تازہ تر ین

بہتے پانی پہ تصویر

خالدشریف …. ماورا
حدودِ شام سے آگے نکل کر ارشد سعید اب بہتے پانی پر تصویریں بنا رہا ہے۔ شاعری کارگہِ شیشہ گراں میں زندگی کرنے کا نام ہے۔ قرمزی روشنیاں اور بلورّی بوقلمونیاں آنکھوں کو خِیرہ کئے رکھتی ہیں لیکن غلطی کی گنجائش بالکل نہیں۔ تخلیقِ کائنات بھی شاعری ہے لیکن خلاقِ ازل نے شاعروں کے بارے میں ہمیشہ محتاط رویّہ رکھاہے کہ شاعر کے اندر خود بھی ایک خالق ہے۔ ارشد سعید غزل کہتا ہے تو جیسے ذاتی واردات کو کائناتی سطح پر لے جاتا ہے۔ وہ لب و رخسار سے آگے کا شاعر ہے۔ تعلق، دوستی، فطرت سے ہم آہنگی، جگنو، ستارے، آسمان، چراغ ، ثمر اور شہر ارشد سعید کے محبوب و مرغوب موضوعات ہیں۔ وہ فنی لحاظ سے مضبوط شاعر ہے چنانچہ اُس کے اشعار سنتے سنتے دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ چُست مصرعہ کہتا ہے گویا کٹھالی سے ڈھل کر نکلا ہو، اسی لئے اُس کی شاعری کو پڑھ کر لطف محسوس ہوتا ہے۔
محمد اظہار الحق ادب میں کسی رو رعائت کے قائل نہیں۔ انہوں نے ساری زندگی اصولوں پر کاربند رہ کر گزاری ہے، وہ رعائتی نمبر دینے کے قائل نہیں۔ انہیں ارشد سعید کے کلام میں ایسے کئی پہلو نظر آتے ہیں جیسے شاداب باغ میں سرسبز روشیں اِدھر سے اُدھر جارہی ہوں۔ کبھی وہ حیران کرتا ہے اور کبھی غم زدہ حقیقتوں کے دریا اُسے وسوسوں کے سراب میں پڑے ملتے ہیں۔
صفِ اوّل کے استاد اور نقاد پروفیسر فتح محمد ملک کی رائے یہ ہے کہ ارشد سعید وطن سے دور بیٹھا اپنے پاکستانی ہم وطنوں کے دکھ درد کی چارہ گری کی سبیلیں سوچنے اور انہیں شاعری کا قالب عطا کرنے میں مصروف ہے۔ جہاں تک شاعری اور ساحری کا تعلق ہے یہ فنون تو اُسے اپنے دادا مرحوم ارمان شاہجہاں پوری سے ورثے میں ملے ہیں۔ بظاہر ارشد سعید بحرالکاہل کے کنارے پر متمکن ہے مگر اُس کی شاعری میرے آپ کے درمیان پاکستان میں سانس لیتی اور دُکھ سہتی محسوس ہوتی ہے۔ اُس کے نزدیک ہمارے تمام مسائل کا سب سے بڑا سبب سیاسی قیادت میں فکرو احساس کا فقدان ہے۔
ڈاکٹر کوثر جمال کے مطابق ارشد سعید کی شاعری شدت کی شاعری نہیں، یہ مدھم سروں، رسان اور پرسکون پانیوں کے بہاو¿ کا ملاپ ہے۔ اس شاعری میں تنقیدِ حیات بھی ہے اور اثباتِ حیات بھی۔ افتخار عارف جیسے سینئر اور محترم شاعر کہتے ہیں کہ ارشد سعید کی پہلی کتاب ”حدودِ شام سے آگے“ کے بعد دوسرا شعری مجموعہ ”بہتے پانی پہ تصویر“ اس بات کی ایک خوشگوار گواہی مہیا کررہا ہے کہ وطنِ عزیز سے دور آباد اُردو کی بستیوں میں کیسی خوش امکان اور خیال انگیز آوازیں اپنی تخلیقی قوتوں کا اظہارکررہی ہیں۔ ارشد سعید کی غزل پڑھ کر فوراً یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ پاک و ہند میں کلاسیکی اُردو غزل کی روایت سے کتنے جڑے ہوئے ہیں اور وطن سے دوری کے باوجود ان کے مصرعوں میں خاکِ پاک کی خوشبو مشامِ جاں کو کیسے معطر کررہی ہے۔اُن کی شاعری نئے تجربے، نئے خیالات اور نئی آب و ہوا کے زیرِ اثر اپنے لیے نئی بات کہنے کے نئے اسلوب بھی نکال لیتی ہے۔ ارشد سعید کی زمینیں اور تمثالیں اُن کی شاعری کو ہم عصر شعراءسے ممتاز کرتی ہیں۔ وجود کی تمام سچائیوں کے ساتھ اگر شاعری زندگی کی ترجیحِ اوّل بن جائے تو اللہ کریم اُسے تاثیر کی دولت عطا فرماتے ہیں۔ مقامِ شکر ہے کہ یہ سعادت ارشد سعید کا مقدر ٹھہری۔ آنے والے زمانے میں بھی ارشد سعید کی مزید پُرثروت اور پُراثر شاعری سے ملاقاتیں رہیں گی۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے۔
ارشد سعید ایک خوبصورت شاعر ہونے والے کے علاوہ ایک انتہائی مہذّب اور شائستہ انسان ہے جو انسانی قدروں کی اہمیت کو سمجھتا ہے، اپنے وطن، اپنے دوستوں اور ہم عصروں سے محبت کرتا ہے۔ آئیے اُس کے چند اشعار سے لطف اٹھائیں:
یہ بنجر سی زمینیں تم جنھیں صحرا سمجھ بیٹھے
مری آنکھوں سے تم اِن میں بھی دریا دیکھ سکتے ہو
اک منزلِ مقامِ اَنا چاہیے تو ہے
ہر آدمی کو اپنا خدا چاہیے تو ہے
شہر میں اب بھی سرِ شام کہیں روتی ہے
وہ اُداسی جو مرے گھر سے چلی تھی شاید
ہم سے پہلے بھی مر گئے کچھ لوگ
ہم اگر مر گئے تو کیا ہو گا
اگر ٹہنیوں پر ثمر بولتا ہے
تو یہ باغباں کا ہنر بولتا ہے
یونہی پھُول کھِلتے نہیں ٹہنیوں پر
پرندوں سے اپنے شجر بولتا ہے
میں تم سے جیت کر بھی مات کھا جاتا تھا اکثر
یہی میری مروّت تھی محبت اِک طرف تھی
(کالم نگار معروف شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved