تازہ تر ین

مفتاح اسماعیل‘پی آئی اے اورسٹیل مل!

اعجاز شیخ……..معیشت نامہ
یہ ایک درد ناک حقیقت ہے کہ وطن عزیز پرعرصہ دراز سے ایک ہی طبقہ حکمرانی کر تا چلا آرہا ہے ۔ چوروں ، ڈاکوﺅں پر مشتمل اس گروہ نے جمہوریت کے نام پر اس تسلط جما لیا ہے ۔ کہ ان سے نجات نظر نہیں آتی۔ ان کا واحد کا م اپنے مفادات کا تحفظ اور قومی وسائل کی لوٹ مار ہے ۔ وطن عزیز کو سب سے زیادہ نقصان انہی نا اہلوں سے ہوا ہے جنہوں نے مغربی جمہوریت کے بل بوتے پر ایسے کلیدی عہدے لے لےے ہیں جو ملک کی معیشت کو چلانے کے لےے قابل ہی نہیں ۔ ان غیر مستحق اور کرپٹ سیاستدانوں نے طبقاتی اور مفاداتی پا لیسیاں بنا کر اداروں کی ساکھ کو تباہ اور معیار کو غیر معیاری کر دیا ہے ۔ اس کے باوجود یہ حضرات عرف عام میں وی آئی پی کہلاتے ہیں ۔ اس سے جمہوری نما نظام میں عوام غریب سے غریب اورامیر امیر سے امیرتر ہو تے جا رہے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب عوام ایسی جمہوریت سے تنگ ہو گئے ہیں ۔ یہ کہنا بھی بہت مناسب ہے کہ مو جودہ ابتری اور افلا س کی وجہ ان کی نا کام پالیسیاں ہیں ۔ حال ہی میں مفتاح اسماعیل مشیر برائے خزانہ کا بیان سن کر عوام کو بڑا دکھ ہوا کہ قومی ایئر لائن PIAکے قرضہ جا ت کو ادا کریں اورپا کستان کی سٹیل ملز یعنی ایک ڈالر میں لے لیں ۔ ان کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کر تا ہے کہ ہما رے سیاسی رہنماﺅں کے آگے قومی اداروں کوفروخت کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ جب کہ ایک ادارے کو بنانے اور چلانے میں بہت سالوں کی محنت درکار ہو تی ہے ۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے بھی اپنے دور میں 98 ایسے اداروں کو نجکا ری کے تحت کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کیا‘ جن کی مالیت آج اربوں ڈالر ہے ۔ قرض اتارو ملک سنوارو سے اداروں کی فروخت سے حاصل ہو نے والی رقم سے کیا قر ض اترا اس کا جواب دینے کے لےے کوئی تیار نہیں ۔ موجودہ اپنے دور میں نو از گورنمنٹ 12500 ارب روپے کا قرض لینا بھی اس سنہری دور میں ممکن میں ہو سکتا ہے ۔ اب مجموعی قرضوں کا حجم تقریباً 85 ارب ڈالر تک جاپہنچنا اس بات کی دلیل ہے کہ نام نہا د سکیموں کے ذریعے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال ہو اہے۔ نتیجتاً ہما رے زر مبادلہ کے ذخائر تقریباً 12.50 ار ب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ جولائی کے بعد آئی ایم ایف کے قرضوں کی اقساط بھی واجب الادا ہیں ۔ لہٰذا آئندہ بجٹ میں عوام کو مختلف ٹیکس لگا کر مزید شکنجے میں کسا جا ئے گا ۔ مالیاتی اداروں کی فروخت سے نجکا ری کے نام پر کس کے حصے میں کیا کیا آیا وہ ایک طویل داستان ہے ۔ پچھلے ادوار جن میں نواز شریف اور مشرف کی حکومت نے پی ٹی سی ایل ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو نجکاری کے نام پر ان لوگوں کے ہا تھوں فروخت کیا جو ان کو خریدنے کے اہل ہی نہیں تھے ۔ پاکستان اسٹیل ملز جیسے عظیم ادارے کو جن کو پچھلی حکومت بھی بے حال کرکے بیچنے کے لےے تیار تھی اور اب مو جو دہ حکومت بھی اس کو مفت دینے کے لےے کو شاں ہے ۔” پا کستان اسٹیل ملز ایک قومی ادارہ ہے ۔ جسے پرویز مشرف اور شوکت عزیز کے دور میں صرف 21 ار ب 68 کروڑ روپے میں ایک من پسند گروپ کو فروخت کر دیا تھا ۔ جتنی رقم میں یہ فروخت کیا گیا اس سے زیادہ رقم کا اس کا 165میگاواٹ کا پاور ہا وس ہی تھا۔ جس کی قیمت اس وقت 21ار ب 85 کروڑ روپے بنتی تھی ۔ پا کستان سٹیل ملز کی بنیاد روس کے تعاون سے 1968 میں کراچی میں رکھی گئی ۔ اور 1984 میں ہر لحاظ سے مکمل آپریشنل ہو گئی تھی ۔ 19 ہزار ایکٹر اراضی پر قائم اس اسٹیل ملز نے 2004 اور 2005 میں تیس ارب روپے کی مالیت کی اپنی مصنوعات بنا کر فروخت کیں ۔ اس وقت 15 ہزار سے زائد خاندان خوشحالی کی زندگی بسر رہے تھے ۔نوازشریف کے دوسرے دور میں اس ملز کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ مگر ملکی اور قومی مفاد ات کی بناءپر مجبوراً یہ فیصلہ ترک کرنا پڑا ۔ شوکت عزیز نے بھی اس زمانے میں اسے فروخت کرنے کے لےے پر اسرار طریقے اپنائے جس کا عام آدمی کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔ سب سے دلچسپ قدم پرویز مشرف اور شوکت عزیز نے پا کستان اسٹیل ملز کی طرف سے 2013 تک واجب الادا قرضے بھی ادا کر دئےے ۔ جب کہ اس وقت پا کستان اسٹیل ملز کے نیشنل بینک کے اکاﺅنٹ میں 8.559 ارب روپے کی نقد رقم موجود تھی ۔ جس میں سے 7.77 ار ب روپے کا وہ قرضہ جس کی ادائیگی 2013 سے شروع ہو کر 2020 تک سات برابر قسطو ں میں مکمل ہو نی تھی۔ وہ حکومت نے بعدکی تاریخ کے چیک پیش کر کے ادا کر دیا اور قرضے کے سود کی ادائیگی وفاقی خزانہ نے اپنے ذمہ لے لی ۔ اس کے علا وہ حکومت پا کستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے لےے قومی خزانہ سے 7.50 ارب روپے بھی ادا کرنے کی ذمہ دار اٹھائی۔“ ( از پاکستان کے مالیاتی سکینڈل ۔ وسیم شیخ) پا کستان اسٹیل ملز کی کہانی کو بیان کر نے کے لےے بہت سا وقت اور ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے ۔ یہ کہنا بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہما رے سیاسی شعبدہ باز اکابرین ایسے شاندار اداروں کی فروخت سے جو مالی
فوائد حاصل کےے وہ تو ہےں ہی مگر اس کے مقابل میں ایسی ملزکی بنیاد رکھنا منا سب خیال نہ کیا ۔ حکمرانوں کو اقتدار کی ہوس اور دولت کمانے کے جنو ن میں یہ یا د نہ رہا کہ گھر کے برتن فروخت کرکے گھر باقی نہیں رہتا ۔ انہوں نے غیر ملکی قرضوں میں وطن عزیز کو یوں پھنسوا دیا کہ آئندہ بننے والی حکومت بھی 5/10 سال تک سنبھل نہیں پائے گی کیونکہ ملک خداد داد کا مال و زر مملکت کے خزانوں سے نکل کر انفرادی ہاتھوں میں منتقل ہو چکا ہے اور نام نہا د جمہوری پارٹیوں کے زیر تسلط ہے ۔ سو درماندگی کی یہ تصویر ہمہ وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔
(ماہرمعاشیات اورمعاشی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved