تازہ تر ین

دس ہزار کا نوٹ

توصیف احمدخان
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر چل رہی ہے ، کہا یہ جارہاہے کہ یہ دس ہزار کا نوٹ ہے ، تاثر اس قسم کا ہے کہ حکومت پاکستان نے یہ نوٹ جاری کیا ہے ، اگرچہ اس کی کہیں سے تصدیق نہیں ہوپارہی کہ سٹیٹ بنک نے نوٹ جاری کردیا ہے ، ممکن ہے اس قسم کی کوئی تجویز موجود ہو اور ڈیزائن بھی تیار کرلیا گیا ہو، لیکن اس پر عملدرآمد کی نوبت نہ آئی ہو، اگر ایسا سلسلہ ہے بھی تو بنکوں کو اسکی کوئی اطلاع نہیں، بعض سینئربنکاروں سے استفسار کیا گیا تو ان کا جواب نفی میں تھا ، انہیں علم نہیں تھا کہ نوٹ جاری کرنے کی تجویز ہے یا نہیں، اگر ہے تو وہ کس مرحلے پر ہے ۔
کوئی بھی حکومت جب بڑا کرنسی نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تووہ دراصل اپنی معیشت کی زبوں حالی یا بدحالی کا اعلان کررہی ہوتی ہے ، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کالے دھن یا بلیک منی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ، یہ نوٹ جاری کرنے کی کوئی تجویز موجود ہے یا نہیں …اس سے قطع نظر ہم پہلے ہی جس قدر مالیت کے نوٹ جاری کرچکے ہیں وہ ہمارے لئے کافی پریشانیوں کا باعث ہے کہ یہ نوٹ بدعنوانی یا کرپشن کیلئے آسانیاں پیدا کردیتے ہیں، رشوت خوروں کو بھی آسانیاں فراہم ہوجاتی ہیں، اس وقت ہمارے یہاں سب سے بڑا نوٹ پانچ ہزار روپے کا ہے ، ہزار اور پانچ سو کے نوٹ اس کے بعد آتے ہیں، یہ اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اقتصادی صورتحال بہتری کی جانب نہیں جارہی ، سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کے دعوے اور موجودہ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی خوبصورت باتیں معیشت کیلئے سہارا نہیں بن سکتیں، معیشت کو عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی ایسے اقدامات کی جو ذہانت کے ساتھ کئے گئے ہوں، دگرگوں اقتصادی صورتحال بتاتی ہے ہمارے ذمہ دار محض گفتار کے غازی ہیں ورنہ اسحق ڈار کی سابقہ باتوں کو ذہن میں لائیں تو یوں لگتا تھا کہ بڑھتا اور چڑھتا ہوا ڈالر ستر اسی پر یا اس سے بھی نیچے آجائیگا، آج کے حالات بتارہے ہیں کہ ڈالر کو پر لگے ہوئے ہیں اور روپیہ ان پروں کے کہیں نیچے ڈرا سہما بیٹھا ہو اہے ۔
عالمی سطح پر جائزہ لیں تو ہمیں علم ہوگا کہ کم سے کم قیمت کے کرنسی نوٹ ہی مضبوط معیشت کا اظہار کرتے ہیں، آپ دنیا کے بڑے ممالک کو دیکھ لیں وہاں کی کرنسی زیادہ سے زیادہ کس قدر مالیت کے نوٹ رکھتی ہے، فی الحال زیادہ دور نہیں جاتے ، بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں کا سب سے بڑا نوٹ ایک ہزار کی مالیت کا تھا، لیکن مودی حکومت نے اس کو ختم کردیا اور پورے ملک سے ایک ہزار والے سارے کرنسی نوٹ واپس لے لئے گئے ، اس پر ملک میں بہت شور اٹھا ، لوگوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا ، حکومت پر کڑی تنقید کی گئی مگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا، اب وہاں حالات معمول پر آچکے ہیں اور ہزار کے نوٹ کے بغیر بھی ملکی معیشت پہلے کی طرح چل رہی ہے ، ممکن ہے وہ پہلے سے بہتر بھی ہوئی ہو ۔
ہمارے زیادہ تر لوگ خلیجی ممالک میں ہیں، اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ میں بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے ، ذرا ایک نظر ان ملکوں کی کرنسیوں پر ڈال لیتے ہیں ، کام کرنے والے پاکستانیوں کے علاوہ ہمارے لاکھوں لوگ ہر سال حج اور عمرہ کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں، لہٰذا ان کو سعودی ریال کے بارے میں خاصی معلومات ہوتی ہیں، سعودی عرب کا سب سے بڑا نوٹ پانچ سو ریال کاہے ، اس سے بڑا نوٹ کبھی چھاپا ہی نہیں گیا، امارات میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے ، پانچ سو درہم سے بڑا نوٹ وہاں بھی موجود نہیں، ہزار کا نوٹ ختم کرنے کے بعد بھارت بھی ان ممالک کے برابر آگیا ہے ، امریکہ ، برطانیہ وغیرہ کا جائزہ لے لیتے ہیں، امریکہ میں ایک سو ڈالر سے بڑا کوئی نوٹ نہیں، کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ ماضی میں بڑے نوٹ موجود تھے مگر وہ ناپید ہوچکے ہیں، یعنی ان کو ختم کردیاگیا ہے ، برطانیہ میں پچاس پونڈ سے بڑا نوٹ وجود ہی نہیں رکھتا ، لیکن پچاس کا نوٹ بہت کم استعمال ہوتا ہے ، عین ممکن ہے کہ وہاں کے کچھ شہریوں نے اسے استعمال ہی نہ کیا ہو، عمومی طور پر اس سے کم مالیت کے کرنسی نوٹ ہی استعمال ہوتے ہیں، یہاں آپ کو ایک دلچسپ امر سے آگاہ کریں کہ برطانیہ کاغذی کرنسی سے اب پلاسٹک کی کرنسی کی طرف جارہا ہے ، وہاں پیپر کرنسی آہستہ آہستہ ختم کی جارہی ہے اور پلاسٹک کرنسی کو رواج دیاجارہاہے ، کچھ نوٹ پلاسٹک پر چھپ کر جاری ہوچکے ہیں اور استعمال بھی ہورہے ہیں ، جبکہ باقی کرنسی کو بھی پلاسٹک پر منتقل کیا جارہا ہے ، یہ کاغذ کی طرز کا ہی باریک سا پلاسٹک ہے جس پر کرنسی چھاپی گئی ہے ۔
اسحق ڈار کی وزارت خزانہ کے آخری ایام میں …..بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان کی پاکستان سے رخصتی کے آخری ایام میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ پانچ ہزار والے نوٹ ختم کئے جارہے ہیں جس پر لوگوں میں ایک پریشانی کی سی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ، تاہم خود اسحق ڈار نے تردید کی کہ یہ نوٹ واپس نہیں لئے جارہے ۔
قارئین کی آگاہی کیلئے بتادیں کہ کاغذی کرنسی یہودی ذہن کی پیداوار ہے جنہوں نے اسے متعارف کراکے سونے ، چاندی وغیرہ کے سکے واپس لے لئے تھے ، یوں انہوں نے بہت سا سونا چاندی جمع کرلیا جس کو وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کررہے ہیں، آج بھی کہیں سے سونے چاندی کے سکے رائج کرنے کی بات اٹھتی ہے تو یہودی اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
گزشتہ روز جیو ٹی وی پر خبر چلائی گئی کہ شہباز شریف نے 72 گھنٹے میں آرمی چیف سے دوبار ملاقات کی جس کی آئی ا یس پی آر نے فوری طور پر تردید کر دی۔ معاملہ یہ نہیں کہ ملاقات ہوئی یا نہیں۔ کئی دن سے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نواز شریف کے حوالے سے کوئی مک مکا ہو رہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم یہ خبریں درست ہیں یا نہیں مگر بتانے والے کہتے ہیں کہ ان کے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے دورہ کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ کہا جارہا ہے کہ مک مکا ہو گیا تو دوبارہ مشرف دور والی صورتحال پیدا ہو جائے گی یعنی انہیں کچھ عرصے کےلئے جلاوطن ہونا پڑے گا۔ یہ مدت دس سال بتائی جا رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ قریباً تمام متعلقین اس پر رضا مند ہیں صرف ان کی صاحبزادی کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں کیونکہ ملک مکا کی صورت میں موصوفہ کو بھی ملک چھوڑنا پڑے گا۔ یقیناً اس پر شہبار شریف اور حمزہ شہباز کو تو کافی خوش ہوگی کیونکہ باپ بیٹی کی وجہ سے ان کےلئے بھی دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے اور باپ بیٹی برطانیہ یا کسی اور ملک میں چلے جاتے ہیں تو کیپٹن(ر) صفدر کا کیا بنے گا جو پہلے ہی دربدر ہیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved