تازہ تر ین

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور تھل

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ جیسے ہی 6ارکان قومی اسمبلی اور 2پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگ نو از کو چھوڑنے کے بعد وجودمیں آیاہے۔پورے ملک میں ایک طرف پھر سے نئے صوبوں کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے تو دوسری طرف اس سوال کو اٹھایاجارہاہے کہ آخر ان ارکان اسمبلی کو جوکہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کیساتھ پانچ سال کے قریب اقتدار کو انجوائے کرتے رہے ہیں، جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا خیال اسوقت کیوں آیاہے جب لیگی حکمرانوں کا اقتدار اڑھائی ماہ کا رہ گیاہے ؟ ۔ اس وقت قومی اسمبلی میں کیوں خاموش رہے ہیں جب ان کی موجودگی میں بقول ان کے لاہور کو نوازاجارہاتھا اور جنوبی پنجاب کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہورہاتھا اور خاص طورپر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کیلئے کوئی پیشرفت نہیں ہورہی تھی ۔اس بات کے باجود کہ پنجاب اسمبلی نے متفقہ قرارداد پاس کرکے وفاق سے مطالبہ کیاتھاکہ پنجاب کو تقسیم کرکے جنوبی پنجاب صوبہ قیام کیساتھ بہاول پور صوبہ کو بحال کیاجائے ۔ مان لیا کہ ابتداءمیں لیگی قیادت جس پر جنوبی پنجاب کے ارکان صدقے واری ہورہے تھے اور وہ ان کی طرف توجہ نہیں کررہی تھی ،ان کی اس بات کو اہمیت نہیں دی جارہی تھی کہ جنوبی پنجاب کے عوام کیساتھ کیاگیا وعدہ پورا کیاجائے تو دوسرے سال بھی تو لیگی حکومت ہی تھی اور پھر تیسرے اور چوتھے سال بھی حکمران تو وہی جماعت تھی جوان کو پیاری تھی ۔یہی خسرو بختیار ،طاہر بشیر چیمہ، چوہدری طاہر اقبال وغیرہ قومی اسمبلی میں موجود تھے لیکن انکی طرف سے قومی اسمبلی کے فلور پر لیگی لیڈرشپ سے اس بات کا مطالبہ تو کبھی نہیں کیاگیاکہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بناﺅ ۔قومی اسمبلی کا ریکارڈ اس بات کو گواہی دے گاکہ ان ارکان اسمبلی نے زیادہ وقت خاموشی میں گزارا اور جوباقی ماندہ تھا اس کو نوازشریف کی خوشامد میں گزار دیا ۔ادھر رانا قاسم نون جوکہ ذرا دیر سے ضمنی الیکشن میں لیگی حکومت کے تعاو ن سے اسمبلی میں پہنچے تھے، انہوں نے بھی رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بعد اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ پر بات ہی کرلی جائے اور پارٹی لیڈر وزیراعظم نوازشریف کو جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاول پور صوبہ بحالی کیلئے الیکشن مہم میں کی گئی تقریر یاددلائی جائے لیکن وہ بھی اسی رنگ میں رنگے گئے جس میں ان کے جنوبی پنجاب کے ساتھی ارکان اسمبلی پہلے ہی رنگے ہوئے تھے۔ مطلب پہلی فرصت میں اپنی حالت بدل لو ،جنوبی پنجاب اور اس کے عوام کیلئے ٹرک کی بتی کافی ہے۔
قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں رپورٹنگ کے دوران ہمیشہ اس بات کو نوٹ کیاہے کہ جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کی اکثریت خاموش یاپھر ؟ آپ سمجھ تو گئے ہونگے ۔ دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ خسرو بختیار یا پھر اس کیساتھ موجود دیگر ارکان اسمبلی جوکہ اب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں اکٹھے ہیں، اکیلئے ہی نہیںجوکہ جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ صوبہ کا مذاق کرکے اپنی سیاست چمکارہے ہیں بلکہ ملتانی وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے بھی اسی طرح کی روش اپنی پوری وزیراعظم شپ میں جاری رکھی تھی۔ یوسف رضاگیلانی نے بحثیت وزیراعظم اپنی تقریروں میں سرائیکی صوبے کا مطالبہ ایسے کرتے تھے کہ یوں لگتاہے کہ موصوف اب کی بار سرائیکی صوبہ بناکر ہی دم لینگے لیکن تقریروں کی حدتو معاملہ ٹھیک تھا ، لیکن موصوف اندرخانے سرائیکی صوبہ کے حامیوں کو ملتانی گولی کروارہے تھے جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم ہاوس سے عدالتی فیصلہ کے بعد نکال دئیے گئے ۔ پیپلزپارٹی کے لیڈر نوید قمر نے قومی اسمبلی میں ایک سوال پوچھاکہ یہ بتایاجائے کہ یوسف رضاگیلانی نے بحثیت وزیراعظم کس رکن قومی اسمبلی کو کتنے فنڈز دئیے تھے ؟ تو پتہ چلاکہ ملتانی وزیراعظم گیلانی نے سب سے زیادہ فنڈز نواز لیگی ارکان اسمبلی کو دئیے تھے جوکہ لاہور یاپھر اپر پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ۔کیساہے،رونا دھونا سرائیکی قوم کیلئے اور مال پانی لاہور کے ارکان اسمبلی کیلئے ۔ یوں اس بات سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ جنوبی پنجاب پسماندہ کیوں ہے ؟ اور اس کو اس پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنے کی سازش میں کون ملوث ہے ؟
ملتانی اور بہاولپور کے موقع پرست سیاستدانوں کا تذکرہ تو ہوا ہے، چلتے چلتے تھل (خوشاب ، میانوالی،بھکر،لیہ،مظفرگڑھ ،جھنگ )کے سیاستدانوں خاص طورپر ارکان قومی اسمبلی جن کی تعداد اس وقت ایوان میں 19 ہے، ان کی سیاست پر بھی بات کرلیتے ہیںتاکہ سند رہے ۔ ان تھل کے 19 ارکان اسمبلی کی تعداد بہاولپور اور ملتان ڈویثرن کے ارکان اسمبلی سے ہی زیادہ نہیں بلکہ بلوچستان کی قومی اسمبلی کی نشتوں سے زیادہ ہے لیکن یہ ایک خاموشی تماشائی کا کردار اداکررہے ہیں ، ان تھل کے ارکان اسمبلی کی طرف سے پنجاب میں اس سیاسی ہلچل کے باوجود کوئی بات نہیں کی گئی ،ان کیلئے سیاسی گونگے کی اصطلاح استعمال کی جائے تو بے جانہ ہوگا ۔حیرت کی بات ہے بہاولپور اور ملتان جن کے پاس چار میڈیکل کالج (قائد اعظم میڈیکل کالج۔شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یارخان،نشتر میڈیکل کالج اور بہاولنگر میڈیکل کالج) ،زکریایونیورسٹی ،اسلامیہ یونیورسٹی سے لیکر تین ائیرپورٹس کے علاوہ انجینئرنگ اور زرعی یونیورسیٹاں ہیں۔اسی طرح ہائیکورٹ کے دو بنچ، ملتان ہائیکورٹ بنچ اور بہاول پور ہائی کورٹ بنچ ہیں ۔ ادھر فیصل آباد ملتان موٹروے ،لاہور ملتان موٹروے ،میٹرو بس سروس ،کمشنرزآفس ،ٹیکنالوجی کالجز ،تعلیمی بورڈز اور دیگر اہم ادارے موجود ہیں۔ وفاقی وزرارتوں میں ملتان اور بہاولپور کے ارکان اسمبلی کی تعداد، اسی طرح ملتان کیلئے گورنر پنجاب اور دیگر مراعات ہیں۔یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ملتان اور بہاولپور تو لاہور کے برابر ترقی میں آ کھڑے ہوئے ہیں ۔ پھر بھی ان کے 6 ارکان اسمبلی اتنا کچھ ہونے کے باوجود اٹھ کر جنوبی پنجاب صوبہ مانگ رہے ہیں اور پریس کانفرنس کرکے عوام کی ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں کہ وہ پسماندہ رہ گئے ہیں،لاہور نے لوٹ لیاہے ۔ لیکن ادھر تھل کے 19 ارکان اسمبلی کا شرمناک اندازہ سیاست دیکھیں ،ا ن کو سیاسی گونگے پن کا دورہ پڑا ہواہے ۔جس تھل کے پاس میڈیکل کالجز، ،ائیرپورٹ ، ا نجینئرنگ وزرعی یونیورسیٹز، ٹیکنالوجی کالجز،تعلیمی بورڈز،ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر سے لیکر ہائی کورٹ کے بنچوں سمیت ایکسپریس ہائی وے اور موٹروے نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،وہاں سے ارکان اسمبلی کی طرف سے کوئی آواز ہی نہیں آرہی ہے؟۔یادرہے کہ تھل کے 6اضلاع کی 19 قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے ایک بھی رکن قومی اسمبلی کو اس قابل نہیں سمجھا گیاہے کہ اس کو وفاقی وزیر، وزیرمملکت یاپھر کوئی اور ذ مہ داری حکومت میں دی جاتی لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر سیاسی میدان میں تھل کیخلاف کردار اداکررہے ہیں۔
(اسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved