تازہ تر ین

منتظرالزیدی کے جوتا کلب سے جامعہ نعیمیہ تک!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
کہانی14دسمبر2008ءکوشروع ہوتی ہے جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش عراق کے دورہ پر تھے بغداد میں وزیراعظم عراق نوری المالکی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران بش نے ابھی خطاب شروع ہی کیاتھا کہ یہاں پرموجود ایک عراقی صحافی منتظرالذیدی نے بش کی طرف اپنے دونوں پاﺅں کے جوتے یکے بعد دیگرے اچھال دئیے بش کی خوش قسمتی وہ اس ”حملہ“ میں بال بال بچ گئے لیکن جوتا باری کی یہ ریت ایسی چلی کہ گزشتہ دس سال میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس قسم کے کم وبیش90 کے قریب واقعات ہو چکے ہیں۔ حیرت انگیزبات یہ ہے کہ ”جوتا کلب“ میں امریکہ‘ برطانیہ‘آسٹریلیا‘ آئرلینڈ‘ ہانگ کانگ‘ تائیوان‘ چین‘ ترکی‘ ایران اور عرب دنیا کے بھی کئی ایک ممالک شامل ہیں۔ پاکستان میں11مارچ2018ءکو جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک سیمینار کے موقع پر جب سابق وزیراعظم نوازشریف خطاب کیلئے ڈائس پر آئے تو دو مذہبی انتہا پسندوں نے ایک طرف جوتے اُچھالے اس جوتا باری میں میاں صاحب بچ نہ سکے لیکن اس حملے کے اگلے ہی لمحے وہ دنیا بھر کے ان سیاسی رہنماﺅں کے ہم پلہ ہوگئے جنہیں ”جوتا کلب کے رکن ہونے کا اعزاز“ حاصل ہے۔
عراقی صحافی منتظرالزیدی کے تشکیل کردہ اس جوتا کلب کے ارکان میں نوازشریف سے پہلے سابق صدرآصف علی زرداری اور جنرل پرویزمشرف بھی شامل ہیں اور کلب کے سینئر ارکان میں ان کاشمار ہوتاہے۔6 فروری 2011ءکو مشرقی لندن کے علاقہ والتھم سٹو میں جنرل مشرف کی طرف جوتا پھینکاگیا‘ پھراگلے مہینے29مارچ کو مشرف پر کراچی کے ایک وکیل تجمل لودھی نے اس وقت جوتا پھینکا جب وہ سندھ اسمبلی سے نکل رہے تھے‘ پھر اس سے ایک سال قبل2010ءمیں آصف علی زرداری پر برطانیہ کے شہر برمنگھم میں تقریر کے دوران ایک شخص سردار شمیم خان نے جوتا پھینکا‘ انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں خود اس واقعہ کا عینی شاہد ہوں۔ یکم مارچ2016ءکو اس وقت کے وزیراطلاعات پرویز رشید پرجوتا پھینکا گیا‘ پھر فروری2018ءکو نارووال میں وزیرداخلہ احسن اقبال پر تقریر کے دوران جوتا پھینکا گیا لہٰذا پوری ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف جوتا کلب کے ممبرز میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں آصف علی زرداری جوتا کلب کے پاکستانی ممبرز میں سینئر ترین ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں جوتا کلب کے ممبرز پاکستان سے زیادہ ہیں۔ اپریل2009ءکو ”بھارتی جنتا پارٹی“ کے لیڈر لال کشن ایڈوانی پراس کی اپنی پارٹی کے ایک کارکن نے جوتے سے حملہ کیا اسی روز لوک سبھا کے امیدوار نوین جندال پر ایک سکول ٹیچر نے حملہ کیا اوراس کے منہ پر جوتا دے مارا۔7 اپریل2009ءکو بھارتی وزیرداخلہ پی چدم برم پر ایک سکھ صحافی جرنیل سنگھ نے جوتا پھینکا۔16 اپریل2009ءکو وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار ایل کے ایڈوانی پر پھر 26 اپریل کو الیکشن ریلی کے دوران سابق وزیراعظم من موہن سنگھ پر احمد آباد میں‘ جنوری2017میں وزیراعلیٰ مشرقی پنجاب پرکاش سنگھ بادل پر اور قبل ازیں15 اگست2010ءکو جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر جوتے سے حملہ کیاگیا‘ عمر عبداللہ پر ایک مقامی پولیس افسر نے جوتا پھینکا۔
ترقی یافتہ ملکوں کے وزرا ءاعظم اور اعلیٰ سیاسی شخصیات بھی2008ءکے بعد سے مختلف مواقع پر جوتا باری کا شکار ہو کر جوتا کلب کی ممبر شپ کی حقدار ٹھہری ہیں۔ مثلاً مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں امریکہ کی سابق سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس کو ”کونڈارا“ کہا جاتاتھا جس کا مطلب جوتا ہوتاہے۔14 دسمبر2008ءکو بغداد میں جارج بش پر جوتا پھینکنے کے واقعہ کے بعد امریکہ اور کینیڈا میں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات ہوئے جن میں جارج بش کی تصویروں والے پوسٹرز پر جوتا باری ہوئی حتیٰ کہ وائٹ ہاﺅس کے باہر ”اینٹی وار گروپ“ کے کئی مظاہروں کے دوران وائٹ ہاﺅس کی طرف جوتے اُچھالے گئے ٹورنٹو‘ کیوبک اور مانٹریال میں امریکی قونصلیٹ پر مظاہروں میں منتظرالزیذی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مظاہرین نے جوتے پھینکے اور علامتی طور پر قونصلیٹ کی عمارتوںکو جوتے دکھائے۔ الزیدی اور ان تمام مظاہرین کا نکتہ یہ تھا کہ بش نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق اور افغانستان پر بلا جواز حملے کیے اور اس ملٹری ایکشن میں لاکھوں شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔2فروری2009ءکو جب چین کے وزیراعظم جیاباﺅ برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن کے ہمراہ کیمبرج یونیورسٹی میں خطاب کر رہے تھے تو ایک طالب علم نے ان پر جوتا پھینکا۔5 فروری کو سویڈن میں اسرائیلی وزیراعظم بینی ڈیگن پر غازہ کی جنگ اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے جوتا پھینکا۔6مارچ2009ءکو ایرانی شہر اورمیا میں صدر احمد نژاد پربھی جوتا پھینکا گیا۔2010ءمیں سوڈان کے صدر عمرالابشر پر اور فروری2010ءمیں ایک کرد نے ترکی کے صدر طیب اردگان پر جوتا باری کی۔24 دسمبر2010ءکو سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر پرانڈہ اورجوتا پھینکاگیا پھر اس سے اگلے ہی روز ڈبلن میں بھی ”اینٹی وار“ تنظیم کے مظاہرین نے ٹونی بلیئر پر جوتا پھینکا‘ اس کے بعد11 ستمبر2010ءکو یونان کے وزیراعظم پر10فروری2010ءکو مصر کے حسنی مبارک پر10اپریل2010ءکو لاس ویگاس میں ہیلری کلنٹن جوتا باری سے محفوظ نہ رہ سکیں اور جوتا کلب کے بین الاقوامی رہنماﺅں میں شامل ہوگئیں اور ہاں یاد آیا7 اپریل 2008ءکو اپنے سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم پر سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک کارکن آغا جاوید پٹھان نے جوتا پھینکا بلکہ شاید یہ واحد سیاستدان ہیں جنہیں انتہائی قریب سے جوتے مارے گئے تو کیایہ کہاجاسکتاہے کہ دنیا میں سیاستدانوں کو جوتے مارنے کی روایت کے موجد بھی ماشااللہ پاکستانی ہیں کیونکہ منتظر الزیدی نے جارج بش کو14 دسمبر2008ءکو اورآغا جاوید پٹھان نے ارباب رحیم کو7 اپریل2008ءکو جوتا مارا چنانچہ ”پاکستان پھر بازی لے گیا“۔
جوتا باری کاشکار ہونے والے عالمی رہنماﺅں میں سوائے جارج بش کے ایک چیز قدرمشترک یہ رہی کہ ان تمام نے ہی اپنے حملہ آوروں کو معاف کردیا لیکن بش نے منتظرالزیدی کو معاف نہیں کیا اور اسے چند ماہ جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ 10 سال پہلے شروع ہونے والی جوتا باری کی یہ غیرمہذب رسم سے قبل برطانیہ سمیت دیگر ملکوں میں سیاست دانوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے والے ان لیڈروں پر انڈے یا ٹماٹر پھینکتے تھے کسی پر جوتا پھینکنا انتہائی ذلت آمیز اور قبیح حرکت سمجھی جاتی تھی اورپھر برصغیر میں تو جوتا مارنا تحقیر کے زمرے میں آتا ہے یہی وجہ ہے کہ نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعہ پر ملک کے سبھی چوٹی کے لیڈروں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اس رویے کی مذمت کی ہے یقینا اس حقیقت کا بھی احساس ہوگا کہ آج ان کی تو کل ہماری باری بھی آسکتی ہے۔ بہرکیف ان رہنماﺅں کی طرف سے اس قسم کے رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا بھی خوش آئند ہے۔ من حیث القوم ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر ہم نے عدم برداشت پرقابو نہ پایا تو ہمارے یہ رویے اقوام عالم میں ہمیں انتہا پسند اور اس سے اگلی سٹیج پر دہشت پسند کہنے میں دیر نہیں لگائیں گے ہمیں اپنی تہذیبی وثقافتی اساس کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے سوچنا ہوگا کہ جس طرح ہرقوم کی اپنی ایک تہذیب ہوتی ہے لیکن ہر قوم کے اندر بعض انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے ممتاز کرتی ہیں ہمیں اسی ایک نکتے کو تلاش کرکے خود کو یکتا ثابت کرناہے ہمیں اس رویے کو رواج دینا ہے کہ ہم عقلی دلیل اور بحث مباحثے پریقین رکھتے ہیں نہ کہ گالی گولی اور سوقیانہ زبان پر‘2008ءکے بعد آسٹریلیا سے لے کر پاکستان تک جوتا باری کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں انہیں بہرحال مہذب دنیا میں تہذیب یافتہ انسانی معاشروں میں تنقید کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ جدید انسانی معاشروں میں اس قسم کے بازاری رویوں کی قطعاً حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے‘ کی مثال کے مصداق جوتا باری کا معمار منتظر الزیدی بھی اپنے ہی دام میں اس وقت آگیا جب جارج بش پرجوتا پھینکنے کے پورے ایک سال بعد وہ پیرس میں منعقدہ ایک کانفرنس میں تقریر کر رہا تھا توہال میں موجود ایک جلاوطن عراقی صحافی نے منتظر الزیدی پر جوتا پھینکا اور کہا تم عراقی ڈکٹیٹر کیلئے کام کرتے رہے ہو اس پر منتظر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تم نے میری تکنیک چوری کی ہے!!
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گجرات میں 13مارچ کوخطاب کے دوران کسی نے عمران خان پربھی جوتا پھینکا ہے جو ساتھ کھڑے علیم خان کو جالگا ہے۔
(معروف کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved