تازہ تر ین

”رویت نیا پاکستان کمیٹی“

توصیف احمد خان
عمران خان صاحب نے اعلان کردیا …..اعلان کیا …خبر دیدی…..بہت بڑی خبر….. انتخابات میں تو ابھی کئی ماہ باقی ہیں مگر انہوں نے ان انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا ہے ، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ پہلے سے نتائج کا اعلان کررہاہوں اور نتائج یہ ہیں کہ اگلا الیکشن ہمارا ہوگا، یعنی عمران خان اور انکی تحریک انصاف فاتح قرار پائیگی، انکے اعلان کے مطابق تو وہ وکٹری سٹینڈ پر پہنچ چکے ہیں ، شاید شیروانیوں کا انتظار ہے ، وہ پہنے بغیر ہمارے یہاں اقتدار کا کھیل مکمل نہیں ہوتا کہ اقتدار اور شیروانی لازم و ملزوم قرار پاچکے ہیں، لگتا ہے درزی اتنی جلدی شیروانیاں سینے کیلئے تیار نہیں تھا، جتنی جلدی عمران خان نے وکٹری سٹینڈ کو قابو میں کرلیا ہے ۔
ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ وہ آٹھ حلقوں سے الیکشن لڑینگے اور نیا پاکستان زیادہ دور نہیں ، اللہ کرے انکا کہنا درست ثابت ہو اور نیا پاکستان جلد نظر آجائے ، ایسا نہ ہوکہ اسے دیکھنے کیلئے بھی مفتی منیب الرحمن یا کسی اور کی سربراہی میں ”رویت نیا پاکستان “ کمیٹی بنانا پڑے ، عمران خان نے یہ خطاب ملتان میں کیا ہے اس لئے مذکورہ کمیٹی کیلئے مفتی منیب کی بجائے مفتی عبدالقوی مناسب رہیں گے کہ وہ ملتانی ہیں اور کمیٹی پر ملتانیوں کا حق زیادہ ہے ، رہ گئی آٹھ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی بات ….. ضرور لڑیں بلکہ مزید حلقوں کو عزت بخشیں مگر ہمارا مشورہ ہے کہ ایاز صادق کے حلقے کا رخ نہ کریں ، وجہ اس کی یہ ہے کہ بار بار کی کوشش کے باوجود اس حلقے نے عمران خان کے ساتھ وفا نہیں کی اور دھوکہ ہی دیا ہے ، پتنگ باز سجناں کے وزن پر دھوکے باز سجناں کا کیا اعتبار۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان نے انتخابات سے بہت پہلے اپنی فتح کا اعلان کیوں کردیا، یقینا یہ خیالی فتح نہیں ہوگی کہ موصوف عملی آدمی ہیں، خیالی پلاو¿ پکانے کے عادی معلوم نہیں ہوتے ، یہ طوطے کی فال بھی نہیں ہوسکتی ، البتہ پیر جی کی کرامت ضرور ہوگی ، کہ جا بچہ تو جیتے ہی جیتے ، واضح رہے کہ ہم نے پیر جی کی کرامت کہا ہے …..اگر یہ شیخ رشید کی دی ہوئی خبر ہے اور عمران خان نے اس پر یقین بھی کرلیا ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ، کیونکہ شیخ صاحب کے اب تک تو ننانوے فیصد سے زیادہ دعوے اپنی موت آپ مرچکے ہیں اور اس فرزند ِ راولپنڈی کو پھر نئی تاریخیں دینا پڑتی ہیں، معلوم نہیں وہ ان تاریخوں کا حساب بھی رکھتے ہیں یا نہیں، ویسے لال حویلی میں عملے اور کارکنوں کی تو کمی نہیں ، ممکن ہے حساب کتاب کیا جاتا ہو، اس طرح انہیں نئی تاریخ دینے میں آسانی رہتی ہوگی۔
اس سب کچھ کے برعکس ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے عمران کے دل میں بلوچستان کی محبت ڈال دی ، اس خبر کے خالق بھی وہی ہیں ممکن ہے اس طرح کی خبریں انہوں نے کسی ایک یا زیادہ لوگوں کو بھی دی ہوں، آخر کچھ اور لوگ بھی تو صادق اور امین قرار پائے ہیں، ان لوگوں کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ عمران خان کے ہاتھوں بلکہ انکی زبانی صادق سنجرانی بہت بڑے صادق اور آصف زرداری بہت بڑے امین کے طور پر سامنے آئے ہیں، یہی کچھ ہوتا رہا تو صادق کی ”صداقت “ اور زرداری کی ”امانت“ اس ملک میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرجائیں گی ، جب کوئی کسی کو بددعا …..نہیں !نہیں …..دعا دیگا تو یوں کہے گا کہ اللہ تمہیں صادق سنجرانی جیسا صادق اور زرداری جیسا امین بنائے کہ لوگ تیرے سائے کے بھی قریب نہ آئیں ، دیکھیں قلم پھر بہک گیا حالانکہ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ تیرے سائے میں ”پناہ“ حاصل کریں۔
عمران خان کی سیاست کے رنگ بھی عجیب ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ چین کے ماضی کے عظیم رہنما اور جدید چین کے بانی ماو¿زے تنگ کے افکار سے متاثر ہیں، ماو¿زے تنگ کا قول تھا کہ امریکہ کا دشمن ہمارا دوست اور امریکہ کا دوست ہمارا دشمن ہے، اگرچہ آج چین کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اورچینی ماو¿زے تنگ کو اس کے افکار سمیت فراموش کرچکے ہیں لیکن ہمارے رہنما نے اس کو اپنا لیا ہے کہ نوازشریف کا دشمن ہمارا دوست اور نوازشریف کا دوست ہمارا دشمن ہے ، غالباً اس مقولے کے تحت سینٹ کے انتخابات میں آصف علی زرداری کے ساتھ ہاتھ ملایاگیا ہے، یہ ہاتھ ملانا عملی شکل میں نہیں علامتی طور پر ہے ، سوال یہ ہے کہ نوازشریف اور آصف زرداری میں اس قدر دشمنی موجود بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ، کوئی پتہ نہیں یہ ظاہر داری ہو اور کل کلاں دونوں ایک ہو جائیں ، پھر ہم کیا کرینگے ۔
عمران خان کو حکومت مل جائے …..! ہمیں اس پر تو کوئی اعتراض نہیں مگر وہ قوم کو جو خوبصورت اور سہانے خواب دکھا رہے ہیں کیا انکی تکمیل ممکن ہوگی، خصوصاً جبکہ ملک معاشی مسائل کے گرداب میں پھنستا جارہا ہے اور عالمی اداروں نے بھی دانت تیز کرلئے ہیں، قارئین نے آئی ایم ایف کی وہ رپورٹ تو دیکھ ہی لی ہوگی جس میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے ، اس میں خصوصی طور پر زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کا ذکر ہے ، بجٹ خسارے کو بھی موضوع بنایاگیا ہے ، اس کے ساتھ ہی مشورہ دیا گیا ہے کہ ٹیکس چھوٹ ختم کردی جائے، کرنسی کی قیمت کم کی جائے ، جبکہ بجلی و گیس مہنگی کردی جائے، یہ مشورہ حکم کی ہی ایک شکل ہے ، ہم منت سماجت کرکے کچھ رعایت حاصل کرلیںتو کرلیں ورنہ ہمیں اس پر عمل کرنا ہی پڑیگا، جولائی یا اگست میں بننے والی نئی حکومت کیلئے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہوگا، لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ عمران خان کا خواب پورا ہو، ایسا نہ ہو کہ آنکھ کھلنے پر کچھ بھی نظر نہ آئے …..اقتدار کے خواب کے ساتھ ساتھ وہ خواب بھی پورے ہوں جو انہوں نے ملک کے بارے میں دیکھ رکھے ہیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved