تازہ تر ین

شام پر حملے سے سبق حاصل کیا جائے

عبد الودود قریشی
جمعہ کو امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ شام کے دو شہروں پرمیزائل برسائے‘ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگان نے کہا کہ ان مقامات پر اعصاب شکن گیس سارین(Sarin)کے ذخائر تھے اور یہاں اس کی تیاری بھی ہوتی تھی ۔ شام اپنے ہی شہریوں پر اس گیس کا استعمال کرتا تھا۔سارین انتہائی زہریلی،بے رنگ،بے بو ہوتی ہے جبکہ گزشتہ سال اپریل میں شام کے ایک ہوائی اڈے پر 59ٹوماہاک میزائل داغے گئے تھے اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ یہاں کیمیکل ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا اقوام متحدہ اس زہریلی گیس اور کلورین کے استعمال پر مکمل پابندی لگا چکا ہے اور کوئی ملک دوسرے ملک کے خلاف جنگ کے دوران بھی اسے استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ ہوا کے ساتھ پھیلنے والی یہ زہریلی گیس شہری آبادی کو بھی نہیں بخشتی اور اس سے متاثر ہونے والے سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں۔شام پر الزام لگایا گیا کہ اس نے کچھ دن پہلے اپنے ایک شہر پر حملہ کیا جہاں سارین استعمال ہوئی اور ستر افراد جاںبحق ہوگئے۔امریکہ جس ملک پر حملہ کرتا ہے اس پر سب سے پہلے یہی الزام لگاتا ہے کہ وہاں اعصاب شکن گیس موجود تھی،تیار کی جارہی تھی یا اس کا ذخیرہ تھا مگر یہ کیسے ثابت ہوا کہ امریکہ جہاں حملہ کرتا ہے وہیں یہ گیس موجود ہوتی ہے اسی طرح 2003ءمیں عراق کو بھی نشانہ بنایا گیا وہاں اپنی فوجیں داخل کر دی گئیں اور آج تک عراق امریکہ کے زیر تسلط ہے۔ تیل کے عراقی کنوﺅں سے انتہائی سستے داموں تیل امریکی جہاز جبراً لے کر جاتے ہیں جبکہ لیبیا میں بھی یہی واردات دہرائی جارہی ہے۔عراق میں نہ تو خطرناک میزائل برآمد ہوئے اور نہ ہی کیمیکل ہتھیاروں کا ذخیرہ۔شام میں دہشتگردوں کے خلاف حکومتی کارروائی بے احتیاطی سے کی جارہی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سارے علاقے کا محاصرہ کیا پھر علاقے سے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو نکلنے کے لئے کہا۔ پمفلٹ پھینکے گئے اعلانات کیے گئے ۔ اس کام کے لئے کچھ دن کی مہلت دی گئی اور دہشتگردوں کے علاقوں سے نکل کر آنے والوں کے لئے خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جہاں انھیں زندگی کی تمام سہولیات باہم پہنچائی گئیں اس کے بعد وہاں توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور دہشتگردوں کے بعض ٹھکانوں پر ہیلی کاپٹروں اور جہازوں سے بھی بم گرائے گئے۔اس کے برعکس عرب ممالک دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کی جانوں کا خیال نہیں کرتے نہ ہی اتنا بڑا تردد کرنا گوارا کرتے ہیں کہ ان علاقوں سے عورتوں،بچوں اور بزرگوں کو نکال لیا جائے اور ان کے لئے باضابطہ اہتمام کیا جائے کہ وہ دہشتگردوں کے چنگل سے نکل سکیں۔دہشت گرد انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ عرب ممالک اس حوالے سے بے حسی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ چند دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لئے بے گناہ اور معصوم لوگوں کو بھی مارنے سے گریز نہیں کرتے اور اس میں آسانی محسوس کرتے ہیں کہ سارے علاقے کا ہی صفایا کر دیا جائے۔شام کی صورتحال انتہائی غمگین ہے جس کو کئی ملکوں نے اپنا اکھاڑا بنا رکھا ہے امریکہ اور اسرائیل اس معاملے میں پیش پیش ہےں۔مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک کو امریکہ ایک پالیسی کے تحت عدم تحفظ کا شکار کئے ہوئے ہے جس کے مقاصد واضح اور دوٹوک ہیں کہ ان ممالک سے سستے داموں تیل حاصل کیا جائے ان حکمرانوں کو اپنا مطیع بنا کر رکھا جائے اگر وہ سرنڈر نہ کریں تو ان کی حکومتوں اور ریاستوں کو تاراج کر دیاجائے۔اس لئے سعودی پرنس نے اپنے ملک کو بچانے کے لئے امریکہ اور یورپ کو اربوں ڈالر دیئے اور ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے بعض ایسے اقدامات کا اعلان کر دیا جسے مسلمان ملکوں میں پسندیدگی سے نہیں دیکھا جاتا۔دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوجاتی ہے کہ جہاں وہ حملہ آور ہورہے ہیں وہاں پر اعصاب شکن گیس اور زہریلے مواد سے بھرے بم موجود ہیں اور کیا کوئی ملک اپنے ہوائی اڈوں پر جہاں ہزاروں لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے ایسے بم اور میزائل رکھ سکتا ہے ۔ جب امریکہ نے اچانک وہاں حملہ کیا تو اس حملے میں ان بموں سے نکلنے والے زہریلے مواد سے ملکی اور غیر ملکی لوگوں کی کتنی تعداد متاثر ہوئی یقینا ایسا کوئی دعویٰ نہ امریکہ نے کیا ہے نہ شام کی حکومت نے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہوائی اڈوں پر حملے ان زہریلے بموں کے لئے نہیں بلکہ دوسرے مقاصد کے لئے تھے شام کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ستر کے قریب میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا۔یہ حوصلہ افزا خبر ہے کہ امریکہ مخالف ممالک بھی ایسی ٹیکنالوجی رکھتے ہیں جس سے اس کے حملے کو کم کیا جاسکے۔ایک وقت تھا جب افغانستان پر حملے سے چند دن پہلے پاکستان کے حساس اداروں کو اس بات کی اطلاع ملی کہ امریکہ اس خطے میں حملہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا پاکستان کے ہوائی اڈوں پر اس کے دفاع اورآنے والے جنگی طیاروں کو مار گرانے کے باقاعدہ انتظامات کر لئے گئے اسلام آباد ایئر پورٹ کے رن وے کے دونوں جانب توپیں نصب کر دی گئیں مگر وہ حملہ افغانستان پر کیا گیا۔امریکی حملوں سے ہمیں کچھ سبق حاصل کرنا چاہیے اور ایسی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنی تیاری رکھنی چاہیے کہ یہ بدمست ہاتھی کبھی کسی بھی ملک پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ آج کل امریکہ کے حالات کشیدہ ہیں مبینہ طور پر امریکہ کے کہنے پر ہی سعودی عرب نے بھارت سے 44ملین ڈالر کے سودے کیئے ہیں۔ پاک چین دوستی اور سی پیک کے حوالے سے امریکہ خاصا تلملایا ہوا ہے ہمارے فوجی اداروں نے بروقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑ لگا کر دہشتگردی کو روک لیا اور دہشتگردوں کو پاکستانی علاقے سے باہر پھینک دیا ہے۔ امریکہ مسلمان ممالک پر میزائل سے حملہ کرتا ہے ان حملوں کو روکنے کے لئے میزائلوں کو فضا میں برباد کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کی جانی چاہئے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved