داعش کیخلاف لڑائی متاثرہو رہی ہے۔
عفرین آپریشن پر ترکی کی داخلی رائے اس وقت عامہ منقسم ہے۔آئندہ سال ترکی میں بلد یاتی، پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، انتخابی مہم کے دوران صدر طیب اردوان کی حکمران جماعت عفرین آپریشن کو اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے بھرپور کوشش کرے گی۔
( بشکریہ :ڈیلی عرب نیوز)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved