تازہ تر ین

جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر حملہ

عبدالودودقریشی

سپریم کورٹ میں اہم ذمہ داریوں کے حامل جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر مبینہ طور پر دو بار حملہ کیا گیا اور ان کے گھر سے گولیاں برآمد ہوئیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان گولیوں کے خول ملزمان اٹھا کر لے گئے یا وہ بھی پولیس کونہ مل سکے۔جسٹس اعجاز الاحسن اس وقت شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس میں نگران جج ہیں،پانامہ کیس کے رکن تھے آئین کے آرٹیکل 62ایف کی تشریح کرنے والے بنچ، انتخابی اصلاحات2017ءکے مقدمے ، نہال ہاشمی توہین عدالت کیس اور مستقبل میں پی آئی اے کو کنگال کرنے اور پنجاب میں سرکاری ملازمین پر مشتمل کمپنیاں بنا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہچانے والے مقدمات کے بھی رکن ہوں گے۔سپریم کورٹ پر حملہ عدلیہ کے خلاف گندی زبان کا استعمال ایک طرف مگر جب ججوں کے گھروں پر فائرنگ کا سلسلہ سامنے آئے تو یہ ساری قوم کے لئے تشویش کا باعث ہے۔اس حملے کے بعد چیف جسٹس خود جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر گئے جبکہ وزیر اعلیٰ اور حکومتی نمائندہ ان سے ملنے کے لئے گئے تو وہ ان سے نہیں ملے۔یہ واقعہ انتہائی سنگین ہے۔کئی لوگوں نے جن میں نہال ہاشمی پیش پیش تھا ، ججوں کو دھمکی دی تھی۔فوری طور پر اس حملے کے بارے میں لوگوں کا خیال حکمران جماعت کی طرف جاتا ہے جس کا ابھی کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ خیال محض شک ہی ہو۔مگر یہ واردات جس نے بھی کی ہے عدلیہ اور انصاف پر حملہ ہے۔ عدلیہ کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سے غفلت بھی جرم کے زمرے میں آئے گا۔لاہور میں ججوں کی رہائش گاہوں کے اطراف میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں اور دونوں طرف پولیس کی پوسٹیں بھی ہیں لہٰذا مجرموں کو تلاش کرنا شاید اتنا مشکل نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر حملہ کسی نے شرارت کے طور پر کیا ہو تاکہ یہ سارا معاملہ شریف فیملی کے کھاتے میں ڈال کر عدلیہ کو برانگیختہ کردیا جائے۔ کیونکہ جب معاملات اس طرح کے ر نازک ہوں تو کئی طرح کے لوگ اس میں متحرک ہوتے ہیں اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔واقعہ میں مبینہ طور پر ایک گولی کچن میں پہنچی اور ایک دروازے پر لگی۔ اپنی جگہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ جب رات پہلا حملہ کیا گیا تو اس کے بعد پولیس نے ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا ججوں کے گھروں پر مقرر پولیس گارڈ کہاں تھی اور انھوں نے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی یا اگر وہ نہیں تھے تو ان گھروں کے قریب پولیس کی کئی نفریاں موجود ہیں وہ اس طرف متوجہ کیوں نہیں ہوئے۔ اسی علاقے میں ڈولفن پولیس کی بھی ڈیوٹی لگائی گئی ہے وہ رات اور صبح کہاں تھے یا وہ پوش علاقے میں اپنی ذاتی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔اس واقع میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کے قریب ہی ایک اعلیٰ شخصیت بھی رہائش پذیر ہے اور چیف جسٹس پاکستان نے بڑی بڑی شخصیات کے گھروں کے باہر لگائے گئے ناکے اور بند سڑکوں کو کھلوایا تھا جس پر بہت سارے لوگوں کو پرخاش اور سخت تکلیف ہے کیونکہ اس سے ان کی جھوٹی عزت اور ناموس پر حرف آیا ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ۔ ایک بڑی گھناﺅنی سازش اور عدلیہ پر حملہ ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تمام بار کونسلوں کو کل ہڑتال کرنے سے منع کر دیا ہے یہ ان کا مستحسن اقدام ہے۔ تمام بار کونسلوں نے فوری طور پر اس واقع میں ہڑتال کی کال دی تھی۔اس سے پہلے لاہور میں ہی جسٹس مولوی مشتاق کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی جس میں چوہدری ظہور الٰہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری اس وقت مرتضیٰ بھٹو کی بنائی گئی دہشتگرد تنظیم الذوالفقار نے ذمہ داری قبول کی تھی۔جسٹس راشد عزیز کا بیٹا ایک حملے میں زخمی ہوگیا تھا۔جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کو اغواءکر لیا گیا تھا اور سندھ میں ایک سیشن جج کو قتل کر دیا گیا تھا۔ان تمام واقعات میں جن میں سپریم کورٹ پر حملہ بھی شامل ہے کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آئی اور نہ ان واقعات میں ملوث ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی گئی کہ کوئی اس طرح کی واردات کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقع کو ہی مثال بنا کر مجرموں،ان کے پشت پناہوں اور منصوبہ بندی کرنے والوں کو قوم کے سامنے لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے مگر اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے سے سیاست دانوں کو اور وکلاءتنظیموں کو احتیاط برتنی چاہئے۔دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عدلیہ پر حملے ہوتے ہیں اور بعض اوقات عدالتوں میں ہی ججوں کو مار دیا جاتا ہے مگر اس کا سراغ لگا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔پاکستان اور دنیا بھر میں ججوں کی کسی شخص سے ذاتی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سامنے آنے والے حقائق اور قانون کے مطابق فیصلہ دیتے ہیں۔ ان کے خلاف جن لوگوں کے مقدمات ہوتے ہیں ان کا خیال یہی ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہیں مگر ایک مقدمے میں دونوں فریقوں کے حق میں فیصلہ ممکن نہیں ہوتا۔ ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا حق پر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بادی النظر میںکوئی حق پر بھی ہومگر قانون اس کے خلاف ہو تو فیصلہ دینا پڑتا ہے۔ عدل انتہائی حساس اور تلوار پر چلنے کا کام ہے مگر عدلیہ کے فیصلوں کو ماننا ان کا احترام کرنا ان کی اور ان کے خاندانوں کی حفاظت جہاں حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے وہاں وکلاءبرادری،میڈیا اور شہریوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی عزت و احترام کے لئے کوشاں رہیں تاکہ کسی مجرم یا ملزم کو ان کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی جرا¿ت ہو اور نہ ہی کوئی ان کے خلاف سازش کر سکے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved