تازہ تر ین

جرمنی اورنفرت کا مزاج

مرزا روحیل بیگ ….اظہار خیال
دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد جرمنی کو آج سات عشروں بعد اپنی مصالحت پسندی اور ثالثی کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں دنیا محبت کے اطراف میں گھومتی ہے۔ مگر کبھی کبھی سماج میں نفرت کا زور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ محبت بھی اس کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ حالیہ کچھ عرصے سے جرمن معاشرے اور سیاست میں نفرت کی جو آندھی چل رہی ہے وہ نئی نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ایسے دور آئے ہیں کہ جب نفرت انسانوں کے دماغ پر اس طرح حاوی ہو گئی کہ لگا کہ اس نے شاید محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ختم کر دیا ہے۔ وہ دور ہٹلر کے جرمنی کا ہو، اسٹالن کے روس کا یا جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کا ہو، مگر کہتے ہیں کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ جب جب معاشرے اور سیاست میں نفرت بڑھی ہے، تب تب اس کی ہی کوکھ سے اسے شکست دینے والے پیدا ہوئے ہیں۔
گزشتہ دنوں جرمن شہر میونسٹر میں ایک وین راہگیروں پر چڑھا دی گئی۔ اس واقعے کے نتیجے میں کم از کم چار ہلاکتوں اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کئی جرمن ٹوئٹر صارفین نے حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی میونسٹر وین حملے کا الزام مسلمانوں پر عائد کر دیا تھا۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ ذیہوفر کو کہنا پڑا کہ ” نفرت پر مبنی مزاج کا خاتمہ ہونا چاہیے ”۔ ٹوئٹر صارفین نے اس کاروائی کی ذمہ داری چانسلر انجیلامیرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی پر عائد کی تھی۔ وین ڈرائیور نے اس واقعہ کے فوری بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے کے فوری بعد ہی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) کی نائب رہنما نے اپنی ایک ٹویٹ میں اشارہ دیا تھا کہ اس حملے کی ذمہ داری جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین سے متعلق دوستانہ پالیسی پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم بعد میں جب معلوم ہوا کہ اس حملے میں کوئی مسلمان ملوث نہیں تھا بلکہ یہ کاروائی ایک جرمن شخص نے سر انجام دی تھی تو بیاٹرکس فان شٹروخ نے کہا کہ مشتبہ شخص ” اسلامی دہشت گردی کی پیروی کر رہا تھا “۔ جرمن چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی جانب سے سخت ردعمل آیا اور کہا گیا کہ اے ایف ڈی کو غور کرنا چاہیے کہ فان شٹروخ جیسے ارکان کو کب تک برداشت کیا جانا چاہیے۔ اسلام اور مہاجرین مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی نے اپنے اسی بیانیے کی وجہ سے گذشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جرمن حکام نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اس حملے کے درپردہ ”اسلامی شدت پسندی “ کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ اگر کوئی مسلمان انفرادی طور پر کسی غلط کام میں ملوث پایا جائے تو نزلہ تمام مسلمانوں یا اسلام پر گرتا ہے۔ جبکہ کوئی جرمن اگر غلط کام کرتا ہے تو وہ اس کا انفرادی فعل کہلاتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو پایا کہ کسی بھی مسلمان کا ناپسندیدہ فعل اس کا انفرادی فعل سمجھا جائے اور اسے تمام مسلمانوں یا اسلام سے نہ جوڑا جائے۔ یا کسی جرمن کے فعل کا ذمہ دار پورے جرمن معاشرے کو ٹھہرایا جائے۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر یورپ کے دانشوروں نے جنگ کے نقصانات کی گہرائی کا اندازہ لگایا اور پورے یورپ میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ اب یورپ جنگ کا میدان نہیں بنے گا۔ جرمنی، فرانس اور پولینڈ کی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ نصاب سے نفرت آمیز مواد نکال دیا جائے اور یہ ممالک مشترکہ نصاب تیار کریں جو ان یورپی ممالک میں پڑھایا جائے گا۔ ان ممالک میں اس فیصلے پر مکمل طور پر عمل ہوا اور ان ممالک میں صدیوں پرانی نفرت ختم ہو گئی۔ تاریخ کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ رات کتنی بھی کالی کیوں نہ ہو، کتنی بھی لمبی کیوں نہ ہو، رات پھر رات ہے۔ اس اندھیرے کی کوکھ سے سورج جنم لیتا ہے اور منٹوں میں تاریکی کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔ اس بات کا اعادہ کرنا بہت ضروری ہے کہ مخصوص سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کہ وجہ سے لگائے جانے والے نعروں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ مسلمانوں کو ہمیشہ معذرت خواہانہ رویہ نہیں رکھنا چاہیے، انہیں اپنے فعل سے دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ اسلام امن پسند مذہب ہے۔ اور ساتھ ساتھ بدامنی کے واقعات کے متعلق یہ ثابت کرنا ہے کہ ان واقعات سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔
(کالم نگاربین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved