تازہ تر ین

سفر معراج اورشیطانی آوازیں!!

حافظ محمد ادریس….توجہ طلب
انبیا و رسلؑ اللہ کے محبوب اور منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ جماعت انبیا میں جو مقام خاتم النبیین کو حاصل ہے اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بے شمار فضائل میں سے معراج اہم اور امتیازی شان کا بے مثال واقعہ ہے۔ یہ سفر کیسے ہوا ،اس کی ساری تفصیلات کتاب و سنت میں ملتی ہیں۔ تفسیر قرطبی میں امام قرطبی صحیحین میں حضرت ابو سعید خدریؓ کی بیان کردہ حدیث کی روشنی میں لکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب براق پر سوار ہوکر بیت المقدس کی طرف جارہے تھے تو راستے میں آپ کو مختلف آوازیں سنائی دیں۔ جبریل ؑنے بھی آپ سے پوچھا کہ اے محمد! کیا آپ نے آوازیں سنی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں میں نے آوازیں سنی ہیں۔ انھوں نے پوچھا: کیا آپ نے راستے میں عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھی ہیں تو آپ نے فرمایا: ہاں دیکھی اور سنی ہیں، مگر میں نے نہ کسی آواز پر کان دھرا، نہ کسی چیز کو درخورِ اعتنا سمجھا۔ میں نے دائیں طرف سے بھی آواز سنی اور بائیں طرف سے بھی، پھر سامنے سے ایک بنی سنوری عورت بھی دیکھی، اس نے بھی مجھے آواز دی۔ لیکن میں نے کسی کی آواز پر کوئی بھی توجہ نہیں دی۔
جبریل ؑنے کہا کہ جو آپ کے دائیں جانب سے آواز آئی تھی وہ شیطان کی آواز تھی، اگر آپ اس آواز پر کان دھرتے تو آپ کی امت کے یہودیت کی طرف مائل ہونے کا خطرہ تھا۔ پھر شیطان بائیں جانب سے آیا اور جب بائیں طرف سے اس نے آواز دی تو اس پر کان دھرنے کے نتیجے میں آپ کی امت کے نصرانیت سے متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔ جب آپ کو عورت نظر آئی تو وہ دنیا تھی جو اپنی رعنائیوں کے ساتھ آپ کو آخرت سے غافل کرنا چاہتی تھی، مگر آپ کامیاب رہے اور آپ نے ان شیطانی آوازوں کو کوئی وقعت نہ دی۔ (الجامع لاحکام القرآن، الجزءالعاشر، ص ۲۰۶)
دنیا تمام تر رنگینیوں کے ساتھ بندوں پر اپنے ڈورے ڈالتی ہے۔ اللہ والے اس کے دام میں نہیں آتے۔ اس کے پرستار سب کچھ بھول بھال کر اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بکثرت اس خطرے سے بچنے کے لیے تلقین فرمائی گئی ہے۔ چند احادیث بطور تذکیر یہاں پیش کی جارہی ہیں۔
ترجمہ: یہ دنیا اس شخص کا گھر ہے جس کا گویا کوئی گھر نہیں اور اس کے لیے (مال و متاع) وہی جمع کرتا ہے جو عقل سے عاری ہو۔ (مسند احمد، عن عائشہؓ مرفوعاً)
ترجمہ:یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ (صحیح مسلم، عن ابی ہریرہؓ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”دنیا میں یوں زندگی گزار گویا کہ تو اجنبی اور مسافر ہے۔“ اس روایت کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرؓ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے جب تم پر شام کا وقت آجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو (یہی سمجھو کہ شاید میری زندگی کی آخری شب آگئی ہے) اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو (یہی سمجھو کہ شاید میری زندگی کا آخری دن طلوع ہوا ہے) اور اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور کچھ نیکی کرلو، اسی طرح اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو اور کچھ کارِ خیر کرلو۔ (صحیح بخاری، جامع الترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھردری چٹائی پر سوئے، پھر جاگے تو آپ کے پہلو مبارک پر چٹائی کے نشانات تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہ ہم آپ کے سونے کے لیے نرم گدا فراہم کریں۔ آپ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا لینا دینا ہے۔ میں تو دنیا میں اس طرح زندگی گزار رہاہوں جس طرح ایک سوار اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے کسی درخت کے سائے میں بیٹھ جائے، پھر اٹھے اور سایہ چھوڑ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوجائے۔ (جامع الترمذی)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غربا و مساکین مال دار لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (جامع الترمذی)
حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ جنت میں داخل ہونے والے اکثر مساکین تھے، اور مال دار لوگوں کو جنت کے دروازے پر (انتظار میں) روکا گیا تھا، جبکہ اہلِ دوزخ کو آگ میں ڈالنے کا حکم صادر ہوچکا تھا۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ذرا سوچ لو کیا کہہ رہے ہو؟ اس شخص نے خدا کی قسم کھا کر تین مرتبہ کہا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر و فاقہ کے لیے خود کو تیار کرلے، کیونکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کی جانب فقر اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آتا ہے جس تیزی کے ساتھ بلندی سے پانی کا ریلا نیچے کی طرف بہتا ہے۔ (جامع الترمذی)
ان احادیث میں اہلِ ایمان کومتوجہ اور متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کو دل میں بسا لینا اور اس کا غلام بن جانا بندہ¿ مومن کی شان نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حلال ذریعے سے مال ودولت کمانا معیوب ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن دنیا پر سواری کرتا ہے، دنیاداری اور مادہ پرستی کی سواری نہیں بن جاتا۔ آپ کا ارشاد ہے کہ پاکیزہ مال صالح اور نیک بندے کے لیے بہترین چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا کہ میرے بندے مجھ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی دعا کا تذکرہ سورةالبقرة میں یوں کیا گیا ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ (البقرہ۲:۲۰۱)
صحابہ کرامؓ میں فقرا بھی تھے اور اغنیا بھی۔ اغنیا کا مال مکمل طور پر حلال طریقوں سے حاصل کیا گیا تھا اور جب بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع آتا تو یہ اغنیا بے حساب خرچ کرتے۔ ان میں سے اکثر ایسے تھے کہ نہ گنتے تھے نہ تولتے تھے، جیسے عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عثمان غنیؓ۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقے سے مال میں کمی نہیں آتی، بلکہ اضافہ ہوتا ہے اور قصور معاف کردینے سے آدمی کی شان کم نہیں ہوتی بلکہ وہ سربلند ہوتا ہے اور جو شخص بھی عجزوانکسار اختیار کرے اللہ اسے بالاتر کردیتا ہے۔ (صحیح مسلم، روایت ابوہریرہؓ)
حضرت اسماءبنت ابی بکرؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اسمائ! اللہ کی راہ میں کشادہ دستی سے خرچ کرتی رہو اور گن گن کر مت دیا کرو۔ اگر تم اللہ کی راہ میں حساب کر کے اور گن کے دو گی تو وہ بھی تمھیں حساب ہی سے دے گا اور اگر بے حساب دوگی تو اللہ بھی بے حساب دے گا۔ (صحیح بخاری ومسلم، براویت حضرت اسمائؓ)
حضرت ابوطلحہ انصاریؓ کے بارے میں حضرت انسؓ کی ایک روایت ہے کہ مدینہ میں سب سے زیادہ کھجور کے باغات حضرت ابوطلحہؓ کی ملکیت تھے۔ ان کا سب سے قیمتی باغ ”بیرحائ“ کے نام سے معروف تھا جو مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ اس میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جایا کرتے تھے اور باغ کے کنوئیں کا پانی اور باغ کی کھجوریں شوق سے نوش فرماتے تھے۔ قرآن میں جب یہ آیت نازل ہوئی۔
ترجمہ: تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم عزیز رکھتے ہو۔(آلِ عمران۳:۹۲)تو حضرت ابوطلحہؓ نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے اپنا باغ بیرحاءسب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ میری طرف سے صدقہ ہے تاکہ آخرت میں مجھے اس کا ثواب ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ، تیرا یہ باغ تو بہت نفع بخش اور کارآمد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے ضرورت مند قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا، جس سے وہ سب بھی مال دار ہوگئے۔ (صحیح بخاری ومسلم، بروایت حضرت انسؓ)
پس معلوم یہ ہوا کہ مال فی نفسہ معیوب چیز نہیں، بلکہ مطلوب ہے تاکہ وہ اللہ کے راستے میں حسبِ ضرورت فراخ دلی سے خرچ کیا جاسکے۔ کنجوس مال دار دنیا وآخرت میں خسارہ پانے والا ہے۔ فیاض شخص دنیا میں بھی سرخرو ہے اور آخرت میں بھی کامیاب۔ مال حلال ہونا چاہیے اور دل بڑا ہونا چاہیے۔ پھر یہ مال بہترین متاع شمار ہوگا۔
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved