تازہ تر ین

برطانیہ‘ روس بگڑتے تعلقات

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
یوں تو دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، لیکن اگر گزری صدی سے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلقات کبھی دیرپا نہیں رہے۔ مثلاً 19 ویں صدی کے شروع میں روس اور برطانیہ نپولین کے خلاف اتحادی تھے لیکن 1850ءکی کریمن جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے کیونکہ یہ جنگ اس گریٹ گیم کا حصہ تھی جس کے تحت وسطی ایشیا کے ملکوں کو کنٹرول کرنا تھا، پھر پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو ان کی دشمنی پھر دوستی میں بدل گئی اس کے بعد 1947ءسے لیکر 1989ءتک سرد جنگ کا تمام عرصہ یہ تعلقات ایک دفعہ پھر سرد مہری کا شکار رہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے بعض جاسوس ڈبل ایجنٹ کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں، پھر روس کے بیشمار سیاسی لیڈر برطانیہ میں سیاسی پناہ بھی حاصل کرتے رہے ہیں، لیکن جب سے ولادیمیرپیوٹن اقتدار میں آئے یعنی پہلے جب وہ روس کے وزیراعظم تھے اور اب جب وہ صدر ہیں یہ پورا عرصہ روس برطانیہ تعلقات اور آپسی چپقلش دشمنی کی انتہاﺅں تک پہنچ چکی ہے، خصوصاً 2014ءمیں یوکرائن کے معاملہ پر جب بین الاقوامی کمیونٹی اور برطانیہ نے بھی روس کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیناشروع کیا تو روس نے برطانیہ کیلئے مزید جارحانہ رویہ اختیار کرلیا۔ برطانیہ کو روس پر تنقید کا ایک “نادر موقع“ اس وقت مل گیا جب چار مارچ کو انگلینڈ کے ایک شہر سیلبزی میں روس کے ایک سابق جاسوس اور اس کی بیٹی کو ایک شاپنگ پیلس میں بے ہوش پایا گیا۔ 66 سالہ سرگئی سکریپل اور 33 پولیا گزشتہ دو ہفتے سے ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، برطانیہ کو یقین ہے کہ ان دونوں کو روس نے قتل کروانے کی کوشش کی ہے کیونکہ انہیں جس زہر سے مارنے کی کوشش کی گئی ہے وہ روسی آرمی ہی استعمال کرتی ہے اس زہر کو Novichok کا نام دیا گیا ہے۔
برطانیہ نے اس دفعہ اچھوتا کام یہ کیا ہے کہ اس واقعہ کا براہ راست الزام روس کے صدر ولادی میرپیوٹن پر لگاتے ہوئے کہا کہ ان باپ بیٹی کوقتل کرنے کا حکم براہ راست روسی صدر نے دیا تھا، روس نے اس الزام کو قطعی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ایک خطرناک گیم کھیلنا چاہتا ہے۔ پچھلے ہفتے جب برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے 23 روسی سفارتکاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا تو روس نے بھی اگلے ہی روز 23 برطانوی سفارتکاروں کو ماسکو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ برطانیہ میں مفرور روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو قتل کرنے کی کوشش حکومت اور برطانیہ کے سکیورٹی اداروں کیلئے سبکی اور شرمندگی کا باعث سمجھا جا رہی ہے کہ ہماری سرزمین پر بھی روس اپنی کوشش میں کس طرح کامیاب ہوا۔ اب اس سارے قصے میں حیران کن اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور جرمنی یک زبان ہو کر روس پر تنقید کر رہے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں کم از کم جرمنی، امریکہ اور برطانیہ کی اس قسم کی منصوبہ سازی کا حصہ بننے سے اجتناب کرتا ہے، چنانچہ روس کے خیال میں مذکورہ واقعہ برطانیہ وامریکہ کی کسی گیم کا حصہ ہے تاکہ اس کو بنیاد بنا کر روس پرتنقید اوردباﺅ بڑھایاجاسکے۔ روس نے کہا ہے کہ ہم سازشوں سے کلی طور پر آگاہ ہیں اور ہر سازش کا جواب دینا بھی جانتے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بھی لفظی جنگ میں پیچھے نہیں ہیں انہوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ میں روس کو خبردار کرتی ہوں کہ برطانیہ کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ صدر پیوٹن اگر ٹینشن بڑھانا چاہتے ہیں تو وہ آزاد ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں چنانچہ آئندہ ہم اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ روس کو جواب دیں گے۔
برطانوی وزیراعظم کے اس تازہ بیان کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی واضح ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی روس کے اس بیانیہ کو بھی تقویت ملتی ہے کہ برطانیہ اور امریکہ ہمارے خلاف محاذ بنا کر کوئی خطرناک گیم کھیلنا چاہتے ہیں۔ اب جبکہ برطانوی وزیراعظم نے روس سے بدلہ لینے کا واضح اعلان کردیا ہے یوں لگتا ہے کہ صدیوں کے اتحادی برطانیہ و امریکہ روس کے خلاف ایک دفعہ پھر جارحانہ موڈ میں ہیں۔ ممکن ہے دنیا 19 ویں صدی کی طرح دو دھڑوں میں بٹ جائے اور سردجنگ پھر سے شروع ہوجائے۔ گو کہ ٹریسامے نے مذکورہ واقعہ کا براہ راست الزام صدر پیوٹن پر لگا دیا ہے لیکن آج تک اس ضمن میں وہ کوئی ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ ماسوائے اس کے کہ ان باپ بیٹی کو جس زہریلی اعصابی گیس سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ روس ہے یا اسے صرف روسی فوج استعمال کرتی ہے‘ لیکن برطانیہ کے بعض دفاعی ماہرین اور ماہرین قانون کے مطابق اگر یہ مقدمہ عالمی عدالت میں جائے تو برطانیہ سے اس کے روس پر الزام کا واضح ثبوت مہیا کرنے کے لئے کہا جائے گا اور اب تو پیوٹن 75 فیصد ووٹ لے کر ایک بار پھر روس کے صدر منتخب ہوچکے ہیں جو یقیناً برطانیہ کے لئے لمحہ ¿ فکریہ ہے۔
عالمی سطح پر برطانیہ اور روس کی اس بیان بازی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ اسی سلسلہ میں ایک امریکی صحافی ایرک ایس مارگولیس نے ایک دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالبری حملے کے بعد برطانوی ووٹروں میں اپنی وزیراعظم کیلئے نیک نامی اچانک عود کر آئی ہے حالانکہ وہ ان دنوں یورپی یونین سے نکلنے کے معاملہ پر سخت تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں اپنی ہی پارٹی میں شدید بغاوت کا بھی سامنا ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس واقعہ پر شدید ترین ردعمل دے کر خود کو مضبوط وزیراعظم ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاہم ان کے اس ردعمل سے وہ اپنی خواہش کے مطابق نتیجہ حاصل کرنے میں ناکامیاب ہوں گی۔ علاوہ ازیں سنجیدہ سیاسی و صحافتی مبصرین کو یہ سوالات بھی اٹھانے چاہئیں کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ سرگئی سکریپل اور اس کی بیٹی کے قتل کا حکم پیوٹن نے ہی دیا تھا اور کیوں؟ روس اپنے عام انتخابات سے چند روز پہلے مصروف ترین وقت ایسا کیوں کرے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب امریکہ تجارتی و مالیاتی پابندیوں کے ذریعے روس پر کاری وار کررہا ہے۔ اگر برطانیہ کا نکتہ مان لیا جائے کہ اس حملے میں جو زہریلا کیمیکل استعمال ہوا ہے وہ روس میں ہی فوجی استعمال کے لئے تیار ہوتا ہے تو پھر کیا روس اتنا احمق ہے کہ وہ اسی کیمیکل سے یہ واردات کروائے گا تاکہ براہ راست الزام اس پر آجائے؟ حالانکہ انہیں مارنے کے لئے کوئی دوسرا طریقہ ہوسکتا تھا مثلاً گولی یا کوئی ٹریفک حادثہ یا پھر کوئی ایسا زہریلا سپرے بھی استعمال ہوسکتا تھا جسے ”سی آئی اے یا ”ایم آئی سکس“ استعمال کرتی ہے اور پھر یہ چھوٹا سا کام تو ان دونوں کے جسم میں ایک چھوٹی سی سوئی چبھو کر بھی کیا بھی کیا جاسکتا تھا لہٰذا ایسا کیوں نہ ہوا اور پھر کیا روسی ایجنسیاں اس قدر نادان ہیں کہ ان کے دونوں ٹارگٹ ابھی تک زندہ ہیں؟
سرگئی سکریپل بھی کوئی معصوم و سادہ لوح شخص نہیں ہے۔ وہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے لئے کام کرتا رہا ہے۔ اس نے بڑی رقوم کے عوض میں اپنے ہی قریبی ساتھیوں کے ساتھ غداری کی‘ سرد جنگ کے بعد اسے برطانیہ میں پناہ دی گئی۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ خفیہ اداروں کی ”دنیا“ میں غداری سے زیادہ ذلیل حرکت کوئی نہیں ہوتی چنانچہ ایجنسیوں نے غداروں کو ختم کرنے کیلئے بھی خصوصی یونٹ بنائے ہوتے ہیں۔ لندن ایک بڑے عرصہ سے روسی حکومتوں کے دشمنوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی اور ”کے جی بی“ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں۔ اگر روس لندن کو جاسوسوں کا آشیانہ کہتا ہے تو یہ غلط بھی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ چنانچہ ایک ڈبل ایجنٹ کے قتل کی کوشش پر برطانیہ کو اخلاقی بنیادوں پر سیخ پا ہونے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے جہاں اسے اپنے کئی منفی رویے نظر آئیں گے۔ پوری دنیا میں اسلحہ بیچنے اور جنگیں کروانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ برطانیہ کو اس پر بھی غور کرنا ہوگا صرف روس کو الزام دے کر عالمی قوانین توڑنے کا مرتکب قرار دے کر ساری دنیا کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا اور پھر برطانیہ کو یہ بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ روس کے صدر پیوٹن خود ”کے جی بی“ کے سابق ایجنٹ ہیں اور خفیہ ایجنسیوں کی تمام تر شاطرانہ چالوں سے آگاہ ہیں۔
(معروف کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved