تازہ تر ین

سرکاری اشتہارات نہیں سیاسی شخصیات کی تصاویر پر پابندی ہے

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے میڈیا کو جاری کیے جانے والے سرکاری اشتہارات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اے پی این ایس کی جانب سے پیش کردہ گائیڈ لائینز وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں کو بھجواتے ہوئے سی پی این ای کے صدر و چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد کو اپنی تجاویز آئندہ پیر تک عدالت میں جمع کرانے کاحکم جاری کردیا، دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے میڈیا کو اشتہارات جاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ صرف سیاسی شخصیات کی تصاویر والے اشتہارات جاری نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد کی نشاندہی پر کہ حکومتیں مخصوص میڈیا ہاﺅسز کو اشتہارات کے معاملے میں نوازتی ہیں، فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کو اشتہارات کی مساوی تقسیم یقینی بنائیں گے، یہ نہیں چلے گا کہ کوئی میڈیا گروپ تعلقات کی بنا پر زیادہ اشتہارات حاصل کرے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد کی سربراہی میں سی پی این ای اور اے پی این ایس کو مل بیٹھ کر مشترکہ گائیڈ لائینز طے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت 4 اپریل کوہوگی، منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو سی پی این ای کے صدر و چیف ایڈیٹر خبریں گروپ ضیا شاہد پیش ہوئے اور مو¿قف اختیا رکیا کہ حکومت میڈیا کو اشتہار جاری کرتے وقت امتیازی سلوک روا رکھتی ہے جس سے میڈیا ہاﺅسز متاثر ہوتے ہیں، بعض اوقات تو اخبارات نکالنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، حکومت کی جانب سے میڈیا ہاﺅسز کو اشتہارات کی تقسیم مساوی بنانا یقینی بنایا جائے، اشتہارات کو لیور ایج کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ گائیڈ لائن بھی ہونی چاہیے کہ سرکاری اشتہار کس کے لیے ہوناچاہیے، ضیا شاہد نے کہا کہ انہیں پچاس سال صحافت میں ہو گئے ہیں، دنیا میں کسی ملک کو قابو کرنے کے لیے عالمی بینک یا آئی ایم ایف اس ملک کی معیشت پر قبضہ کرتے ہیں جبکہ کسی ملک میں اخبار یا میڈیاکی معیشت کو قابو کرنے کے لیے اشتہارات کا استعمال کیا جاتا ہے، ہم نے پی آئی اے کے جہاز کی چوری کی خبر دی تو تین سال سے پی آئی اے نے ہمارے اشتہارات بند کردیئے، جبکہ سیل بنانے والی ایک کمپنی کے سیل انتہائی خراب ہیں جس کے خلاف اشتہارات کی بندش کے خوف سے کوئی خبر نہیں لگاتا، میڈیا پر ایسی قدغن کو کیسے روکا جائے، سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ کوئی فیکٹ فائینڈنگ کمیشن، کوئی قانون یا محتسب کا ادارہ بنادیا جائے کوئی نظام وضع کیا جائے تو ہماری نسلیں آپ کی ممنون ہوں گی، سرکاری اشتہارات کو سیاسی فائدہ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، ایک شخص نے مجھے اخبار میں خبر چھاپنے سے ڈرایاکہ پھر کبھی اشتہار نہیں ملے گا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہمیں پتہ چلاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس طرح کے ایشوز پرگائیڈ لائنز دی ہیں، دوسرا ایشو یہ ہے کہ سرکاری اشتہار بلاتفریق دیے جائیں، ہم اس ایشوکو الگ سے دیکھیں گے، فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اے پی این ایس اور سی پی این ای کا آپس میں مقابلہ ہے یانہیں یہ مجھے نہیں پتہ، ہم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اشتہارات کی تفصیلات طلب کی تھیں ان کوبھی دیکھ لیں، ہمارے سامنے جنگ ہے، نہ دی نیوز اور نہ ہی نوائے وقت، ہم نے ایک اصول وضع کرناہے، گائیڈ لائنز پر اعتراضات آئیں گے تو انہیں دیکھ لیں گیے، وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کو گائیڈ لائنز بھجوا دیتے ہیں،کسی کو اعتراض نہیں± ہو گا تو فیصلہ کر دیں گئے، جہاں دیکھا کہ میڈیاکی آزادی کو دبایا جارہا ہے تو تجاویز لیں گے، ابھی گائیڈ لائنز دیکھ رہے ہیں، اگلے مرحلے میں اشتہارات کی شفاف تقسیم کو بھی دیکھیں گئے، چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت نے کسی کے اشتہارات کو نہیں روکا، عدالت نے تصویر والے اشتہار کو بند کیا، آئندہ کسی سیاسی شخصیت کی سرکاری اشتہار پر تصویر نہیں ہو گی، اس موقع پر اے پی این ایس کے صدر سرمد ملک نے کہا کہ عوامی پیسوں سے کوئی بھی حکومت تشہیری مہم جاری نہیں کرسکتی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اسی لیے ازخود نوٹس لیا ہے، یہ کام اپنی ذمہ داری سمجھ کرکررہے ہیں، حکومتیں اپنی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں ،سیاسی تشہیر کے لیے اپنا پارٹی فنڈ استعمال کریں، سرکاری پیسے سے اشتہار پری پول دھاندلی ہوتی ہے، عدالت میں موجود سردار خان نیازی نے احمد رضا قصوری ایڈووکیٹ کے ذریعے مقدمے میں فریق بننے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہم فریق بننے کی اجازت دیں، یہ لارجر ایشو ہے، ہم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اشتہارات کی تفصیل طلب کی تھیں ان کوبھی دیکھ لیں، چیف جسٹس نے سیکرٹری اطلاعات کے پی کے سے استفسار کیا کہ آپ اشتہارات کی تفصیل لائے ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ تین ماہ کے دوران جاری کیے گئے اشتہارات کی تفصیلات پیش کر چکے ہیں جن میں میڈیا کی تین کیٹگریز کو تین ماہ کے دوران 24کروڑ روپے کے اشتہارات دئیے گئے اس میں ٹی وی چینلز، اخبارات اور ریڈیو شامل ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے صرف تشہیر پر 24کروڑ روپے خرچ کردیئے، کیا ان اشتہارات میں وزیراعلیٰ یا پارٹی چئیرمین کی تصویر بھی چھپی ہے جس پر سیکرٹری نے کہا کہ انہوں نے بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں بتایا ہے کہ کوئی تصویر شائع نہیں ہوئی، اس موقع پر پنجاب کی وکیل عاصمہ حامد پیش ہوئیں تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے 55 لاکھ کا چیک جمع کرایا یا نہیں اس پر انہوں نے کہا کہ عدالت نے نوٹس جاری کیا تھا ہم جواب جمع کرائیں گے، انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شائع ہوئی ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے پیسے کون دے گا، سندھ کے نمائندے بتایا کہ سرکاری اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شائع نہیں ہوئیں، عدالت نے مزید سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کہنہ مشق صحافی، معروف تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں سرمد علی صاحب اے پی این ایس کی طرف سے حاضر ہوئے۔ جبکہ سی پی این ای کی جانب سے میں حاضر ہوا تھا۔ چاروں صوبوں کے سیکرٹری انفارمیشن کل بھی آئے تھے۔ اور آج بھی پیش ہوئے۔ اے پی این ایس نے ایک ڈرافٹ منظور کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں بھی اس سے اتفاق کروں۔ اگر وہ پہلے مجھے بھیج دیتے تو میں اسے دیکھ لیتا۔ میں نے کہا کہ اسے پڑھ کر اپنی رائے دے سکتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ میں آپ کے چند منٹ لینا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ایک زمانے میں آزادی صحافت پر اتنی زیادہ پابندیاں ہوتی تھیں کہ ڈیکلریشن ہی نہیں ملتا تھا۔ اس زمانے میں لوگوں کو جیلوں میں ٹھونسا جاتا تھا۔ میں خود کتنی مرتبہ جیل گیا۔ میں 14 دن شاہی قلعہ میں بھی رہا۔ میں نے اپنے اخباروں کی بندش کروائی۔ میرے بہت سے ساتھیوں نے جیلیں دیکھیں۔ اور سزائیں بھگتیں۔ بہت قربانیاں دیں۔ لوگوں نے اپنی جانیں اور مال قربان کئے۔ مارشل لا کے ایک دور میں تو اخبار نویسوں کو کوڑے بھی مارے گئے۔ ان تمام حالات کے باوجود ہم رفتہ رفتہ آزادی صحافت کی جانب بڑھے جناب چیف جسٹس صاحب یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ ہماری منزل آن پہنچی ہے۔ دنیا میں چھوٹے ممالک کو آئی ایم ایف کے ذریعے ورلڈ بینک کے ذریعے ایشین بینک کے ذریعے، مختلف قسم کی مالیاتی تنظیموں کے ذریعے انہیں مجبور کیا جاتا ہے۔ قرضہ حاصل کرنے والوں پر کڑی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ میں نے کہا جناب! بالکل اسی طرح سے پاکستان کے اخبارات کو سب سے بڑا درپیش مسئلہ اشتہارات کا ہے۔ اخبار پر آنے والا خرچہ اتنا زیادہ ہے۔ صرف قیمت فروخت پر اخبار کو نہیں چلایا جا سکتا۔ کیونکہ سارے اخبار، کاغذ خریدتے ہیں، مشینری خریدتے ہیں۔ فلمیں خریدتے ہیں۔ نیوز پرنٹ خریدتے ہیں۔ بجلی کے بل ادا کرتے۔ ورکروں کو تنخواہیں دیتے ہیں۔ جناب اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اشتہارات کی خدمات پیش کی جائیں۔ ایوب خان کی حکومت سے لے کرجناب! میں نے آج تک کوئی ایسا دور نہیں دیکھا۔ جس میں اشتہارات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا گیا ہو۔ جناب! اگر آپ حکومت کی بات نہیں مانتے۔ آپ حکومت کی تعریف نہیں کرتے۔ اس کے برعکس کڑی تنقید کرتے ہیں۔ آپ کی باتیں ان کو ناپسند ہیں۔ تو اشتہارات بند کر دیئے جاتے ہیں۔ بلکہ سرکاری کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ میں نے کہا جناب چیف جسٹس صاحب! میں چار مثالیں پیش کرتا ہوں۔ اس سپریم کورٹ سے ایک زمین بیچنے والے ادارے کے بارے فیصلہ آیا۔ اتنی ہزار کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔ جناب اس ادارے نے اخبارات سے کہا چینل سے کہا۔ آپ ہر چیز صحیح نہ چھاپیں۔ نہ ٹی وی پر چلائیں۔ میں نے کہا جناب یہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ہم آپ کو کروڑوں کے اشتہار دیتے ہیں۔ جو آدمی ہمارا کہنا نہیں مانے گا اور جو ادارہ ہمارے خلاف خبریں چھاپے گا۔ چاہے وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی کیوں نہ ہو! ہم اس کے اشتہارات بند کریں گے۔ میں نے کہا جناب آپ 24 گھنٹے انتظار کریں۔ اور چیف جسٹس صاحب میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جب اگلے روز کسی چینل نے وہ خبر نہیں چلائی۔ کسی اخبار نے خبر نہیں چھاپی۔ حالانکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا۔ دوسری مثال یہ دی ایک کمپنی جسے موبائل کمپنیاں کہا جاتا ہے ایک بڑی کمپنی کے سگنل صحیح نہیں آ رہے تھے چار ماہ تک ایسا ہوا اس کے کنکشن کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ لہٰذا ان کو دقت پیش آ رہی تھی۔ لیکن تمام اخبارات سے رابطہ کر کے اس سیل کمپنی نے کہا جو کوئی ہم سے لاکھوں کے اشتہار لیتا ہے۔ ہم اس کے اشتہارات بند کر دیں گے۔ ہمارے خلاف کوئی خبر نہیں چھپے گی۔ تیسری مثال یہ دی کہ لاہور میں ایک گیس کمپنی نے اس بنیاد پر ایک اخبار کے اشتہارات بند کر دیئے تھے کہ اس کے گیس کے کنکشن میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ چوتھی مثال یہ دی کہ پی آئی اے کا ایک طیارہ اغوا ہو گیا تھا۔ جن اخبارات نے اس خبر کو تفصیل سے چھاپا اور اس کے فالو اپ چھاپے۔ پی آئی اے نے ان اخبارات کی فلائٹس کے لئے خریداری بند کر دی اور ان اخبارات کے اشتہارات کو بند کر دیا۔ میں نے ان چار مثالوں کے علاوہ ان سے کہا کہ حکومتوں کے اداروں کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ حکومتی ادارہ ہونے کے باوجود، اگر وہ بجلی، گیس یا پانی کی کمپنی سے اگر آپ ناراض کر دیں تو وہ آپ کے اشتہارات بند کر دیئے ہیں۔ میں نے کہا جناب چیف جسٹس صاحب! کوئی ادارہ، کوئی عدالت ایسی ہونی چاہئے، جس کادروازہ اخبارات ان معاملات کے لئے کھٹکھٹا سکیں میں نے ان سے پوچھا جب پریس کونسل بنی تھی۔ تو یہ بتایا گیا تھا کہ اخبارات بھی اس میں شکایات لے کر جائیں گے۔ لیکن چیف جسٹس صاحب آپ ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں کہ پریس کونسل آف پاکستان صوبائی ادارے کو کسی قومی ادارے کو یا وفاقی حکومت کو یا صوبائی حکومت کو آج تک بطور ملزم طلب کیا ہے۔ یہ سارا سلسلہ کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ میری گزارشات کے جواب میں چیف جسٹس صاحب نے کہا۔ آپ نے آزادی صحافت کے رستے میں حائل جن مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ ان پر پہلے کبھی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی۔ اگلے پیر کو آپ ان باوں کو تحریری شکل میں پیش کریں۔ ہم ان پر غور کریں گے۔ آخری مسلہ یعنی سرکاری اشتہارات کی بندش اس پر بڑی بحث ہوئی۔ اس پر سپریم کورٹ اور ان کے ساتھی ججز نے بھی متعدد سوالات کئے اور اس کے نتیجے میں مشروط طور پر اشتہارات کھول دیئے گئے اور کہا گیا کہ ان اخبارات میں جن سیاسی شخصیات نے اپنی تصاویر چھپوائی ہیں وہ ان کی ادائیگی کا انتظام خود کریں البتہ کے پی کے کے سیکرٹری نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق ان کے اشتہارات میں عمران خاں اور پرویز خٹک کی تصویر نہیں تھی لہٰذا ان کی بچت ہو گئی۔ لیکن باقی صوبوں کی یہ پوزیشن نہیں تھی۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا منصوبوں کی پبلسٹی کی جا سکتی ہے لیکن شخصیات کی نہیں کی جا سکتی۔ ورنہ اس شخصیت کو جو اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے تو اسے ادائیگی اپنی جیب سے کرنی پڑے گی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved