تازہ تر ین

میرے اشعار کے آئینے!

نگہت لغاری …. ….سچ
پرانے زمانے میں جب تاجروں کے قافلے تجارت کی غرض سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے تھے تو ڈاکوﺅں‘ لٹیروں اور چیرنے پھاڑنے والے جانوروں کے خوف کو کم کرنے کیلئے باآواز بلند اپنے من گھڑت فی البدیہہ اشعار کہتے جاتے تھے۔ اس طرح گروہ در گروہ چلنے والے تاجر ایک دوسرے سے رابطے میں بھی رہتے تھے اور ذرا دل بھی مضبوط ہوجاتے تھے۔ دنیا بھر اور خصوصاً اپنے ملکی حالات نے مجھے بھی اس طرح خوفزدہ کردیا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی لٹیروں‘ ڈاکوﺅں اور انسانی صورت میں چیرنے پھاڑنے والے جانوروں میں گھر گئی ہوں۔ اپنا خوف کم کرنے اور دل کو مضبوط کرنے کیلئے شعر کہنے لگ گئی ہوں۔ ساری دنیا میں انسانی رویوں کو دیکھ کر سوچتی ہوں پتہ نہیں ہم انسانوں کو کیا ہوگیا ہے؟ امریکہ نے جب Big Brother بننے کے جنون میں عراق اور افغانستان پر حملہ کرکے انسانوں کے پرخچے اڑادیئے تھے تو اس وقت ایک امریکی اخبار نے اس جنگ کے ایک امریکی جنرل کا انٹرویو شائع کیا تھا جو بہت ہی دلچسپ تھا۔ جنرل صاحب نے کہا ”یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہم اپنے ملک‘ اپنے پیاروں کی محبتیں اور حقوق دینے کیلئے بھیجے جارہے ہیں۔ وہ ملک جہاں Coml Mountains میں راستے بناکر اور برف میں دھنسے پیروں کو کھینچ کر ہم ان کے آگے راستے آسان کرنے پر بھیجے جارہے ہیں۔ ہمارے ساتھ لاکھوں ٹن خوراک لاکھوں ڈبے دوائیاں Portable Toilet اور بے حساب گولہ بارود جارہا ہے۔ ہمارے آقاﺅں نے استاد کا ڈنڈا پکڑ رکھا ہے اور سب قوموں کو اچھا اور سچا بننے کا درس دینا چاہتے ہیں حالانکہ خود نہ اچھے ہیں نہ سچے۔ انسانی حقوق کی جو خلاف ورزی امریکہ بہادر نے کی ہوئی ہے وہ سب کو یاد ہے جب گوانتانا موبے جیل میں انسانوں کو پنجروں میں بند کرکے ان کو کھانے میں انسانی غلاظت دی جارہی تھی تو میری طرح اور بھی کئی لوگ چیخ پڑے تھے۔ میں نے لکھا تھا جس کا عنوان تھا “The Supreme Cicilization cages human beings”
”انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون“ ایک انگریزی اخبار نے تارہ ترین صورتحال کچھ اس طرح بیان کی ہے ”اقوام متحدہ کی نیلی ٹوپی والی امن فوج جس کی ٹوپی کا رنگ ہی امن اور پیار کا نشان ہے وہ جس جس ملک میں تعینات ہیں وہاں حیران کن جرائم کررہے ہیں جن میں سب سے زیادہ جنسی جرائم ہیں وہ بھی کم عمر لڑکوں کے ساتھ اور جب انسانی حقوق کے سربراہ اینڈس کومپاس یہ حقائق اقوام متحدہ کے نوٹس میں لائے تو اس کی جرا¿ت پر اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہی دنوں روسی فوجیں گزشتہ کئی روز سے ہسپتالوں اور طبی مراکز پر ”غوط“ میں اندھا دھند گولہ باری کررہی ہیں۔ تباہی کے یہ مناظر دیکھ کر بہت سے لوگ ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں اور خواتین اپنے کپڑے پھاڑ کر چیخ چیخ کر دوڑنے لگتی ہیں۔ میں نے ایسے ہی مناظر کو سامنے رکھ کر کچھ اشعار کہے ہیں اللہ میاں کے سامنے شاید یہ گستاخی ہو جس کے لئے میں معافی مانگ لوں گی لیکن علامہ اقبال جن کی میں خاک برابر بھی نہیں ہوں ان کے شکوہ جوابِ شکوہ سے کچھ حوصلہ پاکر اپنے دل کا درد بیان کررہی ہوں۔
دعویٰ یہ ہے کہ انساں کو بنایا ہے بصورت اپنی
دعویٰ یہ ہے کہ انساں کو عطا کی ہے بصیرت اپنی
پھر یہ انسان کو حیوان بنایا کس نے
جو لہو پیتا ہے انسان کا حیواں کی طرح
گولہ بارود ہیں زیور اس کے
خونِ آدم سے چمکتے ہیں یہ زیور اس کے
ہم کیوں روز مرتے جیتے ہیں
آنکھیں کیوں پھیر لی ہیں کُن کے بعد
جواب شکوہ:۔
ہم نے انساں کو روشنی دی تھی
وہ اندھیروں میں خود بھٹکتا ہے
ہر سمت میں بے راہ رو
ہر جانب اندھا ہے
ایک اور خبر تھی۔ بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔ یورپ کے قابل ترین ڈاکٹروں اور اعلیٰ ترین ادویات اور سہولیات کے باوجود ان کا کینسر دوبارہ Develope ہوگیا ہے۔ ان سمیت پوری فیملی سخت اذیت میں مبتلا ہے۔ اللہ سے توبہ کے بعد یہ ضرور کہوں گی کہ اللہ خاتون اول کو اپنی امان میں رکھے۔ مجھے یا کسی عام آدمی کو بھی یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم سب دو بڑی حقیقتیں ہمیشہ سامنے نہیں رکھتے ”بیماری اور موت“ اگر سامنے ہوں تے میرے خیال میں ہم خود بھی اور دوسروں کو بھی سدھار سکتے ہیں۔ موت یقینا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن اگر ہم ذہنی اور روحانی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کرلیں تو میرے خیال میں بیماری کی اذیت کو کم کرسکتے ہیں اور اس پر کچھ رقم بھی خرچ نہیں ہوتی بس تھوڑا سا اپنے آپ کو بدنیتی‘ بددماغی‘ بے راہ روی اور بے جا ہوسِ جاہ سے بچانا ہوگا۔ میں اسی خبر کے آئینے میں اپنے کچھ اشعار لکھ رہی ہوں۔ بیگم صاحبہ اور ان کا خاندان کسی صورت صرف اپنے لئے نہ سمجھے یہ سب کیلئے ہیں۔
ساڈا تن ہے مٹی گارے دا
اےں طبیب حکیم دے وَس وچ نی
ایں نے ٹٹ جانا ہر صورت وچ
فِر مانڑ کریندا کیوں بندیا
چھڈ دھندا ہنڑ ایں لُٹ پٹ دا
کچھ اگلا ساز سمان وی کر
ایک چھوٹی سے اور خبر نے مجھ سے شعر کہلوادیا ہے۔ خبر تھی کہ ایک غریب خاتون جس کا شوہر گدانی ورکشاپ میں بڑے بڑے ناکارہ بحری جہاز توڑنے کی مزدوری پر کراچی گیا ہوا تھا‘ ماں اپنے چھوٹے سے گھرانے کو توڑ کر اپنے پانچ چھوٹے بچے جن میں چار بیٹیاں تھیں‘ اپنے دوست کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ دل دہلادینے والا منظر یہ تھا کہ بچے بھوک سے بلک بلک کر سوگئے۔ دوسری صبح جب لوگ اندر داخل ہوئے تو وہ بیہوش تھے۔ ہمسایوں نے بچوں کے حصے بخرے کرلئے اور کوئی ایک کو اپنے ساتھ لے گیا تو کوئی دو کو۔ چونکہ میرے وسیب کے تھے آخری خبر آنے تک بڑی بیٹی جو صرف 9سال کی تھی‘کوایک بوڑھا بیٹی بناکر لے گیا اور کراچی جاکر اس سے شادی کرلی‘ اللہ اللہ خیر سلا۔ میرا شعر ملاحظہ ہو:
ہر ماں دا ناں سی پیار وفا
اُس ماں نوں کیویں ماں آکھاں
جیڑھی چھڈ بالاں نوں یار چلی
(کالم نگارسماجی ایشوزپر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved