تازہ تر ین

انسانی اعضا ءاب چھپے گیں مددگار جیلی دریافت ہو گئی

یارک شائر(ویب ڈیسک) برطانوی ماہرین نے ایک ایسا جیلی دار مادہ دریافت کیا ہے جو تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے پیچیدہ اور نرم انسانی اعضائ چھاپنا ممکن بناسکتا ہے۔تھری ڈی پرنٹر گزشتہ پچیس سال سے موجود ہیں جبکہ ان میں ترمیم کے ذریعے مختلف جاندار بافتوں (ٹشوز) کی پرنٹنگ بھی ممکن بنالی گئی ہے جسے ”تھری ڈی بایوپرنٹنگ“ کہا جاتا ہے۔ لیکن جیتے جاگتے مصنوعی انسانی اعضاءکی تھری ڈی بایوپرنٹنگ کے ذریعے تیاری اب تک نہایت مشکل کام رہی ہے۔اسی حوالے سے ایک اہم رکاوٹ ایسے مادّے ہیں جو نہ صرف نرم ہوں بلکہ ان میں مخصوص جسمانی حصوں سے تعلق رکھنے والے خلیات شامل کرکے متعلقہ عضو کی ایسی جاندار نقل تیار کی جاسکے جو اپنا کام درست طور پر انجام دے سکے۔یارک شائر کی یونیورسٹی آف ہڈرزفیلڈ میں بایوپولیمر مٹیریلز کے ماہر ڈاکٹر ایلن اسمتھ، جن کی نگرانی میں یہ مادّہ دریافت ہوا ہے، تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی بھی انسانی عضو بیک وقت ایسے کئی مادّوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو سخت اور ٹھوس ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور لچک دار بھی ہوتے ہیں۔ اب تک بایوپرنٹرز سے مکمل انسانی اعضائ چھاپنے میں سب سے بڑی مشکل یہی رہی ہے کہ اس طرح بننے والی پرتیں (لیئرز) اتنی نازک ہوتی ہیں کہ اپنے ہی وزن سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں جبکہ ایسی دو پرتیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط بھی نہیں ہوپاتیں۔یہ نیا مادّہ ایک ہلکا پھلکا پولیمر ہے جو بایوپرنٹنگ کے مرحلے سے گزرنے کے بعد لچک اور مضبوطی کو برقرار رکھتا ہے جبکہ اس کی ایک سے زیادہ پرتیں بھی بہ ا?سانی جمائی جاسکتی ہیں۔ اسے انسانی اعضاءکی بایوپرنٹنگ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ ابتدائی تجربات کے دوران اس سے کرکری ہڈیاں اور دوسری نرم لیکن مضبوط جسمانی بافتیں (تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے) چھاپی جاسکیں گی۔ماہرین کو امید ہے کہ اسے مزید بہتر بنا کر آئندہ چند برسوں میں پورے انسانی اعضاءتک چھاپنے کے قابل بنالیا جائے گا۔اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ”ایڈوانسڈ مٹیریلز“ میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved