تازہ تر ین

وائرل نیوز

محمد فیصل سلہریا….زبان زد عام
انتہائی معتبر ذرائع نے اس رپورٹ کے بعض مندرجات کا انکشاف کیا ہے جو مریم نواز کی ہدایت پر بننے والی کمیٹی نے مرتب کی ہے۔یہ کمیٹی پرویز رشید کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی، مریم اورنگزیب، دانیال عزیر،طلال چودھری اور طارق فضل چودھری اس کے ارکان تھے۔ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی اصل میں نواز شریف کی اس تشویش کے بعد بنائی گئی تھی جو انہوں نے احتساب عدالت کی پیشی کے بعد مریم نواز کے سامنے ظاہر کی تھی جس میں انہوں نے پوچھا تھا کہ مجھے تو بتایا جا رہا ہے کہ تاحیات نا اہلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے مگر ملک بھر میں جہاں بھی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی ہے وہ چیف جسٹس اور آرمی چیف سے اپیل کرتا ہے، حکومت سے اپیل کیوں نہیں کی جاتی۔مریم نواز نے پریشانی کے عالم میں کہا کہ اس کا کھوج لگایا جانا ضروری ہے۔ آپ مجھے چند روز کی مہلت دیں میں جلداس کی وجہ آپ کو بتاﺅں گی۔اس کے بعد مذکورہ کمیٹی کی تشکیل ہوئی جس نے اپنی رپورٹ مریم نواز کو پیش کر دی ہے۔نظر ثانی کے بعد یہ رپورٹ حتمی شکل میں ن لیگ کے تاحیات قائد کو ایک دو روز میں پیش کی جائے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ن لیگ کے لیے تشویش کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ یہ ہمارے عوام کی دوغلی نفسیات کا شاخسانہ ہے جس کی نہایت ہی بلیغ انداز میں ترجمانی انور کمال پاشا کی فلم سرفروش کے اس مشہور زمانہ مکالمے میں کی گئی تھی ”چوری میرا پیشہ اور نماز میرا فرض ہے“۔اسی مزاج کے زیر اثرعوام سیاسی طور پر تو نواز شریف کے بیانیے کو پسند کر رہے ہیں مگر مصیبت کے وقت چیف جسٹس اور آرمی چیف کو پکارتے ہیں۔یہ بات اس طرح بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ معاشرے میں ہر کوئی سرکاری مراعات کا خواہاں ہے مگر ضرورت اور پریشانی میں نجی شعبہ کو ترجیح دیتا ہے جیسے تعلیم اور صحت کا معاملہ ہے۔رپورٹ میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ آخری مثال عمومی رویے کو ظاہر کرنے کے لیے دی گئی ہے، اس کا شریف فیملی کے افراد کا بیرون ملک علاج کرانے سے کوئی تعلق نہیں۔
٭٭٭
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا بڑھتا ہوا وزن ان کے لیے خاصی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر پریشان تھے کہ کسی بھی طرح اس وزن میں کمی نہیں ہو رہی کیوں کہ مولانا وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے کفران نعمت سے تعبیر کرتے ہیں۔ڈاکٹرز مولانا کے اصرار پر وزن کم کرنے کے لیے مختلف اشیا کا استعمال تجویز کرتے رہے مگر اس سے افاقہ نہیں ہوا۔اس پر ڈاکٹروں نے انہیں ورزش کرنے کا مشورہ دیا اور اس کے لیے باقاعدہ جم میں جانے کی درخواست کی۔ مولانا نے اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کیوں کہ ان کے نزدیک اپنے جسم کو بلاوجہ تکلیف دینا جائز نہیں۔ ڈاکٹروں نے خاصی سوچ بچار کے بعد مولانا کو مشورہ دیا کہ آپ کا وزن صرف ایک ہی صورت میں کم ہو سکتا ہے کہ جے یو آئی حزب اختلاف میں شامل ہو کر بھرپور کردار ادا کرے۔ترجمان کے مطابق جے یو آئی نے اب حزب اختلاف میں شامل ہونے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
٭٭٭
امریکہ میں ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی اجازت ملنے کے بعد ایک اور مسئلے نے سر اٹھا لیا ہے اور وہ ہے میٹرنٹی لیو یعنی زچگی کی رخصت کا مسئلہ۔ اس مسئلے کا سامنا کرنے والے سرکاری و نجی شعبہ نے کانگریس سے استدعا کی ہے کہ وہ ہم جنس جوڑوں کی زچگی رخصت سے متعلق بھی قوانین وضع کرے تاکہ ان کے ملازمین میں شامل ایسے افراد کو رخصت دینے یا نہ دینے کا مسئلہ حل ہو سکے۔سرکاری و نجی شعبے کی ایک مشترکہ کمیٹی نے چیف جسٹس کے نام ایک مراسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ جب ان جوڑوں نے بچے پیدا نہیں کرنے تو پھر ان کی ’مادہ‘ کو زچگی رخصت کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ کوئی جدید سائنسی طریقہ اختیار کرتے ہوئے حمل کی منزل پا سکتے ہیں تو دونوں میں یہ منزل پانا کس کا استحقاق ٹھہرے گا، اس کا تعین کیسے ہو گا۔یوں تو جوڑے کے دونوں فرد باری باری زچگی کی لمبی رخصت کی سہولت حاصل کر لیں گے۔اس لیے ضروری ہے کہ جب ان جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا جا رہا ہو تو اسی وقت بیوی کا درجہ پانے والے یا والی کا تعین بھی ہو جانا چاہیے تاکہ زچگی کی رخصت کے استحقاق کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اخبارات میں مذکورہ مراسلہ کے مندرجات شائع ہونے کے بعد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سرکردہ شخصیات نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ زچگی رخصت کی سہولت حاصل کرنے کے لیے شادی شدہ ہونا شرط ہے بچہ پیدا کرنا نہیں، یہ کسی بھی جوڑے کا نہایت ہی نجی معاملہ ہے سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کو اس میں کھوجی بننے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اگر بیوی کا درجہ پانے والے یا والی کا تعین کر دیا جائے تو پھر شوہر بننا کون پسند کرے گا۔چھٹیاں کسے بری لگتی ہیں۔
٭٭٭
پاکستان الاسٹک مینوفیکچرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایک نیوز کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے جینز پہننے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ الاسٹک انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہونے سے بچ جائیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ انہیں دیگر صنعتی مالکان کی طرح بجلی و گیس کی عدم دستیابی پر کوئی شکایت نہیں اور نہ ہی بجلی و گیس کے نرخوں پر کوئی اعتراض ہے۔ ہمارا حکومت سے بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ خواتین کے جینز پہننے پر پابندی لگائی جائے کیوں کہ شلوار اور پاجاموں کے استعمال میں کمی آنے سے الاسٹک کی فروخت کم ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال برقرار رہی تو الاسٹک انڈسٹری بالکل بند ہو جائے گی۔نیوز کانفرنس کے دوران ایک رپورٹر نے ان عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ اپنی آواز کو موثر بنانے کے لیے ازار بند بنانے والے ہنرمندوں کو بھی ساتھ ملا لیں اور صبر شکر کے ساتھ حالات کی بہتری کا انتظار کریں۔ جب شلوار پاجامے میں ازار بند استعمال کرنے کے بجائے الاسٹک کا فیشن شروع ہوا تھا تب ان ہنر مندوں نے بھی صبر شکر ہی کیا تھا۔
(نوٹ :ان خبروں کے کردار تو اصلی ہیں،واقعاتی مشابہت محض اتفاقی ہو گی)
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved