تازہ تر ین

اللہ کانظام‘مثالی نظام

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ظاہر و باطن میں جو ہم آہنگی تھی وہ آپ کی شخصیت کو دنیاکے عظیم ترین انسانوں میں شمار کرتی ہے اور ممتاز کرتی ہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے آپ سے آئین کے بارے میں پوچھا گیاتھا کہ پاکستان کا آئین کیا ہوگا؟ تو آپ نے بغیر کسی تامل و توقف سے کہا کہ ہمارا آئین قرآن مجید ہے۔ قائد کے یہ الفاظ میں سمجھتی ہوں اُن کی بخشش کا ذریعہ بن گئے ہوں گے۔ آپ کی وفات کے بعد جو لوگ 70 سال سے حکمران چلے آرہے ہیں انہوں نے قرآن سے روگردانی کی۔ انسان ساختہ آئین ہم پر مسلط کر دیا گیا جس کی وجہ سے ہم اس وقت شدید عذاب میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔ میاں نواز شریف فرما رہے ہیں کہ 70 سال سے ووٹ کی بے توقیری ہورہی ہے اور جس کے نتیجے میں ملک میں وہ انتشار دیکھ رہا ہوں کہ الامان والحفیظ۔ میاں صاحب آپ نے ووٹ کو بے توقیر نہیں کیا، آپ نے قائد اعظم کے فرمان سے روگردانی کی ہے جن کا واضح فرمان تھا کہ ہمارا آئین قرآن ہے اور اس وقت جس انتشار کا شکار ہیں اس کے محرک ہم خود ہیں ۔ اس وقت پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے اور سیاستدانوں کی باتیں اور بیانات اپنے مفاد کے لئے اور اپنی ذات تک محدود ہیں ۔ ووٹ کی عزت چاہتے ہیں ووٹر کی نہیں۔ 70سال میں کس کی حالت بدلی ہے؟ ووٹروں کی یا سیاستدانوں کی جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اس موجودہ فرسودہ نظام کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوتا آرہا ہے۔ میاں صاحب عوام کی رائے کو نہیں کچلا گیا، ہم نے اللہ کے نظام کو نظر انداز کیا ہے اور آپ کو مکافات عمل کا پتہ نہیں ہے تو اپنے مولانا فضل الرحمن صاحب سے دریافت کرلیں ،آپ مکافات عمل کی زد میں ہیں، اس وقت بھی آ پ اپنا قبلہ درست کر لیں تو آپ کی توبہ بھی اللہ قبول فرما لیں گے اور ایک نئے دور کا بھی خوش آئند آغاز ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کا آئین قرآن ہو اور اس پر عمل پیرا ہو کر ہم ریاست کو ایک مثالی ریاست میں بدل سکتے ہیں۔
ہم نے کیا بدلنا ہے، ہمارا تو صرف اتنا ہی کام ہوگا اس پر عمل کریں، اس کے نتائج پھر دنیا دیکھ لے گی کہ اللہ کا نظام جو پوری کائنات کی ربوبیت سے سرفراز ہے۔ اس نظام میں ایک آدمی تو کیا بکری کا بچہ بھی بھوکا نہیں رہ سکتا۔ ترقی، تعمیر اور امن اسی نظام میں پنہاں ہیں۔ میاں نواز شریف آنے والے وقت میں جو انتشار دیکھ رہے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ انتشار نہیں اللہ کا عذاب ہوگا جو ہماری بد اعمالیوں اور اللہ کے نظام سے روگردانی کی سزا ہوگی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذات کے خول سے باہر آجائیں اور انا کی جھوٹی سولیوں پر لٹکنے کی بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں۔ اگر آپ ایسا کر لیں تو دین و دنیا کی کامرانی آپ کا خیر مقدم کرے گی مگر اب وقت گزر گیا ہے، اس کی تلافی ناممکن نہیں ہے ممکن بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں اس شجر سایہ دار کی طرف لوٹنا ہوگا تب جا کر بات بنے گی اور ہم دین و دنیا میں سرخرو ہوں گے۔
ہم نے ستر سال سے اللہ کے نظام سے فائدہ نہیں اٹھایا ،اس کی برکات اور فیض سے ہم محروم چلے آرہے ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے نادان مشیروں کے ہاتھ میں ہیں اور وہ درست مشورہ نہیں دیتے ،اپنے دانا دوستوں کو بھی وہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ برادرِ اصغر میاں شہباز شریف کی حکمت عملی میں کھوکھلا پن نہیں ہے، وہ بڑے تحمل بردباری اور برداشت کی شاہراہ پر چل رہے ہیں۔ ہماری مختلف تنظیمیں جن کا تعلق سول سوسائٹی سے ہے وہ شفاف انتخابات کے حوالے سے مذاکرے کروارہی ہیں اور اس سلسلے میں سول سوسائٹی کے ارباب دانش پیش پیش ہیں ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ہماری پاکستانی قوم کے مسائل کا حل شفاف انتخابات میں ہے یا احتساب میں۔پہلے تو احتساب کا عمل پورا ہونا چاہئے۔ انتخابات سے پہلے احتساب ضروری ہے جس میں نظر آرہا ہے کہ میاں نواز شریف کے حریفوں اور حلیفوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔کم از کم سیکڑوں سے زائد لوگوں کی فہرستیں بن چکی ہیں اور نا اہلوں کی اس کمیٹی کا صدر کون ہوگا یہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ٹیکنو کریٹ نگران حکومت کے امکانات زیادہ روشن ہیں اور اس سلسلے میں اندر ہی اندر بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں کے قول اور فعل میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو سیاسی آسمان کا مطلع صاف ہوسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمن کا بیان آپ ملاحظہ فرمائیں وہ کہہ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ قرآن کا نفاذ نہیں چاہتی ہے ،ہم قرآن کا نظام چاہتے ہیں۔ اُن سے کوئی پوچھے کہ قرآن کے نظام میں عوام کے ووٹ کا طریقہ ¿ کار کیا ہوگا اور موجودہ انتخابات کیسے ہوں گے۔ حضور والا آپ ایک طرف قرآن کے نظام کے نفاذ میں اسٹیبلشمنٹ کوحائل قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف اپنی نشست کے لئے اسی فرسودہ نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا تضاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیڈروں کو قرآن کا فہم و ادراک نصیب کرے اور اب چہرے نہیں نظام کو بدلنا ہوگا۔
(کالم نگارمعروف شاعرہ‘سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved