تازہ تر ین

چئیرمین نیب کو پیشکش کی گئی عہدہ چھوڑ دیں ، صدر پاکستان بنا دینگے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کو پیشکش کی گئی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، بیرون ملک چلے جائیں تو انہیں صدر بنا دیا جائےگا۔ انہیں دھمکایا بھی گیا کہ ورنہ انہیں عہدہ سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دوبار فائرنگ کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروںکو سامنے لایا جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انٹرویو سوالاً جواباً پیش ہے۔ضیا شاہد: شیخ رشید کی جماعت سائز میں بے شک چھوٹی ہے مگر پچھلے ڈیڑھ برس سے شیخ رشید صاحب کا قد بہت اونچے مقام پر چلا گیا۔ ہم ان سے چند سوال و جواب کریںگے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ ہوئی۔ اس واقعہ سے پورے ملک میں خوف کی کیفیت ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کیسے چل سکے گی اور ججوں کے گھر پر فائرنگ ہونے لگے۔ آپ فرمایئے اس واقعہ کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں۔
شیخ رشید: بنیادی بات ہے کہ میں نے زندگی میں پہلی دفعہ جسٹس اعجاز الاحسن صاحب کو پانامہ میں دیکھااورسنا۔ کم گو نہایت مدلل اور گھر سے پڑھ کر اور تیاری کرکے آنے والے جج ہیں۔ انہوں نے پانامہ کا فیصلہ دیا۔ اب وہ مانیٹرنگ کر رہے ہیں ایک ایسے اہم کیس کی جس کے فیصلے کی تاریخ اگلے ماہ کی 4 تاریخ ہے۔ 4 تاریخ کو وہ ٹائم پورا ہو رہا ہے اس تاریخ تک اس کا فیصلہ آنا ہے جس میں انہوں نے کوئی صفائی کی بات نہیں کی۔ میڈیا میڈیا کھیلتے رہے۔ سپریم کورٹ سے باہر نکلتے تھے تو جو ان کا بس چلا انہوں نے کہا۔ جسے سن کر ہر آدمی نے کہا کہ ان کی دماغی حالت ناقابل بیان ہوتی جا رہی ہے۔ ان پر رحم کھائیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر ہے۔ ابھی میں پروگرام کہہ رہا ہوں کہ کوئی بڑا حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔میں نے بے نظیر کے الیکشن سے پہلے یہ کہا تھا کہ یہ خونیں الیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ اس ملک کو سرحدوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس ملک کواندر سے نقصان پہنچانے کی سازشیں ہو رہی ہیں جس کے سنٹر فارورڈ کھلاڑی اب نوازشریف ہیں وہ کسی قیمت پر نہیں چاہتے نہ ہی انہوں نے سوچا تھا کہ ایسا ہو گا اور انہیں خوف نظر آ رہا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قوم کا مطالبہ ہے جس سیاست نے جو دولت لوٹی ہے وہ واپس لائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو نیب میں کیس ہے جج کو ڈرانے کے لئے بنیادی طور پر اعجاز الاحسن پر دو دفعہ فائرنگ کی گئی۔ اور یہ ان کے ناک کے نیچے ہوئی ہے اگر اعجاز الاحسن کے ساتھ واقعہ ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ شیخ رشید، حمزہ شہباز کے ساتھ ہو سکتا ہے نوازشریف کے ساتھ ہو سکتا ہے اور کسی اور بڑے سیاستدان سے ہو سکتا ہے کیونکہ مقصد اس ملک میںج انارکی پھیلانا ہے قانون کی حکمرانی کو دروازے کو بند کرنا ہے۔ اعجاز الاحسن صاحب نے انصاف کی جنگ میں جو جھنڈا اٹھایا ہے اس پر ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی ہے۔ یہ سارے نااہل حکمران اور وزیراعظم کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے۔
ضیا شاہد: لاہور ہائی کورٹ نے ججوں کے خلاف تنقید یا گفتگو کو تحریر یا تقریر میں پابندی لگا دی ہے آپ اس حکم کے بارے میں کیا کہتے ہیں کیونکہ مجھے صبح سے کئی دوستوںکے فون آئے کہ شاید یہ حکم بہت اچھا ہے لیکن دیر سے آیا ہے۔
شیخ رشید: دنیا میں جہاں جمہوریت ہے وہاں عدالت سے سزا پر کہا جاتا ہے کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی۔ میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ لوگوں کے کاروبار ختم، بجلی، پانی، گیس نہیں ہے نہ نوکری نہ روزگار ہے۔ آ جا کے سارا خاندان شام کو ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتا ہے۔ اگر یہ زندہ معاشرہ اور ذمہ دار سیاست دان ہوتے تو جاہل قسم کی قیادت نہ ہوتی جو عدالتوں کو للکارتی ہے اور مولا جٹ کا کردار ادا کرتی ہے تو اس فیصلے کی ضرورت پیش نہ ااتی۔ اس سے سیاست میں حلفشار میں کمی آئے گی۔
ضیا شاہد: اگلا خطرہ نظر آ رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کے حوالہ سے اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا نیب کے سربراہ کے بارے میں۔ میں انہی معلومات کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں۔ نیب کے سربراہ پر بہت پریشر ہے اور ان کو یہ مشورہ دیا گیا میرے پاس اس کا مکمل بیک گراﺅنڈ موجود ہے اور میں نے اس کی تصدیق بھی کی۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ جناب آپ اس عہدے سے استعفیٰ دے دیں اور پاکستان سے باہر چلے جائیں اور پھر اگلی حکومت میں آپ کو اس سے بھی بڑا عہدہ دیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں انکار کیا اور کہا کہ جو ذمہ داری مجھے سونپی گئی ہے میں اسے پوری کروں گا آپ یہ فرمایئے کہ جب صورت حال یہ ہو کہ سپریم کورٹ کے جج حضرات کے خلاف اس قسم کی فضا ہو کہ پچھلے 8,6 ماہ سے کون سا جلسہ ہے جس میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کو کٹہرے میں لایا جائے جس میں یہ نہیں کہا گیا کہ چونکہ ووٹ دیئے گئے ہیں اس لئے کسی کو حق حاصل نہیں اور جس پر ملک میں بحث بھی شروع ہوئی کہ کیا ووٹ دینے کا مقصد یہ ہے کہ ساری عمر کے لئے اب منتخب رکن اسمبلی، سنیٹر جو ہے وہ اس کو کھلی چھٹی مل جائے جو جی چاہے کرتا رہے۔ قتل، ڈاکہ، غبن کرے۔ کیا فضا تھی۔ میں نے جتنی تاریخ پڑی ہے۔ کہیں نہیں دیکھا کہ عدلیہ کے خلاف اس طرح کبھی مہم چلائی جائے۔ اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو، اس کی کیا وجہ تھی؟
شیخ رشید: آپ انتھک محنت کرنے والے سینئر ترین جرنلسٹ میں ہیں۔ تھوڑا سا لحاظ کر کے بات کی ہے۔ انہوں نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو یہاں تک آخر کہا کہ آپ کو صدر پاکستان بنا دیں گے۔ ابھی آپ باہر چلے جائیں۔ نیب کے سربراہ کو دھمکیاں بھی لگائی ان کو مختلف تحقیقات میں الجھانے کی بھی بات کی اور عہدے سے سبکدوش کرنے کی بھی بات کی۔ اور ایک بنیادی وجہ جسٹس صاحب کی اس لئے زیادتی دکھائی دے رہی ہے کہ ہمارے دوست جو قمر صاحب تھے انہوں نے چار سال میں پہلے ایک دو سال میں چند کیسوں کی کال ہی کی تو ان کو نوازشریف نے شیٹ اپ کال دی اور اس سے سہم گئے۔ آگے بڑھے ہی نہیں اور کسی فائلل کو چھوا تک نہیں۔ اور عباسی کے اہم کیسز ان کے پاس ہیں جو ان کے پاس ڈسکس ہونے ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ اس پر تحقیقات کی جائے جس میں سب سے بڑا کیس ایل این جی کا ہے 200 ارب کی اس میں کرپشن ہے۔ جو ایل این جی میں ٹیکس ہے اس سے لوگوں کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔دراصل نوازشریف ذہنی طور پر جب سیاست میں آئے وہ فوج کے کندھے پر چرھ کر آئے۔ پہلا الیکشن گوالمنڈی سے لڑا۔ اس کی ووٹر بتاتے بھی شرم آتی ہے۔ وہ تحریک استقلال کی سیٹ پر لڑا۔ یہ سارا نظام اب جس جگہ پہنچ گیا اس نظام کی ذمہ دارانہ اصلاح جسٹس ثاقب نثار صاحب نے شروع کی تو شور مچ گیا یہ تودودھ دیکھ رہے ہیں یہ تو ہمارا ہسپتال دیکھنے لگے ہیں۔ جب آپ کچھ کام نہیں کریں گے تو عدلیہ نہیں دیکھے گی تو لوگ کہاں جائیں گے۔ میں نے میڈیکل سٹور والوں سے پوچھا کون سی گولیاں زیادہ بکتی ہیں انہوں نے کہا سب سے زیادہ خواب آور گولیاں بکتی ہیں۔ ملک میں یہ 8,7,6 مہینے بہت اہم ہیں۔ 31 مئی سے پہلے پہلے۔ پچھلے الیکشن میں جب میں نے کہا تھا کہ خونین الیکشن ہو سکتا ہے۔ آج کے الیکشن میں آپ دیکھیں یہاں موساد آ چکی ہے یہاں سی آئی اے موجود ہے۔ یہاں ”را“ ایکٹو ہے ان کا بریگیڈیئر رینک کا آدمی کلبھوشن یادیو یہاں سے پکڑا گیا۔ یہاں خود ہمارا نوازشریف کہتا ہے کہ جی شیخ مجیب الرحمن اس کا ہیرو ہے وہ جو زبان استعمال کر رہا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس ایک قومی لیڈر کی زبان کہی جائے۔ غیر ذمہ دار گفتگو کر رہے ہیں۔
ضیا شاہد: میرے علم میں آیا ہے اور اسلام آباد کے باخبر حلقوں کو اس بات کا علم ہے آپ کو علم ہوگا کہا جاتا ہے کہ نیب کے سربراہ کو ایک بہت بڑے، شاید پاکستان کے سب سے بڑے عہدے کی آفر کی گئی تھی کہ آپ یہاں سے استعفیٰ دے دیں۔ اگلی ٹرم میں آپ کو فلاں عہدے پر بٹھا دیا جائے گا۔
شیخ رشید: انہیں کہا گیا کہ آپ کو صدر بنا دیں گے۔ یہ جو وہی پہلے صدر ہیں نوازشریف کی کرامات دیکھیں 7 تاریخ کو میرا خیال ہے اگست کو وہ ریٹائر ہو جائیں گے اور صادق سنجرانی صاحب ٹیک اوورکریں گے ان کو کہا گیا کہ وہ ریٹائر ہو جائیں گے تو ہم آپ کو لے لیں گے۔ اس 23 مارچ کو ہمارے اہم ملکوں کے اداروںکے لوگ یہاں تشریف لائے اور انہوں نے نئے این آار او کی بات کی کہ بے شک ان کو قطر بھیج دیا جائے۔ وہ بات نہیں چلی آخر کار ان کو جا کرسمجھایا گیا کہ جناب اب ایسا ممکن نہیں عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر پہرہ دیا جائے گا اور اس پہرے میں ادارے بھی کمٹڈ ہیں عدلیہ بھی کمٹڈ ہے۔ نیب والے بھی کمٹڈ ہیں امید ہے پاکستان بہتری کی طرف جائےگا۔ اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ ہو گیا اس ملک میں تو۔
ضیا شاہد: نیب کے سربراہ کے پر کاٹنے کے لئے آرڈیننس تیار ہے۔ اگر ایسا آرڈیننس آتا ہے تو اس کا کیا مستقبل ہوگا۔ کیا عدلیہ اس پر کوئی ایکشن لے گی۔ اکرام شیخ نے کل فرمایا ہے صدر پاکستان کو جتنی سزائیں آنے والی ہیں یا ہو چکیں ہیں ان کو معاف کر دینا چاہئے۔
شیخ رشید: اکرم شیخ سے میں نے پوچھنے کی کوشش کی کہ پہلا خط جو پانامہ کیس میں پیش کیا گیا وہ اکرم شیخ نے پیش کیا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے جو آصف سعید نے کہا کہ اس خط کی کوئی حیثیت نہیں۔
ضیا شاہد: نوازشریف جس طرح عوام کو نظام عدل میںبہتری لانے کے لئے تحریک چلانے پر اکسا رہے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نوازشریف کے گرد ایسے لوگ جمع ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان کو بھی پھانسی گھاٹ تک پہنچانا چاہتے ہیں بھٹو نے بھی قتل خود تو نہیں کیا تھا ان پر قتل کیلئے اکسانے کا الزام تھا۔ نوازشریف کیوں اس ٹریپ میں آ رہے ہیں۔
شیخ رشید: نواز شریف اور ذوالفقار علیبھٹو کا کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا، نواز کو جتنے بھی ٹانک پلا دیں وہ بھٹو نہیں بن سکتا کیونکہ بزدلی جو اندر ہوتی ہے وہ ختم نہیں ہو سکتی، بزنس مین سیاستدان لوگوںکو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے، نوازشریف کی ذہنی حالت قابل رحم ہے، اول میں اسے تو جسٹس قیوم، جنرل بٹ اور قمرزمان چودھری جیسے لوگوں کی عادت تھی اب معاملہ بالکل بالکل الٹ ہو چکا ہے۔ میرے نزدیک یہ اللہ کی پکڑ میں آئے ہیں کیونکہ انہوں نے ختم نبوت قانون بدلنے کی کوشش کی۔ شریف خاندان کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
ضیا شاہد: مشاہد حسین سید کے پاس کیا گیڈر سنگھی ہے کہ ہر حکومت میں فٹ آ جاتے ہیں، ق لیگ میں اقتدار کے مزے لوٹے اب یہ ن میں آ گئے۔ ان میں کیا خوبی ہے کہ ہر کسی کے لئے قابل قبول ہوتے ہیں۔
شیخ رشید: مشاہد حسین جن کے بندے ہیں سب جانتے ہیں، اصل میں ان میں منجن بیچنے کی خاصی صلاحیت ہے۔ نوازشریف کو بھی یقین دلایا کہ میں ان حالات میں آپ کے لئے پل کا کردارادا کرسکتا ہوں۔ مشاہد حسین کو جتنا اب ناپسند کیا جا رہا ہے پہلے کبھی ایسا نہ تھی۔ اب تو وہ کسی ٹی وی چینل پر بیٹھا ہو تو اگر چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔ مشاہد حسین کا آئندہ سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے وہ جہاں پہنچ سکتے تھے پہنچ گئے وہ کبھی فوج یا اداروں کے خلاف بات نہیں کیں گے۔ مشاہد حسین پاکستان کی سیاست کا گرینڈ گولڈن لوٹا ہے جو ہر دور میں بکتا رہا ہے۔
ضیا شاہد: ہمارے سیاستدان چاپلوسی کو پسند کرتے ہیں، کیا یہاں ایسی ہی سیاست چلے گی یا تبدیل ہو گی۔
شیخ رشید: میراثی، بکنے اور بَکنے والے ابھی یہاں ایسے ہی چلتے رہیں گے نوازشریف کو کسی دوسرے کی تعریف پسند نہیں ہے، شہباز شریف کو بھی دل سے پسند نہیں کرتے یہی حال الطاف حسین کا بھی تھا۔ اب صرف پیسے کی سیاست کا دور ہے پیسہ پھینک تماشہ دیکھ چل رہا ہے۔
ضیا شاہد: چودھری نثار سخت بیان دیتے ہیں پھر چپ سادھ لیتے ہیں، شہباز شریف سے بار بار ملاقاتیں کرتے ہیں، اس وقت وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شیخ رشید: آزاد الیکشن لڑنا آسان نہیں ہوتا، ڈیڑھ برس قبل نثار سے کہا تھا کہ اب بہترین وقت ہے ایکسپریس ٹرین مسافروں کا انتظار نہیں کرتی۔ چودھری نثار زیادہ سےزیادہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتے ہیں جس کا چانس ففٹی ففٹی ہے۔
ضیا شاہد: شہباز شریف پر بڑی ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ سب کو سنبھالیں ساتھ لے کر چلیں اداروں سے بھی معاملات طے کریں آپ کیا کہتے ہیں۔
شیخ رشید: راولپنڈی میں یہ بڑا سوال ہے کہ شہباز شریف قابل اعتبار ہے یا نہیں، اس نے پہلے مشرف کو دھوکا دیا، یہی نواز شریف کو لانے والا ہے، مریم نواز ضدی بچی ہے جو کسی کی نہیں سنتی، اس نے میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا آج تک ہر معاملے میں ضد کی ہے۔ فوج میں بڑا سوالیہ نشان موجود ہے کہ کیا شہباز قابل جنرل ہے، فوج اور تمام اداروں کو معلوم ہے کہ نوازشریف کے سامنے شہباز شریف کی کوئی حیثیت نہیںہے، شہباز شریف کے نام کا قرعہ اب نہیں نکل سکتا، شہباز شریف پر سوالیہ نشان موجود ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پورا شریف خاندان ہی سیاست سے آﺅٹ ہو گا۔
ضیا شاہد: شہباز شریف کیا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس سے بچ سکیں گے۔
شیخ رشید: شہباز شریف کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاﺅن، حدیبیہ کیس بڑے مضبوط ہیں ایل این جی کیس بھی ان کی ہی طرف جائے گا، میری اطلاع ہے کہ چین نے راہداری منصوبہ میں مدد بند کر دی ہے۔ شہباز شریف چین کی بلیک لسٹ کمپنیوں کو کام دیتے رہے ہیں۔
ضیا شاہد: آپ کی جائیداد کا کیس چل رہا ہے، نااہلی کی تلوار سے کیا بچ سکیں گے۔
شیخ رشید: میں نے کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی، 62,63 کا کیس نہیں ہے، حرف لکھنے اور جمع کرنے میں ہندسوں کی غلطی ہوئی ہے۔ 110 فیصد یقین ہے کہ کیس میں جیتوں گا۔ عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا قبول کروں گا۔
ضیا شاہد: شہباز شریف کیا چودھری نثار کو نواز شریف سے معافی دلوا سکیں گے۔
شیخ رشید: چودھری نثار کو کسی طرف تو آنا ہو گا، ابھی میڈیا پر اس کی بات اس لئے سنی جا رہی ہے کہ لائن لینتھ کے ساتھ گیند کرا رہا ہے تاہم اگر کوڑے دان میں ہی غرق ہونا ہے تو کیا کہ سکتا ہوں، جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اس کے نزدیک شہباز کی کوئی حیثیت نہیں نثار کی کیا حیثیت ہو گی۔ اصل مقابلہ تو شہباز شریف اور شاہد خاقان کا ہی ہے، دونوں ہی وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہے ہیں، ایک بھائی کو خوش کرنے کی کوشش میں ہے تو دوسرا سی این جی سکینڈل سے نجات کا طالب ہے۔
ضیا شاہد: اڈیالہ جیل کی صفائی ہو رہی ہے، لیگی تو کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو اس میں بند کیا جائے گا۔
شیخ رشید: ضروری نہیں کہ نوازشریف کو اڈیالہ جیل میں بھیجا جائے اور بھی بہت سی جیلیں موجود ہیں، مشرف آنے کی بات کر رہا تھا اسے منع کر دیا گیا ہے وہ تو واپس نہیں آئے گا اس لئے جیل نہیں جائے گا البتہ جس نے جیل جانا ہے وہ خود کہہ رہا ہے کہ جیل کی صفائی ہو رہی ہے، اڈیالہ جیل فوج کے نہیں شہباز شریف کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved