تازہ تر ین

پی ٹی آئی کا اقتدار

عبدالودودقریشی

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنی طبعی مدت پوری کر چکی ہیں۔ ساری دنیا میں ادبی اور سیاسی تحریکوں کی ابتداءخاموشی سے ہوتی ہے رفتہ رفتہ وہ مظلوم نظر آتی ہیں پھر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اقتدار ان کا مقدر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ان پر عروج آتا ہے اور پھر عروج کے بعد زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے تمام سیاسی جماعتوں کے مقدر میں ادبی تحریکوں کی طرح عروج و زوال لکھا جاتا ہے ماسوائے برطانیہ اور امریکہ کے جہاں پارٹیوں کے نام تو رہتے ہیں مگر پارٹی کے عہدیداران ازخود نکل جاتے ہیں لہٰذا ان کی تجدید ہوتی رہتی ہے اسی لئے وہ پارٹیاں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کی طرح انہدام پذیر نہیں ہوتیں یہی حال ادبی تحریکوں کا ہے جس میں کچھ ادیب ایک تحریک شروع کرتے ہیں پھر وہ عروج پر پہنچتی ہے۔ اس کے بعد یہی ادیب اس کے نام میں خامیاں،برائیاں نکالتے ہیں۔ ادبی تنظیمیں گروہی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور یوں انہدام ان کا بھی مقدر ہوتا ہے مسلم لیگ ن میں بھی گروہی صورتحال اپنے عروج پر تھی ایک طبقہ میاں نواز شریف کے گرد، ایک طبقہ مریم نواز، ایک شہباز شریف کے گرد اور ایک طبقہ 31مئی تک اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتا ہے۔ میاں نواز شریف کا پہلا دور بھی پرویز مشرف کے پہلے دور کی طرح تھا جس میں لوگوں کو بہت کم یقین تھا کہ یہ بد عنوان ہیں ان کی حکومت عوامی فلاح کے کام کرے گی مگر وقت گزرنے کے ساتھ پرویز مشرف کے پاس چوہدری صاحبان،جمالی اور شوکت عزیز نمودار ہوگئے اور میاں نواز شریف کے پاس بھی ق لیگ کے ہی ارکان اعلیٰ عہدوں پر بلکہ یوں کہیے کہ اختیارات کے منبع پر بیٹھ گئے میاں نواز شریف کا یہ المیہ رہا ہے کہ اقتدار میں آتے ہی اس کے گرد بھٹو کے چاہنے والے جمع ہوگئے اور انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا دکھ میاں نواز شریف کے ذریعے فوج پر نکالنے کی پوری کوشش کی میاں نواز شریف ان کے چکمے میں آگئے کیونکہ یہ لوگ شام کو مال بناتے اور مشروب سے ہم آغوش ہوتے جبکہ دن کے وقت میاں نواز شریف کو انقلابی باتیں بتا کر عالمی لیڈر بننے کا چکمہ دیتے تھے۔ اقتدار میں آتے ہی میاں نواز شریف نے اپنی مسلم لیگ کو ایک ڈبے میں بند کرکے طاق میں رکھ دیا بیورو کریسی اور انٹیلی جینس بیورو کے ذریعے حکمرانی میں جت گئے پھر اچانک پانامہ کا کیس سامنے آیا جس کو بڑی رعونت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی گئی مطالبہ تھا کہ پارلیمان میں بیان دیا جائے جس سے انکار کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے اس سے بھی انکار کر دیا گیا کہ کسی جج سے تحقیقات کروائی جائے اس پر بھی انکار کر دیا گیا مگر پھر پارلیمنٹ میں ایسا بیان جاری کیا جو گلے کا طوق ثابت ہوا اس کے بعد عدلیہ کو تحقیقات کا خط لکھ دیا گیا عدلیہ نے جوں جوں تحقیقات کا معاملہ جے آئی ٹی کے ذریعے نکالنا شروع کیا پھر بس کیا تھا کہ زوال کی داستان لکھی جانے لگی۔ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد طیب اردگان بننے کا مشورہ دیا گیا جس پر سرکاری میڈیا کو لگا دیا گیا لفافوں کی ریل پیل بھی شروع ہوگئی مگر یہ ساری باتیں بے سود ثابت ہوئیں رجب طیب اردگان بنیادی طور پر ترکی میں اسلامی تحریک کا رکن تھا جس کے ہاتھ صاف ہیں اس نے کوئی بدعنوانی کی، بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور نہ ہی قوم کا سر کہیں سرنگوں ہونے دیا۔ طیب اردگان جماعت اسلامی کی طرز پر ترکی میں چلنے والے تحریک کا نمائندہ ہے جو ہر جمعرات کے دن کسی نہ کسی قبرستان میں جاکر خوش الہانی سے تلاوت قرآن مجید کرتا ہے مگر اس کی سرکاری طور پر تشہیر نہیں کی جاتی۔ میاں صاحبان کو بھی ختم نبوت کے حوالے سے احتجاج کے بعد میلاد یاد آیا۔ طیب اردگان نے لوگوں پر جبر نہیں کیا اور نہ ہی کسی موٹروے،ایکسپریکس وے یا پل کی تعمیر میں کمیشن لیا، نہ اپنے گھر کے سوا مری،لاہور اور لندن میں مکانات نہیں رکھے اور ترکی کی فوج پاکستان کی فوج کی طرح بھی نہیں ہے وہاں عارضی طور پر نوجوان بھرتی کیئے جاتے ہیں ان کی فضائیہ البتہ انتہائی تربیت یافتہ ہے ایف 16طیارے وہاں بنائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو آزادیاں ہیں۔معاشرے میں انارکی نہیں ہے۔ پاکستان میں فوج کا ایک منظم ادارہ ہے جس کے کمانڈر کا حکم مانا جاتا ہے اس سے رو گردانی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔میاں نواز شریف نے اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات کے ضمن میں ہیرو بننے کے لئے فوج اور عدلیہ کو اپنا مخالف بنا لیا اور ان کے نادان مشیروں نے اور مریم کے گرد جمع کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں نے ایک ایسا جال بنا جس سے نکلنا ناممکن ہے۔ میاں نواز شریف کی گرتی ہوئی اس ساکھ کو زندگی کے ہر طبقہ فکر نے اچھی طرح سے جان لیا ہے جن میں بیورو کریسی، عوام اور سیاستدان شامل ہیں جن لوگوں نے میاں نواز شریف کے دور میں بدعنوانی کی اور انھیں یوم حساب قریب آتا نظر آرہا ہے وہ فوج اور عدلیہ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں تاکہ اس جرم میں انہیں پکڑ لیا جائے اور اصل جرم پر وہ اپنے آپ کو ہیرو ظاہر کرسکیں۔ بیورو کریسی، سیاستدانوں اور عوام نے میاں نوازشریف کی گرتی ہوئی اس ساکھ کا متبادل عمران خان کو سمجھ لیا ہے اور ہر ایک کو اس بات کا علم ہے کہ مستقبل میں عمران خان ہی حکمرانی کریں گے۔ اس بات کا کسی کو علم نہیں ہے تو وہ موجودہ حکمران اور ان کے چند حواری ہیں جن کے پاس اب کہیں جانے کا راستہ نہیں۔ عمران خان کی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے جوق درجوق لوگ درخواستیں دے رہے ہیں اور انہیں باضابطہ احکام دیئے جاتے ہیں فلاں جلسے میں اتنے افراد اور اتنی گاڑیاں لانی ہوں گی جس کی تعمیل کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے ورکر تگ و دو میں ہیں ظاہر ہے اس طرح کے احکام صرف وہی پارٹی ہی دے سکتی ہے جسے اپنی فتح نظر آرہی ہو۔ عمران خان نے بیس افراد کو کے پی کے اسمبلی سے اس لئے نکالا کے ان لوگوں کے متبادل لوگ اس کے پاس آنے کے لئے سفارشیں کر رہے ہیں وہ صاحب حیثیت بھی ہیں اور صاحب سرور بھی۔ یہ ساری علامتیں اقتدار کی ہیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved