تازہ تر ین

انجان راہوں کے اجنبی مسافر!!

محمدانور گریوال …. بادِصحرا
الیکشن کا نقارہ بجتے ہی موسمی پرندے بھی اُڑانیں بھرنے لگے ہیں، جن دسترخوانوں پر پونے پانچ سال دانہ دُنکا چُگا، اب وہاں سے کُوچ کا وقت آگیا ہے ، ذائقہ بدلنے کے لئے نئے دسترخوانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ اِکا دُکا واقعات تو پیش آ ہی رہے تھے کہ جنوبی پنجاب کے آٹھ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی حکومتی پارٹی کو داغِ مفارقت دے گئے۔ بظاہر وہ کسی دوسری پارٹی میں نہیں گئے، بلکہ ”جنوبی پنجاب صوبہ محاذ“ کے نام سے نئی تنظیم کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں۔بلخ شیر مزاری، نصراللہ دریشک، خسروبختیار، رانا قاسم نون وغیرہ فی الحال اس محاذ میںنمودار ہوئے ہیں۔ اسمبلیوں میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ان لوگوں نے جس ایشو کو انتخابی مہم کے لئے اہم جانا، اسی کا بینر اٹھا لیا۔ کہیں پارٹی کے کھمبے الیکشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں، کہیں شخصیت کو ووٹ ملتے ہیں اور کہیں ایشوز بھی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بھی ملا جلا رجحان ہے، یہاں نئے صوبے کے قیام کو ایشو بنایا جاتا ہے، مگر ماضی قریب میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ کوئی صاحب نیا صوبہ بنانے کے ایشو کو لے کر اٹھے ہوں اور قوم ان کے پیچھے ہو لی ہو۔ عموماً سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر ہی کامیاب ہوئے ، اگر کوئی صاحب آزاد حیثیت سے کامیاب ہو بھی گئے تو انہوںنے روایات پر عمل کرتے ہوئے اور بہترین ملکی مفاد میں ہمیشہ حکومتی بنچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پر بات کرنے سے قبل اُن افراد پر نگاہ ڈالنا ضروری ہے، جنہوں نے یہ بڑا اقدام کیا۔ اس حقیقت سے اکثر لوگ آگاہ ہیں کہ جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کی تحریک ایک عرصے سے موجود ہے، یہاں ایک نہیں بلکہ دو صوبوں کی بات ہو رہی ہے، ایک صوبہ بہاول پور کی بحالی کا معاملہ ہے اور دوسرا جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ کے قیام کی کہانی ہے۔ مگر دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تمام افراد میں سے کوئی بھی کبھی کسی صوبے کا کھل کر حامی نہیں رہا، اگر حمایت کی بھی تو بہت ہی محتاط انداز میں ، جو پارٹی قائدین کا بیان آیا ، اسی کو حرفِ آخر جانا اور اسی کی حمایت میں جُت گئے۔ صوبہ بہاول پور کی بحالی کی تحریک اڑتالیس برس پر محیط ہے۔ 1970ءکے الیکشن میں جب ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی بہاولپور کی صوبائی حیثیت ختم کردی گئی تو یہاں کے عوام میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی، یہ لہر اس قدر شدید تھی کہ آنے والے الیکشن میں صوبہ کی حدود میں بہاول نگر سے قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کے سوا تمام قومی اور ؒصوبائی سیٹیں صوبہ بحالی کے لئے قائم کئے جانے والے متحدہ محاذ نے حاصل کرلیں۔ جس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی اسی پارٹی کا منتخب ہوا، پاکستان بھر میں بھٹو کی مقبولیت کی لہر چلی ہوئی تھی۔
اس عظیم کامیابی کے بعد کی تاریخ کچھ زیادہ تابناک نہیں، صوبہ بحالی کے اکثر منتخب نمائندے اپنے مطالبے سے دستبردار ہو گئے۔کہا جاتا ہے کہ انہیں ان کی من پسند مراعات وغیرہ دی گئی تھیں۔ تاہم قومی اسمبلی کے دو ممبران رحیم یار خان سے نور محمد ہاشمی اور بہاول پور سے نظام الدین حیدر نے 1973ءکے اُس آئین پر دستخط نہیں کئے جسے پاکستان کا متفقہ آئین کہا جاتا ہے اور آج بھی ملک میں وہی آئین نافذ العمل ہے۔ صوبہ بہاول پور بحالی کا یہ ایک نمایاں اور ٹھوس ثبوت ہے۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، صوبہ بہاول پور بحالی کا ایشو بعد میں صرف سیاست کرنے کے لئے رہ گیا۔
چند برس قبل سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے اس ایشو میں اگرچہ نئی روح پھونکی، رحیم یار خان سے مخدوم احمد محمود اور بہاول پور سے نواب صلاح الدین نے اس تحریک کو تیز کرنے کے عمل میں اپنی اپنی کوشش کی، مگر جُدا جُدا راستوں پر چلنے والے ایک منزل تک نہ پہنچ سکے۔ گزشتہ دور کے اواخر میں پنجاب اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی تھی، جس میں بہاول پور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس کے بعد یہ معاملہ قومی اسمبلی ، وہاں سے سینیٹ اور قانون بن جانا تھا، مگر صوبے میں ن لیگ اور مرکز میں پی پی کی حکومت تھی، معاملہ کو ٹال مٹول کے ذریعے اتنا موخر کر دیا گیا کہ نیا الیکشن سر پر آگیا۔ تمام سیاسی جماعتیں نئے صوبے کے قیام کی حامی ہیں، مگر کچھ ہو اسی وقت سکتا ہے جب حکمران کچھ کرنا چاہیں، کیونکہ صرف نعروں اور دعووں سے کوئی صوبہ تو کیا پتا بھی حرکت نہیں کر سکتا۔
صوبہ محاذ کو بھی کئی محاذوں پر لڑنا پڑے گا، بہاولپور صوبہ بحالی کے حامی اس محاذ کو صرف اسی صورت میں تسلیم کریں گے اگر وہ اُن کے صوبے کی بحالی کی بات کریں۔ جبکہ صوبہ بہاول پور کی حدود میں ایک دو چھوٹے علاقوں کی بھاری اکثریت صوبہ بحالی کی حامی ہے۔ اس ضمن میں بہاول پور صوبہ والوں نے احتجاج شروع بھی کر رکھا ہے۔ دوسری طرف سرائیکی پارٹیاں پورے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حق میں ہیں، ان کی ایک شرط یہ ہے کہ بہاول پور صوبہ بھی اس میں شامل ہو اور دوسرایہ کہ اس صوبہ کا نام سرائیکی صوبہ رکھا جائے۔ یوں آنے والے وقت میں اس صوبہ محاذ کو تعصبات وغیرہ کے محاذ پر بھی جنگ لڑنا ہوگی۔ نئے محاذ پر آنے والے لوگوں کو عوام کے تلخ سوالوں کے جوابات بھی دینا ہوں گے کہ آخر آج سے قبل انہوں نے کسی صوبے کی کوئی بات کیوں نہیں کی؟ خیر سیاستدانوں میں خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، ایسے جواب وہ دے ہی لیں گے۔
اس محاذ کے قیام سے سب سے زیادہ نقصان تو مسلم لیگ ن کو پہنچا ہے، مگر پارٹی کے سابق صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ لوگ کبھی ہمارے تھے ہی نہیں، اور یہ جہاں جائیں گے کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ مگر ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر تھے ہی نہیں تو آپ کے شمار میں کیسے تھے؟ گنتی اور ووٹنگ میں آپ کے ساتھ کیسے ہوتے تھے؟ ان افراد میں بہاول پور سے صرف ایک شخصیت (سمیع اللہ چوہدری) نے اس محاذ میں شمولیت اختیار کی ہے، ان کی زوجہ محترمہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر ممبر صوبائی اسمبلی تھیں، (اگر یہ لوگ آپ کے نہیں تھے تو یہ موصوفہ ایم پی اے کیسے بن گئیں؟) یہ چوہدری صاحب میاں برادران کے ہر دور میں ساتھی رہے، ان کے دورِ حکومت میں بھر پور مراعات سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے، ہر موقع پر اپنے قائدین کے لئے قربانی دینے کے لئے صفِ اول میں دیکھے گئے۔ جس روز میاں نواز شریف کو نااہل کیا گیا، یہ صاحب وہاں کالا کوٹ اور ٹائی پہن کر وکیل کا روپ دھار کر جذباتی نعرے لگا رہے تھے، ن لیگ کی تنظیم میں صوبائی سیکرٹری انفارمیشن کا عہدہ بھی انہی کے پاس تھا۔ پارٹی میں ان کی مقبولیت کے حوالے سے کوئی شک نہیں تھا۔تاہم ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ ہمارے کبھی تھے ہی نہیں، بالکل نامناسب تبصرہ ہے۔ بہرحال بظاہر اس محاذ کی کوئی زبردست عوامی پذیرائی دکھائی نہیں دیتی، مگر اپنے ہاں یہ سانحہ بارہا گزرا ہے کہ ”منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے“ ۔ یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، اب پیر پگاڑا اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اس محاذ کا اتحاد ہونے کو ہے،کس مہرے کو کہاں رکھا جاتا ہے، نگاہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved