تازہ تر ین

جمہوریت عوام کےلئے کیوں نہیں؟

سجادوریاہ….سعودی عرب سے
فرحت اللہ بابر کے سینٹ میں الوداعی خطاب کی دھوم مچی ہے اور ہمارے کئی صحافی قلم کار دوست تو باقاعدہ لڈیاں ڈال رہے ہیں اور جمہوری بزرجمہروں کی قادرالکلامی اور موقع پرستی کو جمہوریت کا درد سمجھ بیٹھے ہیں اور فرحت اللہ بابر کو بھی شاید ہیرو سمجھ بیٹھے ہیں‘حالانکہ ان جمہوری بزرجمہروں کی بزر تب ہی بجتی ہے جب ان کو اپنے جمہوری آقا کا اشارہ ملتا ہے یا پھر جب ان کو اپنی نوکری ختم ہوتی دکھاائی دیتی ہے۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے یہ جمہوریت پسند کرپشن پر خاموش،اقربا پروری پر بھی چپ اور من پسند افراد کو نوازنے پر بھی گھونگنیاں منہ میں ڈالے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے رہتے ہیں‘کبھی ان لوگوں نے آئین میں لکھے شہریوں کے حقوق پر بات نہیں کی بس ان کو آئین کی وہ شقیں اور دفعات زبانی یاد ہیں جن سے ان کی پارٹی کو حکومت ملتی ہے اور ان کو عہدے ملتے ہیں۔آئین کا آرٹیکل6 تو ان کا پسندیدہ ہے کیونکہ جب ان کی حکومت گرائی جاتی ہے تو واویلا مچاتے ہیں کہ جرنیل حضرات پر غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے‘ بالکل جناب ضرور تمام آئین پر عمل کیا جائے آئین کے آرٹیکل 8 سے 28 تک بنیادی حقوق کے حوالے سے ہیں ان پر بھی کوئی آواز اٹھائی جائے تاکہ عام شہریوں کا بھی بھلا ہو سکے۔ آئین کا آرٹیکل 38 تو کہتا ہے کہ روٹی،کپڑا اور مکان کے ساتھ تعلیم اور صحت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے اور پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ بھی ہے کیا میرے پارلیمانی اور جمہوری دیوتا آئین کے ان آرٹیکلز کی “معطلی”پر بھی کوئی تقریر فرمائیں گے؟ یا پھر محض الفاظ کی جگالی اور ایک دوسرے کی کرپشن کے تحفظ کے لیے ہی آئین و قانون کا سہارا لیا جاتا رہے گا۔ میری عرضی کو گستاخی نہ سمجھا جائے تو ایک سوال پوچھ رہا ہوں کہ فرحت اللہ بابر نے کبھی سندھ میں مسلسل دس سال سے “برستی” جمہوریت کے فیوض و برکات کے سبب حکومتی کارکردگی پر کوئی آواز اٹھائی؟ سندھ میں جمہوری نظام دس سال پورے کرنے کو ہے تو کیا کبھی مرشدی فرحت اللہ بابر سندھ کے عوام کی “خوشحالی”پر اپنی “فرحت بخش” رائے دینے کی جرآت کر سکیں گے؟ جناب ایک دوسرے ہیرو چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی دھوم مچی ہے کہ وہ بھی “مجاہد حق” ہیں اور جمہوریت کی بحالی،پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالے رہے ہیں اور الوداعی خطاب میں انہوں نے بقلم خود بھی ہیرو بننے کی کوشش کی اور اپنی سیاسی ماں محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی خراج تحسین پیش کیا لیکن حیرت کی بات ہے انہوں نے اپنے “سیاسی باپ” کا نام نہیں لیا جو اب ان کو دوبارہ چئیرمین سینٹ کے لیے نامزد نہیں کر رہے تھے۔
یہ بات تسلیم ہے کہ دونوں حضرات کی ذاتی شہرت اچھی ہے اور مالی کرپشن کے الزامات کا سامنا نہیں ہے لیکن کیا اپنے مفادات اور کرسی کے تحفظ کے لیے زرداری صاحب کی کرپشن کا دفاع کرنا بھی لازم ہے؟ جناب زرداری کی شخصیت ہی ہر وقت سراپا جمہوریت و آئین ہی کیوں نظر آتی ہے؟ اگر ایسا نہیں تو کیا کبھی ان حضرات نے پاکستان کے عوام کو لوٹنے والے سیاسی رہنماوں کی کرپشن پر احتجاج کیا؟ ان کی پاکستان سے محبت اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد بہت مناسب اور قابل ستائیش لیکن کیا ضروری نہیں کہ پہلے اپنے گھر سے اپنے کردار سے آئین کی بالادستی کا عمل شروع کیا جائے؟
یہ امر قابل قدر و منزلت ہے کہ آپ نے چیرمین سینٹ بننے سے قبل اور رخصت ہوتے وقت بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائی ہیں لیکن آپ نے چئیرمین ہونے کے ناطے دوسرے اراکین کو بھی پابند کیا؟ بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے ہی جمہور کو دغا دے رہے ہیں۔ موجودہ جمہوریت میں ان لوگوں کو ہی جمہوریت کا علمبردار اور چیمپئن مانا جاتا ہے جو فوج اور عدلیہ کو گالی دے یا ان کو اپنی حدود میں رہنے کی تلقین نما دھمکی سکے۔آپ آج کے ان جمہوریت پسندوں میں پرویز رشید ،دانیال عزیز، نہال ہاشمی اور طلال چوہدری کو صف اول میں کھڑے پائیں گے اسی طرح زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجا کر واپس آ گئے ہیں اور اب فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی بھی جمہوریت پسند ہیں۔
بعض کالم نگار بھی پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے کی مہم میں اگلے مورچوں پر لڑتے ہوئے ہلکان ہو رہے ہیں اور پوری کوشس کر رہے ہیں کہ جمہوری آقا خوش ہو جائیں عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ ہسپتالوں پر سوال کیوں پوچھتی ہے۔ ایک روشن خیال صحافی “کراہت منحوس ” عدالت کے نہال ہاشمی توہین عدالت کے نوٹس پر فرما رہا تھا کہ اس طرح عدلیہ نوٹس لے کر اپنا وقار کم کر رہی ہے۔اس سے پوچھا جائے یہ گالیاں جو نہال ہاشمی دے رہا ہے تمہیں دی جائیں تو کیسا لگے گا؟ عدالت نے پوچھا کہ پنجاب حکومت نے 10 سال میں پانی کی فراہمی کیلئے کیا منصوبے بنائے تو شور مچ گیا کہ ادارے اپنی حد میں رہیں اداروں کا ٹکراو¿ ہونے جا رہا ہے۔ خدا کا خوف کرو پانی ،صحت اور تعلیم مہیا کرنا بھی جمہوری اور آئینی ذمہ داری ہے۔ عدلیہ کا احترام کرنا بھی آئینی ذمہ داری ہے اگر آپ لوگ آئین پر عمل نہیں کرو گے تو ریاست کا تصور ختم ہو جائے گا۔ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ 5 ججز کے فیصلے کو نہیں مانتے اور بغاوت کا اعلان کردیا ہے‘ ان سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ اگر فوج نے یہ کہہ دیا کہ ہم پارلیمان اور آئین کو نہیں مانتے تو پھر کیا ہوگا؟ ایسا نہ کریں ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلاجائے۔
میرا “گمان”ہے کہ جمہوریت کے “ہیروز” جمہوریت اور آئین کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہے ہیں ان کو عوام کے مفادات کی کوئی پرواہ نہیں‘ ان ہیروز کی پریشانی عوام کے لئے نہیں دیکھی بلکہ جمہوری آقاو¿ںکی خوشنودی ان کا مقصد ہوتا ہے۔
(کالم نگارقومی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved