تازہ تر ین

بیچارہ روپیہ

توصیف احمد خان

محترم چیف جسٹس پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے بعد خیبرپختونخوا پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے پشاور رجسٹری میں سماعت کی، یہ سماعت پانی کے حوالے سے تھی جس میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بھی طلب کیا گیا اور ان سے استفسارات کئے، حکومت کی کارکردگی دریافت کی ، وزیراعلیٰ نے حکومت میں آنے پر سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار سے آگاہ کیا اور ان اقدامات کا ذکر کیا جو صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب جہاں بھی گئے وہاں پانی کے مسئلہ کو ترجیح دی گئی کیونکہ اس ملک میں کثیر اخراجات کے باوجود عام آدمی کو صاف پانی میسر نہ آنا ایک المیہ سے کم نہیں، اگر یہ حکمرانوں یا بیوروکریسی کی غفلت ہے تو پھر قدیم محاورے کے مطابق کولہو میں پیل دیئے جانے کے قابل ہیں، اصل میں آج کل تو کولہو ہوتے نہیں ہر کام مشینی ہے لہٰذا موجودہ نسل اس کولہو سے آشنا ہی نہیں جہاں سرسوں اور دیگر بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے ، ہمارے یہاں امراض کی سب سے بڑی وجہ ناقص یعنی ملاوٹ شدہ غذا اور ایسا پانی ہے جو پینے کے قابل نہیں ہوتا، اس پر طرہ جعلی ادویات…یہ سب مل کر انسان کو بیماریوں کا ملغوبہ بنادیتے ہیں ان امور پر توجہ دینے والا انسانوں کے دلوں میں تو گھر کرہی رہا ہے ساتھ ہی اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی مل رہی ہے ۔
پانی ہی کے مسئلہ پر سندھ میں حکمرانوں کو کافی رگڑا گیا کہ خصوصاً کراچی میں بعض اوقات لوگ واقعی بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا دونوں ہاتھوں سے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف رہتا ہے ، جو یقینا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ، پنجاب میں تو کافی وقت گذاراگیا اور حکمرانوں کی ہی نہیں بیوروکریسی کی بھی خوب خبر لی گئی ، یہاں جو جو معاملات سامنے لائے گئے ہیں ان سے تو لگتا ہے کہ سب کچھ دھوکہ تھا، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اورجو سبز باغ دکھائے جارہے تھے وہ اچانک خشک گھاس میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
بلوچستان میں مختصر وقت گذاراگیا، وہاں بھی وزیر اعلیٰ کی طلبی ہوئی مگر انہیں اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے یعنی بہت کم عرصہ گزرا ہے لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال ملبہ ان پر نہیں ڈالا جاسکتا ، ابھی تو سابق وزرائے اعلیٰ ہی ذمہ دار ہیں ، اسی لئے ن لیگ کی حکومت کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ یعنی ڈاکٹر مالک اور ثناءاللہ زہری کو طلب کرلیاگیا ہے ، ان کی 30اپریل کو اسلام آباد میں پیشی ہے ، دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے اور ان کے ساتھ کیسے سوال و جواب ہوتے ہیں، قرائن سے لگتا ہے کہ انہیں جان بچانا مشکل ہوجائے گا، آخر اقتدار کے مزے لوٹنا کوئی آسان کام تو نہیں، کبھی کبھی ان مزوں کی وجہ سے بھگتنا بھی پڑجاتا ہے ۔
اور اب محترم چیف جسٹس کے پی میں ہیں جہاں کے وزیراعلیٰ پیش بھی ہوئے اور سوالات کے جواب بھی دیئے، انہوں نے کچھ ماضی کو دہرایا اور کچھ اپنی کہی، جمعرات کا دن تو ان کیلئے مشکل ثابت نہیں ہوا لیکن دیکھتے ہیں آنیوالے دن کیا خبر لاتے ہیں ، کیونکہ مسائل کا انبار ہے ، اگلی سماعتوں سے پتہ چل جائیگا کہ جناب جسٹس ثاقب نثار کے پی کے معاملات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس صوبہ کے عوام کیلئے کس طرح خوشخبری بنتے ہیں، فی الحال تو آئی جی پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ غیر ضروری لوگوں کی سکیورٹی ختم کردی جائے ، اس پر غالبا ً اب تک عملدرآمد بھی ہوچکا ہوگا لیکن اس سے ایک امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی غیر ضروری لوگوں کو سکیورٹی دی گئی ہے ، گذشتہ روز کی سماعت میں صاف پانی کے معاملہ پر چیف جسٹس نے سختی سے نوٹس لیا، انہوں نے میڈیکل کالجوں کی فیسوں سمیت بہت سے دوسرے اقدامات بھی کئے ۔
برادر عزیز طارق کیانی نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک سال بہ سال ڈالر کے نرخ بھیجے ہیں، فنانشل ٹائمزمیں شائع ہونےوالے یہ نرخ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہونگے ، لہٰذا انہیں کالم کا حصہ بنایاجارہاہے، اس سے یہ بھی پتہ چل جائیگا کہ کس کی حکومت میں روپیہ کتنا بے توقیر ہوا ، نرخ درج ذیل ہیں :۔
1948 سے1954 تک3.30 روپے فی ڈالر، 1955 میں3.91 روپے فی ڈالر، 1956 سے 1971تک4.71 روپے فی ڈالر، 1972ءمیں8.68 روپے فی ڈالر،1973ءمیں9.99 روپے فی ڈالر، 1974 سے1981تک9.90 روپے فی ڈالر، 1982ءمیں11.84 روپے فی ڈالر، 1984ءمیں15.92 روپے فی ڈالر، 1986ءمیں16.64 روپے فی ڈالر، 1987ءمیں17.39 روپے فی ڈالر، 1988ءمیں18.00 روپے فی ڈالر، 1989ءمیں20.54 روپے فی ڈالر، 1990ءمیں21.70 روپے فی ڈالر، 1991ءمیں23.80 روپے فی ڈالر، 1992ءمیں25.08 روپے فی ڈالر،1993ءمیں28.10 روپے فی ڈالر، 1994ءمیں30.56 روپے فی ڈالر، 1995ءمیں31.64 روپے فی ڈالر، 1996ءمیں36.07 روپے فی ڈالر، 1997ءمیں41.11 روپے فی ڈالر، 1998ءمیں45.04 روپے فی ڈالر، 1999سے2000 تک51.04 روپے فی ڈالر، 2001ءمیں63.00 روپے فی ڈالر، 2002ءمیں60.00 روپے فی ڈالر، 2003ءمیں57.55 روپے فی ڈالر، 2004ءمیں57.60 روپے فی ڈالر، 2005ءمیں59.50 روپے فی ڈالر،2006ءمیں60.20 روپے فی ڈالر، 2007ءمیں60.63 روپے فی ڈالر،2008ءمیں66.80 روپے فی ڈالر، 2009ءمیں80.25 روپے فی ڈالر،2010ءمیں84.65 روپے فی ڈالر،2011ءمیں85.60 روپے فی ڈالر، 2012ءمیں89.87 روپے فی ڈالر، 2013ءمیں97.30 روپے فی ڈالر،2014ءمیں102.99 روپے فی ڈالر، 2015ءمیں101.39 روپے فی ڈالر، 2016ءمیں104.09 روپے فی ڈالر، 17 فروری 2017ء104.19 روپے فی ڈالر،14 دسمبر2017،109.50 روپے فی ڈالر،اور آج115.76 روپے فی ڈالر۔
واضح رہے کہ قیام پاکستان سے ایک صدی قبل ایک ہندوستانی روپے کے مقابلے میں چودہ ڈالر ملتے تھے اور قیام پاکستان کے وقت بھی نرخ قریباً برابر ہی تھا۔ افسوس! آج کیا حالت ہو گئی ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved