تازہ تر ین

اقامہ کیا ہے؟

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
میڈیا میں اور سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کی گفتگو میں اقامہ کا ترجمہ ورک پرمٹ (WORK PERMIT) کیا جا رہا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اپنے 28 جولائی 2017ءکے فیصلے میں بھی اس کا یہی ترجمہ تحریر کیا ہے۔ حقیقاً اِقامہ کا مطلب ورک پرمٹ نہیں‘ ریزیڈینسی پرمٹ (Residency Permit) ہے۔ قیام کا‘ عارضی طور پر رہائش کا اجازت نامہ۔
اگر آپ ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس پاسپورٹ موجود ہو۔ اس کے بغیر آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ جس ملک میں آپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں آپ کے پاس اس ملک کا ویزا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آپ اس ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔ یہ دو شرائط دنیا کے تمام ممالک کے لئے ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط ہیں۔ اگر آپ نے کسی عرب ملک میں کام کرنا ہے تو آپ کے پاس کفالہ ہونا ضروری ہے۔ یہ کفالہ وہاں آپ کا کفیل آپ کو دیتا ہے۔ کفیل وہ شخص ہے جو آپ کا آجر ہے۔ یعنی آپ وہاں جس کی ملازمت میں ہیں۔ اس کفالے کے بغیر آپ وہاں کام نہیں کر سکتے۔ کفالہ ورک پرمٹ ہے۔ ملازمت کا معاہدہ۔ اگر آپ ایک شخص (کفیل) کی ملازمت چھوڑ کر دوسرے شخص کی ملازمت میں جاتے ہیں تو اس کی خاطر بھی قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ اس کے لئے آپ کی جو دستاویز دی جاتی ہے اسے نقل کفالہ کہتے ہیں۔ یعنی کفالے کی ایک آجر (کفیل) سے دوسرے کفیل کو منتقلی۔
لیکن اس ملک میں قیام کے لئے شرائط کی فہرست ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ 2 دو چیزیں ابھی باقی ہیں۔ ایک چیز ہے بطاقہ۔ بطاقی کا لفظی مطلب ہے پرچہ‘ کاغذ کا ٹکڑا۔ جبکہ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے: شناختی کارڈ۔ یہ بطاقہ یا شناختی کارڈ جب تک آپ اس عرب ملک میں رہتے ہیں آپ کے پاس رہتا ہے۔ بلکہ ہونا ضروری ہے۔ دوسری چیز ہے اقامہ یعنی وہاں قیام کا اجازت نامہ۔ Residency permit۔ اگر آپ کے پاس اقامہ نہیں تو آپ وہاں رہ بھی نہیں سکتے۔ یہ اقامہ آپ کا پاسپورٹ اور ویزا دیکھ کر دیا جاتا ہے جس کے بعد آپ کو وہاں رہائش کا اجازت نامہ مل جاتا ہے اور آپ وہاں جا سکتے ہیں اور جب چاہیں واپس آسکتے ہیں۔ لیکن اقامہ صرف وہاں کام کرنے کے خواہش مندوں کے لیے ضروری نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو وہاں چاہے مہینے، دو مہینے کے لیے، چاہے دس، بیس برس کے لیے رہائش اختیار کرنا چاہتا ہو، قیام کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے اقامہ ضروری ہے۔ چنانچہ ایک شخص جو وہاں کام کرتا ہے وہ اگر اپنے بیوی بچوں کو وہاں اپنے ساتھ رہنے کے لیے بلاتا ہے تو اسے ان کے لیے پہلے ویزا اور پھر اقامہ بھی حاصل کرناپڑے گا۔ نہ صرف بیوی کی خاطر بلکہ تمام بچوں کے لیے بھی، الگ الگ حالانکہ نہ اس کی بیوی وہاں کام کررہی ہے، نہ بچے، بیوی خاتون خانہ (House Wife) ہے جو اس کا گھر سنبھالتی ہے جبکہ بچے سکول جاتے ہیں یا بہت چھوٹے یا شیر خوار ہیں سو گھر پر ہی رہتے ہیں۔ لیکن چاہے کوئی خاتون خانہ ہو، سکول جانے والا لڑکا یا لڑکی یا شیرخوار بچہ، بچی ، سب کو اس عرب ملک کا اقامہ حاصل کرنا پڑے گا۔اس کے بغیر ان کا وہاں قیام غیرقانونی ہوگا۔
حلقہ NA.120 کے انتخاب کے دوران جب یہ بات سامنے آئی کہ کلثوم نواز کے پاس بھی اقامہ تھا تو ان کے مخالف امیدواروں نے شور مچا دیا کہ وہ بتائیں کہ انہیں کیا تنخواہ ملتی رہی ہے اور انہوں نے اسے اپنے اثاثوں میں ظاہر کیوں نہیں کیا؟ یہ اقامے کا درست مطلب نہ جاننے کی بناءپہ تھا، یا غالباً جان بوجھ کر۔
مختصراً اقامے کا میڈیا میں جو مطلب بیان کیاجارہا ہے یعنی ورک پرمٹ، وہ سرے سے غلط ہے، حقیقتاً اس کا مطلب ہے:Residency permit یعنی (اس کا عرب ملک میں) قیام یا رہائش کا اجازت نامہ۔ یہ اقامہ کسی بھی عرب ملک میں رہنے والے ہر غیر ملکی کے لیے لازم ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اس کا وہاں قیام غیرقانونی ہوتا ہے۔ یہ اقامہ دبئی میں آصف علی زرداری کے پاس بھی ہے اور بلاول، بختاور اور آصفہ کے پاس بھی۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی وہاں ملازمت نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اقامہ قیام کا اجازت نامہ ہے۔ ملازمت ہونے نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اگر آپ عمرہ کرنے کی خاطر سعودی عرب جاتے ہیں تو آپ کے پاسپورٹ پر مدت الاقامہ لکھا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل انگریزی میں Duration of Story کے الفاظ درج ہوتے ہیں۔ یعنی قیام کی حد مدت اپنے چودھری اعتزازاحسن صاحب کا مطالبہ ہے کہ اقامہ رکھنے کے ”جرم“ میں نوازشریف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ یعنی High Treason کا مقدمہ، اعتزاز صاحب نے اگر کبھی خود سرکاری طور پر نہیں، عام شہری کی حیثیت سے یا ان کے قریبی لوگوں میں سے کسی نے عمرہ ادا کیا ہے تو ان کے پاسپورٹ پر بھی یہ اقامہ لگا ہوگا۔ تو کیا وہ چاہیں گے کہ جس جس شخص کے پاسپورٹ پر یہ اقامہ لگا ہے اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا جائے؟۔
(کالم نگار سینئر صحافی، شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved