تازہ تر ین

مارچ‘ بہار اورکھیل!

صوفیہ بیدار……..امروز
مارچ میں ڈھلتی سہ پہریں اچھی لگتی ہیں‘بہار سے زیادہ بہار کی خبر خوش کن ہوتی ہے‘جیسے خوف سے زیادہ خوف کی دستک ڈراتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کھلتا ہے کہ ہم کون سی قوم ہیں؟ وہ قوم تو ہرگز نہیں جو فنون وکھیل میں وقت بتاتی ہے۔ آہستہ آہستہ معلوم پڑتا ہے کہ سیاست ہمارا قومی کھیل ہے دن بھر کام کرتے ہوئے لوگوں سے بطورخاص اس موضوع سے گریزاں رہنا پڑتاہے کہ لوگ تو جیسے انتظار میں ہوتے ہیں۔ ذرا سا جو تذکرہ کردیا فوراً ”چھڑ“ جاتے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ نوازشریف‘بے نظیر‘ زرداری اور خان خان ہونا شروع ہو جاتاہے۔
خوشحال ملکوں کے لوگ کھیلوںمیں دلچسپی لیتے ہیں۔ جمناسٹک‘فٹ بال اور”دوڑ“میں خوشحال ملک نمایاں ہیں جبکہ ہمیں کھیل بھی کرکٹ پسند ہے جس میں بے انتہا ”سیاست“ ہوتی ہے جوڑ توڑ اور پیچیدگی اس کھیل کا نمایاں پہلو ہے…. جنگجوطبیعتوں کے لوگ اپنے جرنیلوں سے محبت رکھتے ہیں۔ بھارت جیسے پسماندہ اور خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے عوام ”فلموں“ میں اپنی بدحالی کو بھلا کر خوش ہو جاتے ہیں ان کی فلمیں خواب بیچتی ہیں جو عملی زندگی میں بھارتی عوام کے لئے ممکن نہیں وہ انہیں بھارتی فلموں میں مل جاتاہے یعنی پل میں زیروسے ہیروہوجانا کسی انتہائی غریب لڑکی کا شہزادے سے ٹکرا کر امیر ترین ہوجانا۔ سیاہ رنگت کا گورا چٹا ہو جانا پورا بھارت اپنی لڑکیوں کو ماڈل بنانے کے لئے دیوانہ ہوا جارہا ہے۔ وہاں مس ورلڈ مس یونیورس کے لئے جیسے الگ الگ ادارے بن چکے ہیں اول تو بھارت میں کم ہی حسین لڑکی پیدا ہوتی ہے اوراگر کہیں کوئی نک سک سے درست پیدا ہو جائے تو فوری خواب ماڈلنگ یا فلم انڈسٹری ہی ہوتا ہے پورے خاندان کے بھاگ کھُل جاتے ہیں۔
پاکستان کی نوزائیدگی ابھی اسے پختہ منطق تک پہنچنے نہیں دے رہی۔ ابھی یہاں نعرے بازی‘جلسے‘جلوس اور کھوکھلی باتیں جاری ہیں رنگین وعدے ٹرکوں پر چڑھے ہوئے سیاستدان اور قیمے والے نان وبریانی والے الیکشن یہی سیاست ہے۔ یہاں کی سکرین پر نواز شریف‘ مریم نواز اور عمران خان کی تقریریں جاری ہیں عوام سے بندروں کی طرح کہلوایاجاتاہے ووٹ کس کو دوگے؟ اور عوام بھی کسی بے وفا محبوبہ کی طرح جو سامنے ہوتاہے اسی کانام لے کر کہتے ہیں آپ کو….رونق میلہ لگا ہوا ہے مقدمے بھی چل رہے ہیں‘پیشیاں بھی…. ہمارا کردار سب سے زیادہ عمدہ ہے یعنی ناظرکا….جب تک جی چاہا دیکھ لیااورپھر چینل بدل لیا….
زندگی کی قلابازیاں کھاتے عوام جب بڑے بڑے تخت الٹتے دیکھتے ہیں تو مایوسی کم ہو جاتی ہے بڑی تباہی چھوٹی تباہی کو کھا جاتی ہے اور بڑا غم چھوٹے غموں پر سایہ فگن ہو جاتاہے۔جیسے غمِ حسین بہت سے غموں کامداوا بھی ہے ذات کے دکھ بھول کر ملال کے گہرے سمندر میں چلے جاتے ہیں۔
میں کہاں ضبط کہاں درد کا یارا تھاکہاں
چوٹ جب دل پر پڑی کھل گیا دریا تھا جہاں
سب کچھ ازخود ہوتاہے جو پوری زندگی ہل کرپانی بھی نہیں پیتے ان کی بھی گزر جاتی ہے اورجو تمام عمر ہانپتے پھرتے ہیں وہ بھی محض اپنے حصہ کاہی رزق کھا سکتے ہیں…. لاہور کی نسبت فیصل آباد میں زندگی مست ہے لہٰذا سکون بھری دوپہریں‘ اترتی ہوئی شامیں‘تخلیقی سہ پہریں درختوں‘محرابوں اور پرندوں کی میٹھی آوازوںمیں دلکش لگتی ہے۔ لاہور تو جیسے زلزلہ زدگان کی طرح اِدھر سے اُدھر بھاگ رہا ہوتاہے جس کا حصہ انسان کو بننا ہی پڑتاہے۔ دو چارتقاریب سے بے نیازی کے بعد بالآخر تغافل تمام ہو جاتاہے اور انسان اُسی پروٹوکول کا متقاضی شکوہ کناں اِدھر سے اُدھر محوکلام اپنے حفظ مراتب کا ماتم کر رہا ہوتاہے….
لاہور کی نسبت فیصل آباد کی بات کی توبہت سی نسبتیں یاد آگئیں‘ نسبت محبت بھرے ملال کانام ہے‘ زندگی میں ہجر کے معانی تب تک بامعنی نہیں ہوتے جب تک عملی طورپر اس سے واسطہ نہ پڑے۔ آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ زندگی کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہی ہے کہ جسے آپ چاہیں نہ ملے مگر اس سے بھی بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ جسے نہ چاہیں مل جائے یہ وہ اُصول ہے جو قریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں بعینہ لاگو ہوتاہے چیزوں سے تہی ہونا اسقدر تکلیف دہ نہیں جس قدر ان چاہی چیزوں کا مسلط ہونا ہے۔ یہی حال انسانوں‘ زمانوں‘ دفاتر اور رشتوں کا ہے….
میں یہ تمام باتیں ایک انتہائی معروف باعمل زندگی گزارتے ہوئے کہہ رہی ہوں کچھ کچھ خود پر آشکار ہوتا رہتاہے ایک مرتبہ نورجہاں کو کہتے ہوئے سنا کہ ” میرے رب نے مجھ سے کچھ نہیں چھپایا“ بہت عرصہ بعد اس کے معنی واضع ہوئے وہ جس پررب نے ”سُروں“ کی گرھوں کو کھول دیا وہی رب زندگی ہی میں چہروں سے نقاب اُتار دیتاہے…. مشکل حالات ایک سخت گیر استاد کی طرح ہوتے ہیں جو زندگی سے ساری خوش گمانیاں سارے جھوٹے خواب اور بوسیدہ رشتوں کی قلعی کھول دیتے ہیں…. انسان کے آئینے کا جب زنگار اُتر جاتاہے تو منظر بہت صاف دکھائی دینے لگتاہے…. ظرف ہوتو دکھوں سے بھی محفوظ ہوا جا سکتاہے۔
(آرٹس کونسل فیصل آباد کی ریذیڈنٹ ڈائریکٹر اور شاعرہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved