تازہ تر ین

عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی، شریف خاندان کا ایک اور امتحان: ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر اور کہنہ مشق صحافی ضیاشاہد نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے شروع سے ہی جھوٹ بولا پھر اس کو چھپانے کےلئے دوسرا اور پھر یہی سلسلہ چل نکلا۔ اب اتنی مشکل میں پھنس چکے ہیں کہ نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ چینل 24 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف خاندان مشکل میں ہے اسی خاندان کے گرد موجود پرویز رشید سمیت تمام لوگ جو جمع ہیں معمولی سی بات سے آگاہ نہیں کہ ملکر فیصلہ کر لیں کہ کیا بیان دینا ہے۔ نواز شریف، مریم نواز، حسن و حسین سمدھی و دیگر رشتہ داروں کے بیانات ہی آپس میں نہیں ملتے۔ ان کے متضاد بیانات کا ٹی وی چینلز پر جس طرح مذاق اڑایا جاتا رہا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ لاہور میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے شاید ہی کسی شخص کو معلوم نہ ہو کہ قیصر امین بٹ اور سعد رفیق کی پارٹنرشپ تھی، جب پیراگون سٹی پراجیکٹ شروع ہوا تھا تبھی یہ بات سب کو معلوم ہو چکی تھی۔ نیب سربراہ پر سخت دباﺅ ہے انہیں کہا جا رہا ہے کہ استعفیٰ دیکر بیرون ملک چلے جائیں واپس آئینگے تو صدر مملکت بنا دیا جائے گا تاہم نیب چیئرمین نے بات ماننے سے معذرت کر لی ہے۔ وکیل اکرم شیخ کا بھی بیان آ چکا ہے کہ صدر ممنون حسین نواز شریف کو ہونے والی تمام سزائیں معاف کر دیں۔ شریف خاندان کو عدالتوں سے کچھ ملنے والا نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس اپنی صفائی میں کچھ نہیں ہے صرف جھوٹ کے پلندے ہیں۔ ان کے وکیل بھی خوامخواہ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ان کے پاس پوچھنے کو کوئی سوال تک نہیں ہے۔ ضیاشاہد نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان اب اس انتظار میں ہے کہ صدر کی جانب سے معافی نامہ ملے یا پھر گولیاں چلا کر ججز کو خوفزدہ کیا جائے جو نہیں ہوگا۔ ہائیکورٹ نے الطاف حسین کی طرح ان کے لائیو خطاب پر پابندی لگا دی ہے جس سے ان کا باب بند ہو گیا ہے۔ میری معلومات کے مطابق نیب ذرائع کہتے ہیں کہ پچاس فیصد شواہد اکٹھے ہو جائیں تو وہ ایکشن لے لیتے ہیں احد چیمہ کیس میں بھی باقی لوگوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ نیب والے کہتے ہیں کہ مشکل تحقیقات ہیں کیونکہ پاکستان میں ہر دوسرا آدمی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتا اس لئے انہیں دستاویزی ثبوت پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا کہ عدالت میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی گئی اس پر مقدمہ کیوں درج نہ کیا گیا۔ ای سی ایل میں نام کیوں نہیں ڈالے جا رہے، واجد ضیا سے بے سروپا سوالات کیے جا رہے ہیں۔ بات منی لانڈرنگ سے شروع ہوئی۔ فوج اور عدلیہ کی تذلیل کی گئی اب فائرنگ تک نوبت آ چکی ہے۔ سعد رفیق بھی عمرے پر جا رہے ہیں واپس نہ آئے تو ادارے کیا کرینگے۔ نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا جا رہا۔ سینئر صحافی انعام اللہ خٹک نے کہا کہ واجد ضیا نے جو دستاویزات پیش کیں ان کی نفی نہیں ہو سکتی، مریم ہی نیسکول اور نیلسن کی بینیفیشل آنر ہیں ان کے وکیل واجد ضیا سے غیرمتعلق سوالات کر رہے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کے وکیل دفاع میں کچھ بھی پیش نہیں کرسکے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved