تازہ تر ین

زناکو قانونی تحفظ دینے کی گھناﺅنی سازش

میاںاشرف عاصمی….نقطہ نظر
نواز حکومت نے اپنے اِس پانچ سال کے دور مےں ملک کی نظرےاتی اساس کو جس بُری طرح زخم لگا نے کی کوششےں کی ہےں اُس حوالے سے نام نہاد لبرل فاشسٹ اپنے طور پر مسرور ہےں۔ ختم نبوت و ناموس رسالت کے قوانےن مےں جس طرح ترا مےم کی گئی اور پھر جب پوری قوم جاگ گئی تو اِس حکومت کو مُنہ کی کھانا پڑی ۔اِس حوالے سے راولپنڈی مےں اےک دھرنا بھی دےا گےا اور اِس دھرنے کی وجہ سے شہادتےں بھی ہوئےں۔۔ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر نبی پاک کی ناموس کے قوانےن کا مذاق اُڑانے والے نام نہاد لبرل فاشسٹوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔وہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ہوں ےا دوسرئے لادےن عناصر۔ ےہ لبرل فاشسٹ پاکستان کا سافٹ امےج اِسی مےں سمجھتے ہےں کہ ملک مےں مادر پدر آزادی ہو۔ بغےر شادی کے جنسی تعلقات قائم رکھنے پر کوئی قد غن نہ ہو۔ اقوام متحدہ کا اےک ورکنگ گروپ جس کا نام سی پی ےو آر ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ مےں ممبرز ملکوں کو اپنے ہاں قانونی رےفارمز کرنے کی تجوےز دےتا ہے ۔ اِس ورکنگ گروپ کے ساتھ پاکستانی وزارت خارجہ کوارڈی نےشن کرتی ہے۔
اےک حالےہ رپورٹ جو کہ نو اپرےل 2018کو شائع ہوئی ہے اِس مےں اِس بات کا انکشاف کےا گےا ہے کہ موجود حکومت نے ےو پی آر کی جانب سے تجوےز کہ بدکاری کرنے والوں کو سزا نہےں ہونی چاہےے کی تجوےز کو مسترد نہےں کےا بلکہ اِس کو ” زیرِغور“ رکھا ہے۔ 2008 ء مےں پاکستان سے اِس ورکنگ گروپ نے اکاون مطالبات کےے تھے جن مےںتینتالےس کو مان لیاگےا تھا اور آٹھ کو مسترد کردےا گےا تھا۔اُس وقت بھی بدکاری کےے جانے کو قانونی تحفظ دئےے جانے اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کےا گےا تھا۔ 2012 ءمےں بھی اِسی طرح کے مطالبات کےے گئے لےکن اُس وقت ان مطالبات کو مسترد کردےا گےا۔اب جو نئی رپورٹ 2017ءکی ہے، اِس مےں پاکستان نے بغےر شادی جنسی تعلقات رکھے جانے کے قانون کو ”زےر غور“ رکھا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ مےں اےسی کالی بھےڑےں موجود ہےں جو پاکستان کو دُنےا بھر مےں بدنام کرنے پہ تلی ہوئی ہےں۔ پاکستان کے اوپر ےا تو اِتنا پرےشر ڈالا گےا ہے کہ پاکستان نے اِس کو زےر تجوےز رکھ لےا ہے۔ پاکستان کا المےہ ہے کہ پاکستان مےں چار سال تک کوئی وزےر خارجہ نہ تھا، اگر نواز شرےف نا اہل نہ ہوتے تو تب بھی وزارت خارجہ اِسی طرح خالی ہی رہنی تھی۔ اب جبکہ خواجہ آصف وزےر خارجہ ہےں تو اُن کی کار کردگی کا شاخسانہ ےہ ہے کہ کھلی جنسی آزادی کے حکم کو تسلےم کےے جانے کی ہاں کر دی گئی ہے۔ آئےن پاکستان جس کی بنےاد ہی قران و سنت ہے اُس کے تحت اےسا کوئی بھی قانون نہےں بن سکتا گوےا اِس طرح کی تجوےز کو مان کر آئےن پاکستان کی کھلی کلاف ورزی کی گئی ہے بلکہ آئےن پاکستان کے ساتھ غداری کی گئی ہے جس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔
موجودہ چےف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اِس مذموم ارادئے کے پےچھے چھپی کالی بھےڑوں کو بے نقاب کرنے کے لےے فوری طور پر حکم صادر فرمائےں۔اللہ تعالی نے فرمایا”اورتم زنا کے قریب بھی مت جا¶، یقیناوہ بے حیائی اوربُرا راستہ ہے۔“سورةبنی اسرائیل۔
زنامعاشرے کی تباہی کا ایک بہت بڑا عنصر ہے، جوسوسائٹی اور خاندان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے، اور انسانی نسلوں کو غلط ملط کر دیتا ہے،اس لئے مذہب اسلام میں زنا کی سخت سزا ہے۔ غیرشادی شدہ زانی اور زانیہ مرد و عورت کی سزا 100 کوڑے، اور ایک سال کیلئے شہر بدر کرنا ہے۔ دلیل: اللہ تعال نے فرمایا۔”چنانچہ زانیہ عورت اور زانی مرد ان دونوں میں سے ہر ایک کو تم سو کوڑے مارو اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر Êیمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین پرعمل کرنے کے معاملے میں تمہیں ان دونوں زانی اور زانیہ پرقطعا ترس نہیں آنا چاہئے اور مومنوں میں سے ایک گروہ ان دونوں کی سزا کے وقت موجودہونا چاہیے۔“ سورةالنور۔
دلیل:۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جو زنا کا مرتکب ہوا اور شادی شدہ نہ ہو، یہ فیصلہ فرمایا کہ اسے ایک سال کیلئے شہر بدر کر دیا جائے اور اس پر حد بھی لگائی جائے۔ صحیح بخاری حدیث 6833 ۔ دلیل:۔ حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق ہی میرا فیصلہ فرمائیں، اوردوسرا جو اس کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار تھا ،اس نے بھی کہا کہ جی ہاں: آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیان کرو، وہ بولا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پرکام کرتا تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کا ارتکاب کر لیا اور مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا لازم آتی ہے، چنانچہ میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر اس کی جان چھڑائی ۔اس کے بعد میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اس شخص کی بیوی کی سزا رجم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے عین مطابق فیصلہ کروں گا، لونڈی اوربکریاں تمہیں واپس لوٹائی جائیں گی اور تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور انیس تم اس آدمی کی اہلیہ کے پاس جا¶، اگر وہ زناکاری کا اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔ بخاری ومسلم کے الفاظ ہیں۔شادی شدہ زانی اور زانیہ مرد و عورت کی سزا سنگسار کرنا ہے۔ دلیل:۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس وقت آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، وہ بلند آواز سے آپ کو پکار کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول میں نے زنا کیا ہے، آپ نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ دوسری طرف سے گھوم کر آپ کے سامنے آگیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر اپنا رخ انور پھیر لیا حتیٰ کہ اس شخص نے چار مرتبہ اپنی بات دہرائی، اس طرح جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہیاں دے دیں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا ”کیا تو دیوانہ ہے۔ اس نے کہا نہیں آپ نے پھر فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں، توپھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا¶ اور سنگسار کردو۔ زناکار جب قیامت کے دن اُٹھایا جائے گا تو اس حال میں کہ اس کی شرمگاہ اس کے منہ پر لٹکی ہوگی اور وہ ساری انسانیت کے سامنے شرمسار اورذلیل ہوگا۔
مندرجہ بالا گزارشات کا مقصد ےہ ہے کہ جس ملک کے مذہب مےں زنا کے حوالے سے سخت سزا مقرر ہے، اُس ملک کی وزارتِ خارجہ بدکاری کو کھلے عام کرنے کے عمل کو سزا نہ دئےے جانے کے مطالبے کو زےر غور رکھے ہوئے ہےں۔ اربابِ اختےار اِس حوالے سے فوری طور پر کردار ادا کرےں۔
(کالم نگار قانونی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved