تازہ تر ین

ہے اس کا کوئی جواب؟

توصیف احمد خان

نوازشریف کے بیان پر تشویش کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فوج کی طرف سے فوری طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔ یہ اجلاس پیر کی صبح ہوا جس کی صدارت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی۔ اجلاس میں بیان کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔ تاہم بعد میں وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں انہوں نے فرمایا کہ نوازشریف نے اس انٹرویو کی تردید کی ہے ان کا کہنا ہے کہ انٹرویو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کی بات کی غلط تشریح کی گئی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ممبئی حملے کے ملزم پاکستان سے نہیں گئے۔ ہمیں بھارتی پراپیگنڈا کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ پاکستان نے ہمیشہ غیرریاستی عناصر کی سرکوبی کی۔ وزیراعظم کی یہ وہ پریس کانفرنس ہے جو خود سرکاری ٹی وی نے بھی ٹیلی کاسٹ نہیں کی۔
اس سے پہلے شہبازشریف صاحب بھی اس قسم کی باتیں کہہ چکے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انٹرویو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مریم نواز کا مو¿قف ان سب سے مختلف ہے۔ انہوں نے اس کی تردید یا اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے جیسے بیان کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایک طرح سے وہ تسلیم کرتی ہیں کہ نوازشریف نے یہ انٹرویو دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے جو کہا ملک کے مفاد میں کہا۔ان کے والد نے بتایا کہ ملک کو کون سی بیماری کھوکھلا کررہی ہے۔ اس بات کو ان کے والد سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور وہ اس کا علاج بھی بتا رہے ہیں۔
ہم فی الحال مریم نواز کے بیان کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ وہ بیٹی کی نظر ہے جبکہ پاکستان کے عوام معاملات کو حقائق کی نظر سے پرکھتے ہیں۔ ہم شاہد خاقان عباسی ‘شہبازشریف اور نواز لیگ کے ترجمان کو پیش نظر رکھ لیتے ہیں ان تینوں کا مو¿قف ہے کہ نواز شریف کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیسے….؟ پہلے ہم انٹرویو کے اس حصے کا جائزہ لے لیں جس پر یہ سارا طوفان اٹھا ہے۔ لمبی بات نہیں دو ایک فقرے ہیں‘ نوازشریف کہتے ہیں:۔
” جو حریت پسند تنظیمیں فعال ہیں کیا ہم انہیں اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ سرحد پار جاکر ممبئی میں 150 افراد کو مار ڈالیں میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ممبئی کے مقدمے کی سماعت جو راولپنڈی کی ایک عدالت میں چل رہی ہے وہ مکمل کیوں نہیں کی گئی۔“
ان کی اس بات سے تو یہی مطلب نکلتا ہے کہ پاکستان میں موجود حریت پسند تنظیموں نے ممبئی میں جا کر حملہ کیا اور ڈیڑھ سو افراد کو مار ڈالا۔ ممبئی میں یہ حملہ 2008ءمیں ہوا تھا جو ساٹھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس حملے کے سلسلے میں اجمل قصاب نامی ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی اور اس کا تعلق پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ہم لفظی یا عقلی اعتبار سے جائزہ لیں تو اس کے سوا کوئی مطلب نہیں نکلتا کہ حملہ آور پاکستان سے گئے…. اگر کچھ اور نکلتا ہے تو شاہد خاقان عباسی‘ شہبازشریف اور ترجمان ن لیگ ہمیں آگاہ کردیں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہوسکے۔ اگر نوازشریف نے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے اور کوئی دوسری بات کی تھی جس کو نظرانذاز کرتے ہوئے اخبار یا اس کے رپورٹر نے یہ الفاظ شامل کردیئے تو پھراور بات ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ نوازشریف نے کیا کہا جس کو رپورٹر نے نظرانداز کرتے ہوئے اپنے پلے سے باتیں ڈال دیں…. ن لیگ کے مذکورہ رہنما یہ تو کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف نے ایسا نہیں کہا بلکہ ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا…. تو پھر آپ ہی بتا دیں کہ نوازشریف نے کیا کہا تھا جس کو اخبار نے مختلف انداز میں شائع کردیا۔ ہمیں وہ اصل بات تو بتائی جائے جس پر یہ سارا ہنگامہ ہے اور کیا نوازشریف کسی کنج تنہائی میں بیٹھے چلہ کاٹ رہے ہیں کہ وہ خود اس پر بات نہیں کررہے یا بھارت کے حوالے سے ان کی زبان کو مسلسل تالا لگا ہوا ہے۔ ذرا یہ بھی بتادیں کہ ان کی زبان کی قفل شکنی کس طرح کرائی جائے۔ موصوف نے بونیر کے جلسے میں بات کی بھی تو اپنے بیان کی تردید نہیں کی اور کسی قسم کی وضاحت بھی نہیں دی جس کا مطلب ہے وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔ انہوں نے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بات بھی نہیں کی۔ جو کہا اس سے وزیراعظم ‘وزیراعلیٰ اور ترجمان کی وضاحت کی تردید ہوتی ہے۔
بات نوازشریف نے کی ہے۔ اس کی تردید ‘تصدیق یا وضاحت بھی نوازشریف کا کام ہے۔ ہم شاہد خاقان عباسی یا شہبازشریف صاحب سے گزارش کریں گے کہ جو کچھ کہنا ہے نوازشریف سے کہلوائیں۔ بیان نوازشریف کا ہے اور اب امتحان میں دوسرے پڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں تو ابھی تک یہی سمجھ میں نہیں آسکا کہ آخر وہ کون سی اور کیا بات تھی جس کو توڑ مروڑ کر پیش کردیا گیا اور پاکستانی میڈیا کس طرح بھارتی میڈیا سے متاثر ہورہا ہے…. پہیلیاں بجھوانے کی بجائے مناسب ہوگا کہ ہمیں اصل بات بتائی جائے۔
ابھی یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے پریس کانفرنس کردی۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ تردید کے ساتھ ساتھ تصدیق بھی تھی کہ جو کچھ چھاپا گیا ہے وہی کچھ کہا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نوازشریف نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ جب ممبئی حملے ہوئے تو پرویزمشرف اور رحمن ملک نے بھی یہی بات کہی تھی۔ اب بات کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نوازشریف کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جس سے پاکستان کی نیک نامی نہیں ہوئی۔ اوچھے ہتھکنڈوں سے نوازشریف کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی۔
سچ ہو تو رانا ثناءاللہ جیسا….لیکن رانا صاحب اگر پرویزمشرف اور رحمن ملک کنویں میں چھلانگ لگا دیں گے تو نوازشریف بھی ایسا ہی کریں گے۔ باقی رہ گئی ٹارگٹ کرنے والی بات…. آپ درست فرما رہے ہیں کہ نوازشریف کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اور نہیں نوازشریف کو صرف اور صرف نوازشریف ٹارگٹ کررہا ہے اور آپ بھی سن لیں…. پاکستان کے عوام محب وطن ہیں۔ وہ نوازشریف کی کسی غلط بات پر لبیک نہیں کہہ سکتے۔بہرحال! معاملہ بہت الجھا ہوا ہے۔
چلیں ہم یہ سب کچھ سچ مان لیتے ہیں۔ نوازشریف نے انٹرویو میں ایسی بات نہیں کہی۔ ان سے غلط الفاظ منسوب کئے گئے ہیں یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے…. ایسی صورت میں صرف یہ بتا دیں کہ غلط بات منسوب کرنے یا اسے توڑ مروڑ کر پیش کرنے والوں سے کچھ پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ ہماری مراد اخبار اور اس کے رپورٹر سے ہے۔
ہمارا یہ سوال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ہے…. وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے ہے اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ سے ہے…. آپ لوگوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے….؟
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved