تازہ تر ین

سینٹ انتخابات کا آئندہ سیاست پراثر

اکرام سہگل ….توجہ طلب
حکمران اتحاد کا موقف ہے کہ سینیٹ الیکشن ان کے ہاتھ سے ”چھین“ لیا گیا اور حزب اختلاف کے پینل کو توقع کے برخلاف زیادہ ووٹ ملے۔ کوئی شے اسی وقت کسی کے ہاتھ سے ”چھینی“ جاسکتی ہے جب وہ اس کے ہاتھ میں بھی تو ہو۔ کیا انتخابات کے انعقاد سے پہلے واقعی سینیٹ نواز شریف کے ”پاس“ تھی؟کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ ہمارے ”جمہوری“ جاگیردار لیڈر کبھی ”مقامی حکومتوں“ کو چلنے دیں گے۔ اگست 2015کے ”ٹیلی گراف“ میں لیو مک انسٹری نے بالواسطہ انتخاب پر جو شدید تنقید کی تھی وہ پاکستان میں جاری صورت حال کی جھلک بھی اس میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا:”دارالامرا کا تسلسل برطانوی سیاست پر بزدلی اور جمود کی فرد جرم کے مترادف ہے۔ جدید جمہوریت میں اس قدر بڑے اور فرسودہ ایوان کی کوئی گنجایش نہیںاس کے وجود کو جواز فراہم کرنے کے لیے پیش کی جانے والی ہر دلیل غلط ہے۔ اس کا دفاع کرنے والے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایوان دانش مند سیاسی مدبرین، اعلیٰ پائے کے ماہرہن اور ممتاز سرکاری ملازمین سے بھرا پڑا ہے۔ اس بات میں اب سچائی باقی نہیں رہی۔ اس کے ارکان میں طاقت ور کونسلرز، سیاسی جماعتوں کے عہدے داران، ناکام ارکان پارلیمان اور پارٹیوں کو چندہ دینے والوں کی اکثریت ہے۔“ ہمارے ہاں ”بالواسطہ“ منتخب ہونے والی سینیٹ مک انسٹری کی ان سطور پر پوری اترتی ہے۔ اس بالواسطہ انتخاب میں فریب کاری اور چال بازی کا بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جاگیردارانہ نظام کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اسے جمہوری تصورات کی توہین ہی کہا جاسکتا ہے۔
بالواسطہ منتخب ہونے والے یہ افراد بعد میں بالواسطہ منتخب ہونے والے صدر کے لیے حلقہ انتخاب بنتے ہیں اور نظام مزید کرپشن کا شکار ہوتا ہے۔ رومی جمہوریہ میں زیادہ تر حکام ، سینیٹ کے ارکان کے بشمول، گنے چُنے دولت مند اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے آتے تھے۔ طاقتور رومیوں کی اقلیت شاطرانہ حربوں سے پورے نظام پر مضبوط گرفت قائم رکھے ہوئے تھی۔ ہمارے ہاں منتخب ہونے والے سینیٹر اپنی مقبولیت، اہلیت، یا دیانت کے بل بوتے پر ایوان میں نہیں پہنچتے اور نہ ہی وہ دنیا بھر میں مروج طریقہ انتخاب میں کام یابی حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہ بیس صدیوں پرانی رومی سینیٹ سے کسی بھی طور مختلف ہیں؟ ہم سینیٹ نشستوں پر ایسے لوگوں کو انتخاب تو کیا روکتے جو اسے اپنا ”پیدائشی حق“ سمجھتے ہیں، اس سے بڑھ کر بالواسطہ انتخاب نے ایک اور بدترین صورت اختیار کرلی ہے۔ برسوں سے ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اپنے خدمت گزاروں کو نوازنے یا جن سے کوئی کام لینا ہو انھیں رجھانے کے لیے یہ نشستیں بانٹنا شروع کردی ہیں۔ غیر جمہوری طور طریقوں نے کرپشن، اقربا پروی اور من پسند افراد کو نوازنے جیسی قباحتوں کو پاکستانی نظام کا حصہ بنادیا ہے۔ سینیٹ انتخابات 2018 کو سبھی ”جمہوری“ پارٹیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں اس کے طریقہ¿ انتخاب کی اصلاح ناگزیر ہوچکی ہے۔
تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی دینا ہی کافی نہیں۔ اچھے طرز حکمرانی کے ہدف حاصل کرنے کیلئے سینیٹرز کو پاکستان کے وفاقی نظام کا گہرا فہم حاصل ہونا چاہیے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نظام کیوں مو¿ثر انداز میں فعال نہیں۔ انہیں ایوان کی کارروائی چلانے کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط ہی کا علم ہونا ضروری نہیں بلکہ دیگر قابلیتوں کے ساتھ عوامی خدمت ، پیشہ ورانہ شعبوں میں کام کا تجربہ بھی ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے منصب کی مدت پوری کرنے کے ساتھ کوئی مثبت تبدیلی لانے کے لیے بھی کام کرنے کے قابل ہوں۔ موجودہ طریقہ کار میں سینیٹ کے لیے ”چنیدہ“ افراد بالواسطہ ”منتخب“ ہوجاتے ہیں۔ اس عمل میں ہارس ٹریڈنگ کے بدترین الزامات نے جمہوریت ہی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ مدتوں سے یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ سینیٹ میں بھی کھلے عام رائے دہی اور براہ راست انتخاب کاطریقہ اپنایا جائے۔ تبھی اس ایوان کا اعتبار قائم ہوگا اور اس پر صرف ہونے والے کثیر قومی سرمائے سے صرف نظر کیا جاسکے گا۔
اگرچہ سینیٹ کی بنیاد تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی فراہم کرنے کے تصور پر رکھی گئی تھی لیکن یہ اپنے اصل مقصد کے برخلاف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کا ایوان بن چکا ہے۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے لیے ہونے والے حالیہ انتخاب میں یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے لیے لین دین اور بھید بھاو¿ میں مصروف رہیں، ان میں سے کچھ کے نام آخری وقت تک راز میں رکھے گئے۔ 2018کے سینیٹ انتخابات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی قیادت جمہوریت کا کتنا فہم رکھتی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کتنی آمادہ ہے۔ یہ سینیٹ انتخابات ہمارے سیاسی منظر نامے پر ، آئندہ عام انتخابات کے دوران بھی اثرانداز ہوں گے۔ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ وفاداریوں کی خرید و فروخت اس انداز میں آئندہ عام انتخابات(جب بھی منعقد ہوں) میں سامنے نہیں آئے گی۔ نواز شریف پہلے ہی سپریم کورٹ سے نااہلی کے خلاف ووٹ کو حقیقی فیصلہ قرار دے چکے ہیں اور ان کی ساری تگ و دو بھی اسی لیے ہوگی، چاہے ان کی ان کوششوں سے پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے ہی کیوں نہ اُتر جائے۔
(فاضل مصنف دفاعی اور سکیورٹی تجزیہ کارہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved