تازہ تر ین

جلد بازی نہ دکھائیں

توصیف احمد خان
جسٹس اعجاز الاحسن کے لاہور میں گھر پر فائرنگ کی ملک کے طول و عرض میں مذمت کی گئی ہے ، عمومی طور پر لوگوں کا رویہ محتاط ہی رہا کیونکہ تفتیش کی تکمیل اور کسی قسم کے شواہد سامنے آنے تک کوئی نظریہ قائم کرنا ممکن نہیں ، کچھ لوگوں نے دبے لفظوں میں اپنے شک کا اظہار کیا ہے اور ان دنوں ظاہر ہے شک کس پر جاسکتا ہے …ہمیشہ کی طرح ایک ہی شخصیت اور ایک ہی جماعت ہے جو تختہ مشق بنی ہوئی ہے ، ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ، آج بھی ہورہاہے اور قریبا ً یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ ہم سبق سیکھنے کے نہیں وقتی مصلحتوں اور مفادات کو بروئے کار لانے کے عادی ہیں خواہ اس کا نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ نکلے ، یہ بھی ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے کہ آج جو زیر عتاب ہے ، کل کلاں وہی سرخرو ٹھہرے …آج تو اس کی ایک مثال بھی موجود ہے …جناب آصف علی زرداری کو اسی حوالے سے پیش کیا جاسکتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک ایسا لگتا تھا اور کہا بھی جارہاتھا کہ وہ ملک سے فرار ہوگئے ہیں ، گرفتاری کے خوف سے واپس نہیں آئیں گے …پھر وہ واپس بھی آئے اور آجکل کئی حوالوں سے ان کا طوطی بول رہا ہے ، یقین نہیں مگر شنید ہے کہ انکے ساتھ کچھ وعدے وعید بھی ہوچکے ہیں ۔
آج جو پارٹی اور جو شخصیت معتوب ہے ، یہ اسکے لئے کوئی نئی بات نہیں ، یہ عتاب اس پر پہلے بھی نازل ہوتا رہا ہے اور پھر ٹلنے میں بھی بہت زیادہ دیر نہیں لگتی تھی، ہماری مراد ن لیگ اور محترم نوازشریف سے ہے … باقی لوگوں کے نام اسلئے نہیں لکھ رہے کہ وہ سب اسی کشتی کے سوار ہیں جسکے ملاح نوازشریف ہیں، اگرچہ کچھ سواروں نے چھلانگیں لگادی ہیں اور کچھ لگانے کیلئے پر تول رہے ہیں تاہم اکثریت کشتی میں موجود ہے ، ویسے اس ملک میں اکثریت کو اقلیت بننے میں دیر نہیں لگتی ، ہوسکتا ہے کہ ماضی کی طرح یہ عتاب بھی عارضی ثابت ہواور وہ ایک بار پھربڑے کروفر سے آسمان سیاست پر جلوہ افروز ہوجائیں بلکہ صاحب اقتدار بھی بن جائیں کہ نااہلی کا داغ تو پہلے بھی ان پر لگ چکا ہے مگر ڈرائی کلینر کے پاس جاتے ہی اس قسم کے سب داغ دھبے دھل جاتے ہیں ۔
بات اصل میں دوسری جانب نکل گئی جو ہمارا آج کا موضوع نہیں، بزرگ اور سیانے اسی کو بات سے بات نکلنا قرار دیتے ہیں …ذکر تھا جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ اور اس کے حوالے سے رد عمل کا، باقی تو خیر ٹھیک ہے مگر تحریک انصاف خصوصاً اس کے قائد اور انکی یک رکنی اتحادی جماعت کے سربراہ کا بیان کچھ زیادہ سمجھ میں نہیں آیا، دونوں نے جو بات کہی ہے اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کام کرانے والے نوازشریف اور ن لیگ کے سوا کوئی نہیں …عمران خان نے تو سیدھا سادا سسلین مافیا کو ذمہ دار قرار دیدیا ہے ، ہم آپ سب جانتے ہیں کہ اس مافیا سے انکی مراد کون ہے ، سسلین مافیا کے حوالے سے پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے ایک معزز جج نے ذکر کیا تھا اور یہ ذکر نوازشریف کے سوا کسی کے بار ے میں نہیں تھا، کئی ماہ بعد اگرچہ اسکی تردید ہوئی مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ اصطلاح گھر کرگئی تھی ۔
کہنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں ، آو¿ دیکھا نہ تاو¿ جو شخصیت صورتحال میں فٹ ہوتی ہو بلا سوچے سمجھے اس پر الزام لگادیا جاتا ہے ، شیخ رشید سے تو کسی بھی بات کی توقع کی جاسکتی ہے مگر عمران خان صاحب سے ایسی توقع ذرا مشکل بات ہے ، کیونکہ وہ جو بات کرتے ہیں اس پر حقیقت کا گمان گذرتا ہے …ہوسکتا ہے کہ انکی یہ بات بھی حقیقت ہو مگر فی الحال قرین قیاس نہیں …اس موقع پر نوازشریف یا انکی جماعت کو اس قسم کی کسی حرکت سے فائدہ تو خیر کیا ہوگا ، ہر طرف نقصان ہی نقصان نظر آئیگا اور پھر جج خصوصا ً اعلیٰ عدلیہ کے جج بزدل نہیں ہوتے کہ اس طرح کے معاملات سے ڈر جائیں اور دبک کر بیٹھ جائیں ، ایسی صورتحال پیدا ہورہی ہو تو ہمارے نزدیک وہ انصاف کی کرسی کے اہل ہی نہیں ہوتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ثابت کیا کہ وہ واقعی جج ہیں ، گھبرانے کی بجائے انہوں نے رخت سفر باندھا اور مقدمات کی سماعت کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے ۔
بغیر کسی تفتیش کے جو لوگ کسی پر بھی الزام لگارہے ہیں ، ہمارے نزدیک یہ انکی بہت بڑی حماقت ہے …فرض کریں یہ کام نوازشریف یا انکی جماعت نے کروایا ہے تو ہم انہیں بھی بہت بڑا احمق قرار دینگے جن میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا مادہ نام کو بھی نہیں ، وہ لوگ جس صورتحال سے دوچار ہیں اس میں اسطرح کی کوئی حرکت سراسر گھاٹے کا سودا ہے ، اگرچہ بہت سی بڑی بڑی حماقتیں انکے کھاتے میں ہیں لیکن اس قسم کی حماقت بھی کی جاسکتی ہے …!یقین نہیں آتا ۔
بہرحال ! ہر شخص کا اپنا اپنا نقطہ نظر اور اپنی اپنی رائے ہے ، ویسے بھی بلا سوچے سمجھے الزام لگادینا اب فیشن سا بن چکا ہے ، اس سلسلے میں کسی واضح اور ٹھوس بات کے سامنے آنے کا کم ہی انتظار کیا جاتا ہے ، مقصد فوری سیاسی فوائد کا حصول ہے جو کسی طرح بالغ نظری کے زمرے میں نہیں آیا۔
اس واقعہ کی تفتیش اور حتمی نتیجہ اخذ کرنے کیلئے جے آئی ٹی یعنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بن چکی ہے اور اس نے اپنا کام بھی شروع کردیا ہے ، دیکھتے ہیں اس ٹیم کی ماہرانہ رائے کیا ہے …ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک پرانے کرائمز رپورٹر کی پوسٹ نظر سے گذری ، انہوں نے موقعہ وغیرہ دیکھنے اور وہاں حالات کا جائزہ لینے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا ہے ضروری نہیں کہ ہم اور آپ اس سے اتفاق بھی کریں لیکن اس کو مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایک کرائمز رپورٹر میں بہترین تفتیش کار بھی موجود ہوتا ہے ، اس خوبی کے بغیر رپورٹنگ کی ہی نہیں جاسکتی ، انکے نزدیک یہ کوئی باقاعدہ فائرنگ نہیں بلکہ کسی اندھی گولی کا شاخسانہ ہے ، انکے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے بھی گولی چلائی ہے اسکا خاص نشانہ یہ نہیں تھا۔
انکی بات کو سچ مان لیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی شوقیہ فنکار تھا جس نے کہیں ادھر ادھر سے گولی چلادی ورنہ رینجرز ، پولیس اور کیمروں کی نظر سے کیسے بچ پاتا ، ہمیں انکی بات کا یقین نہیں ، یہ محض ایک امکان ہوسکتا ہے ، اصل بات وہی ہوگی جو جے آئی ٹی کی تفتیش کے بعد سامنے آئیگی کیونکہ اس میں شامل لوگ ماہر اور تربیت یافتہ تفتیش کار ہیں، وہ سارے حالات و واقعات کا جس باریک بینی اور مہارت سے جائزہ لیں گے ہم آپ اس تک نہیں پہنچ سکتے ، ہم محض قیاس ہی کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں قیاس کی کوئی گنجائش نہیں ۔
ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے جلد بازی میں الزامات نہ لگائے جائیں بلکہ پورا غور و فکر کیا جائے اور تفتیش کو کسی کروٹ بیٹھ لینے دیا جائے پھر جس قدر چاہے شور مچالیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved