تازہ تر ین

ازھرمنیر‘سندھ وادی اور سرائیکی زبان (1)

ظہور احمد دھریجہ سرائیکی وسیب

محترم ازہر منیر نے پہلے لاہور ملتان کے مضافات کی بحث شروع کی اور طویل اقساط کے باوجود یہ باور کرنے میں ناکام رہے کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے زمانے میں لاہور ملتان کا مضافات نہیں تھا ۔ لاہور ملتان کی بحث میں ہزیمت کے بعد پنجابی کہاوت ”روندی سی یاراں نوں ‘ متراں دا ناں لے لے کے“ کے مصداق۔ازہر صاحب نئے موضوع لے آئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چار سے 6 مارچ 2018ءکے خبریں میں ”پنجاب چیفس، تجزیاتی مطالعہ“ کے عنوان سے تین قسطوں کا کالم لکھا ، اس کا مقصد پنجاب کو نیکوکار اور سرائیکی وسیب کو ”سیاہ کار “ ثابت کرنا تھا ، اس میں بھی وہ ناکام رہے ۔اس سے پہلے وہ ”شہر لاہور ‘محمد بن قاسم اور راجہ داہر“ کے عنوان سے 28فروری اور یکم مارچ 2018ءدو قسطوں پر کالم لکھ چکے ، اس کا مقصد بھی وہی تھا جو میں نے عرض کیا ۔ محترم ازہر منیر ایک طرف کہتے ہیں یہ سارادیس پنجاب ہے اور یہاں ایک زبان ہے جس کا نام پنجابی ہے ۔ دوسری طرف ایک ایک بات کو چار چار مرتبہ دُہرا کر سرائیکی کے خلاف زہر اُگلتے ہیں اور طویل کالموں کے ذریعے اخبار کے صفحے استعمال کرتے ہیں ،دراصل یہی بات بذات خود اس بات کی گواہی ہے کہ سرائیکی الگ اور پنجابی الگ ہے ۔ ہاں یہ بھی بتا دوں کہ وسیب کے لوگ جمہوری لوگ ہیں کہ دو آبی ،ماجھی اور لاہوری بولنے والوں نے جب کہا کہ اب ہم پنجابی ہیں تو ہم نے مان لیا ، ورنہ خود لاہور کے شاعر حضرت شاہ حسین المعروف مادھو لال سئیں کی شاعری کو ”پنجابیانے“ کے باوجودآج بھی پڑھیئے وہ سرائیکی ہے ، قصور کے بابا بلھے شاہ کا کلام پڑھیئے وہ بھی سرائیکی ہے ۔جیساکہ میں نے عرض کیا گزشتہ قلمی حملوں کی پسپائی کے بعد موصوف کا نیا کالم”لہندا ، مغربی پنجابی“ کے نام سے مورخہ 9-10-11مارچ 2018ءکو ”خبریں“ میں تین قسطوں میں شائع ہوا ۔ موصوف نے اپنی تیسری قسط میں لکھا ہے کہ سرائیکی لفظ سندھی سے مستعار لیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پنجابی اور پنجاب کا لفظ خودفارسی ”پنج آب“ سے مستعار لیا گیا ہے ۔ ازہر منیر صاحب دوسری قسط میں نوید شہزاد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1964ءمیں فیصلہ کیاگیا تھا کہ اب اس علاقے کی زبان سرائیکی کہلائے گی ۔ اسی کالم میں موصوف میری کتاب کے حوالے سے خود لکھ رہے ہیں کہ 1962ءکی سرائیکی کانفرنس میں سرائیکی نام پر اتفاق کیا گیا ۔ یعنی خود ہی بات کی اور خود تردید کر دی ۔ موصوف کی اس تحقیق کو کیا نام دیا جائے؟ اسی کالم میں آپ فرماتے ہیں ”ایک دن چند لوگوں نے ایک جگہ یہ طئے کیا کہ آج سے پنجابی کی فلاں فلاں بولیاں پنجابی کے بجائے سرائیکی کہلائیں گی اور یوں راتوں رات زبان وجود میں آ گئی “ ۔ عجب بات ہے ایک طرف خود لکھ رہے ہیں کہ سرائیکی نام سندھ میں موجود تھا پھر لکھ رہے ہیں کہ راتوں رات نئی زبان وجود میں آ گئی ، حالانکہ زبانیں صدیوں کی تاریخ ہوتی ہیں اور صدیوں کے عمل سے وجود میں آتی ہیں ، نام مختلف ہو سکتے ہیں جیسا کہ اسی بحث میں ازہر صاحب نے پنجابی کے مختلف نام خود گنوائے ہیں ۔ اردو کے مختلف نام ابھی کل کی بات ہے۔ پرشین کو فارسی کہا جائے یا پہلوی ،زبان تو فارسی ہی ہے ۔ دوسرا وہ فرما رہے ہیں کہ آج پنجابی کی فلاں فلاں بولیاں پنجابی کے بجائے سرائیکی کہلائیں گی ، یہ سفید جھوٹ ہے ، سمرا پبلک سکول ملتان 1962ءکو ہونے والے اجلاس کی کارروائیاں اور فیصلے موجود ہیں ۔ پنجابی کا لفظ تک استعمال نہیں ہوا، سرائیکی تو بذات خود اتنا بڑا سماج ہے کہ سرائیکی کے 37مختلف نام آئے مگر پنجابی نہیں۔ ازہر منیر نے یہ بھی غلط لکھا کہ پنجابی تعلیم صدیوں سے تھی ، حالانکہ رنجیت سنگھ کے دور میں بھی تخت لہور کی دفتری اور تعلیمی زبان فارسی تھی ۔ سرائیکی کو راتوں رات پیدا ہونے کا طعنہ دینے والے ازہر صاحب کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ سرائیکی ام السان ہے، سندھی پنجابی اردو وغیرہ اس سے پیدا ہوئی ہیں ، سرائیکی عظیم اور قدیم ہے۔سرائیکی زبان کا نورنامہ جو ہر گھر میں صبح تلاوت قرآن مجید کے بعد پڑھا جاتا ہے کی عمر ایک ہزار سال ہے ، یہ نورنامہ پڑھیئے پھر فیصلہ کیجئے کہ سرائیکی ہزاروں سال پہلے کی زبان ہے یا راتوں رات وجود میں آئی؟۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ساکن کا تعلق مسکن سے ہوتا ہے ، جب سے ملتان ہے تو اس کی زبان بھی ہے ، ملتان کب سے ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ یہ سب کچھ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ، کتابیں کہہ رہی ہیں کہ ملتان قدیم ترین ہے۔لہندا مغربی پنجابی ؟کی بحث کے سلسلے میں پروفیسر شوکت مغل اپنی کتاب ”تحریرات“ میں لکھتے ہیں کہ ملتانی‘ قدیم ملتان کی زبان کو کہا جاتا ہے۔ وہ ملتان جو آج صرف ایک شہر کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے تاریخ میں ایک صوبے‘ ایک حکومت یا ایک الگ سلطنت کے حوالے سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ ملتان جب ایک وسیع سلطنت کا نام تھا‘ اُس کے بارے میں تاریخ نویسوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور بتایا ہے کہ اس خطے کی عمر لاکھوں سال ہے۔ (1آرسی ٹمپل لکھتے ہیں:”اُس وقت تک زمین و آسمان کی مدت 62,85,000 برس تھی۔ اُس وقت سے ملتان آباد ہے“۔ (ص 412‘ کہانی نمبر 59۔ دی لیجنڈز آف پنجاب جلد سوم)(2البیرونی لکھتے ہیں:”مشہور بتوں میں ایک آفتاب کے نام کا بت ملتان کا تھا۔ اسی نسبت سے اس کا نام ’آدت‘ رکھا گیا تھا۔ ہندو کہتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے کرتا جُگ میں بنایا گیا تھا۔ فرض کرو کہ وہ اس جُگ کے آخر میں بنا تو اس وقت سے ہم لوگوں کے زمانہ تک 2,16,432 یعنی دو لاکھ سولہ ہزار چار سو بتیں سال ہوتے ہیں“۔ (ص 140۔ کتاب الہند)(3ڈاکٹر احمد بنی خان لکھتے ہیں:”Among the few ancient cities of Pakistan, Multan has the distinction of Possessing an almost uninterrupted history of religio. political activities spread over a period of not less than five thousand years”. (Multan – preface- xxi:ص)(4اردو بولنے والے معروف محقق اور آرکیالوجسٹ ابن حنیف لکھتے ہیں:”جب کبھی میں اندرون فصیل‘ ملتان کی گلیوں اور سڑکوں پر گزرتا ہوں تو اکثر مجھے خیال آتا ہے کہ ان گلیوں کے نیچے‘ ان سڑکوں کے نیچے گہرائیوں میں ہزاروں برس پہلے کا وہ ملتان خوابیدہ ہے جو صدیوں تک بار بار اجڑتا اور آباد ہوتا آیا اور جو ساڑھے چار ہزار سال پہلے بھی پورے پاکستان (قدیم) کے چند اہم شہروں میں سے ایک تھا۔ بعض ٹھوس وجوہات ، بیشتر معقول قیاسات اور منطقی نتائج کی بنا پر کم از کم مجھے پختہ یقین ہے کہ ملتان آج سے ہزاروں برس پیشتر بھی آباد تھا اور دریا کے کنارے ملتان کے موجودہ مقام پر پہلی بستی کم از کم ساڑھے پانچ ہزار برس پہلے بسائی گئی تھی“۔ (بحوالہ کتاب سات دریاﺅں کی سرزمین)جہاں تک سلطنت ملتان‘ کی قدیم حدود کا تعلق ہے یہ جنوب مغرب میں مکران تک تھیں شمال میں کشمیر تک‘ مغرب میں کابل تک اور مشرق میں دلّی تک تھیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے:(1)”یہ اوّل و دوم و سوم اقالیم سے زیادہ فراخ ہے کیونکہ ٹھٹھہ اس صوبہ پر زیادہ ہوا ہے۔ فیروز پور سے سیوستان تک 430 کوس لمبا اور چتوڑ سے جیسلمیر تک 108 کوس چوڑا ہے۔ دوسری طرف سے طول کیچ اورمکران تک 660کوس ہے۔ اس کے خاور (مشرق) رویہ سرکار سرہند سے ملا ہوا ہے۔ شمالی دریائے شور میں اور جنوبی صوبہ اجمیر میں ہے اور رباختر (مغرب) میں کیج و مکران ہے“۔(بحوالہ کتاب سیر المتاخرین)(2)ابوالفضل لکھتا ہے:”صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے پہلے یہ صوبہ فیروز پور سے سیوستان تک 426 کروہ تھا۔ چوڑائی میں کِھت پور سے جیسلمیر تک 126 کروہ تھا۔ ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ اور مکران تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کا یہ فاصلہ 660 کروہ تھا۔ مشرق میں اس کی سرحدیں سرہند کی سرکار سے ،شمال میں پشاور سے‘ جنوب میں اجمیر کے صوبے سے اور مغرب میں کیچ مکران سے ملتی تھیں“۔( بحوالہ کتاب آئین اکبری)یہ وہ علاقے ہیں جن میں سے آج پاکستان کا صوبہ خیبر پختون خواہ‘ صوبہ پنجاب (مغربی پنجاب) اور صوبہ سندھ اور ہندوستان کا صوبہ پنجاب (مشرقی پنجاب) بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے ان تینوں صوبوں کی زبان کو تاریخ میں ملتانی کہا جاتا رہا ہے جس کا اثر مشرقی پنجاب میں آج تک محسوس کیا جا سکتا ہے اس لئے ڈاکٹر مہر عبدالحق لکھتے ہیں:” اس سارے علاقے میں ملتانی زبان ہی بولی اور سمجھی جاتی تھی جسے آج ہم سرائیکی زبان / بالائی سندھ کی زبان کہتے ہیں۔ علاقائی لب و لہجے کے فرق کے باوجود اس زبان کے واضح اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں“۔ بحوالہ: ص 6۔ ملتان کے بادشاہ، نامور گورنر اور حملہ آور۔ ابو الفضل نے ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کے نام دیئے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں کی نسبت سے بولی جاتی ہیں۔”تمام ہندوستان میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں اور وہ زبانیں جو ایک دوسرے سے ملی جلی ہیں شمار سے باہر ہیں اور جو مختلف ہیں :دہلی‘ بنگال، ملتان، مارواڑ، گجرات، تلنگانہ، مرہٹہ، کرناٹک، سند، افغان شال۔ (جو سندھ اور کابل اور قندھار کے درمیان ہے)۔ بلوچستان۔ کشمیر میں رائج ہیں“۔(ص 98۔ آئین اکبری جلد دوم)درج بالا علاقوں کی نسبت سے درج ذیل تیرہ زبانیں سامنے آتی ہیں:”دہلوی …. بنگالی …. ملتانی …. مارواڑی …. گجراتی …. تلنگی …. مرہٹی …. کرناٹکی …. سندھی …. افغانی …. شال …. بلوچستانی …. کشمیری۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکبر کے زمانے (1556۔ 1605ئ) تک لاہوری/ پنجابی نام کی کوئی زبان موجودہ پاکستان تو کیا پورے ہندوستان میں کہیں موجود نہیں تھی۔پنجابی زبان کے محقق عین الحق فرید کوٹی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ابوالفضل نے آئین اکبری‘ میں پنجابی زبان کا نام نہیں لیا۔ وہ لکھتے ہیں:”ابوالفضل جہاں آئین اکبری میں اکبر کے زیرنگیں علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کے نام گنواتا ہے وہاں پنجابی کا نام نہیں لیتا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس علاقے میں بسنے والے کوئی زبان ضرور بولتے تھے“۔(ص۔ 212 تاریخ ادبیات پاک و ہند جلد تیرہ)جیسا کہ میں پہلے عرض کر آیا ہوں کہ ساکن کا تعلق مسکن سے ہوتا ہے ۔ ملتان کی قدامت کے بارے میں‘ میں نے قدیم کتابوں سے حوالے دیئے اور چند ایک حوالے مزید بھی دینا چاہتا ہوںتاکہ ازہر منیر اور قارئین کو علم ہو سکے کہ سرائیکی وسیب کا مرکز ملتان بھی قدیم ہے اور اس کی زبان بھی قدیم ہے۔ نقوش سلیمانی میں سید سلمان ندوی نے ملتان کی سرزمین (جو وادی سندھ کا مرکز تھی) اور یہاں بولی جانے والی زبان کے بارے میں جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ مختلف مقامات پر یوں رقمطراز ہیں:”سلطان غزنوی کی فتوحات کے عہد میں اس ملک میں دو اسلامی ریاستیں قائم تھیں ایک ملتان اور دوسری منصورہ یعنی بھکر وادی¿ سندھ۔“(ص 21)اس تشریح سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کی عربی و فارسی سب سے پہلے ہندوستان کی جس دیسی زبان سے مخلوط ہوئی وہ سندھی اور ملتانی ہے۔ پھر پنجابی اور بعد ازاں دہلوی ۔علامہ بیرونی المتوفی 420ھ (1029ئ) جس نے ہندوستان میں شاید ملتان اور سندھ میں رہ کر ” کتاب الہند“ کا مسالا مہیا کیا ہے، اُس نے اپنی کتاب میں جس لہجہ اور طرز ادا میں ہندی الفاظ لکھے ہیں‘ ان سے ماہرین ادب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ ملتانی اور سندھی شکل میں ہیں“۔(ص35) ( جاری ہے)(سرائیکی دانشور‘سرائیکیوں کے مسائل پرلکھتے ہیں)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved