تازہ تر ین

اگلی میٹنگ کو مزید بامقصد بنانے کیلئے شرکا کو کافی پیش کیجئے

سان فرانسس (ویب ڈیسک )ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ میں کافی پینے والے افراد گفتگو میں گہری توجہ دیتے ہیں اور خود کو بھی اس میٹنگ میں اہم تصور کرتے ہیں۔اس سے قبل ماہرین کافی کے دماغ پر اثرات پر بہت کچھ تحقیق کرچکے ہیں لیکن یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس نے پہلی مرتبہ ایک مطالعہ کرکے کسی گروہ کی ذہنی و دماغی صلاحیت پر کافی کے اثرات نوٹ کیے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی میں شعبہ مینیجمنٹ کے ڈین راو¿ اناوا اور ان کی بیگم واسو اناوا نے کی ہے جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ کسی گروہ کو کافی پیش کی جائے تو میٹنگ بہت ثمرآورثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین نے اس کی مکمل روداد ’جرنل آف سائیکوفارماکولوجی‘ میں شائع کرائی ہیں۔اس کے لیے ماہرین نے ایک یونیورسٹی کے 70 انڈرگریجویٹ طلبا و طالبات کو شامل کیا۔ ان میں سے آدھے لوگوں کو ایک موضوع ’اوکیوپائی موومنٹ‘ پر بحث اور اس کے ممکنہ حل پرتجاویز کے لیے بلایا اوربحث سے 30 منٹ قبل انہیں کافی پیش کی گئی۔ دوسرے گروپ کو گفتگو ختم کرنے کے بعد کافی پلائی گئی۔ واضح رہے کہ اوکیوپائی موومنٹ وہ بین الاقوامی تحریک ہے جس کے تحت لوگ سماجی اور معاشی انصاف چاہتے ہیں اور آئے دن مظاہرے بھی کرتے رہتے ہیں۔جن طلبا و طالبات نے کافی پی کر گفتگو شروع کی انہوں نے بحث کو مثبت بتایا اور وہ اپنے کردار سے بھی مطمئن نظر آئے۔ دوسری جانب دوسرے گروپ میں ایسی سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔ تاہم یہ اب یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ اثر کافی سے ہوا ہے یا پھر اس میں موجود کیفین اس کی وجہ ہے۔اس بار دوسرے تجربے میں تمام شرکا کو میٹنگ سے قبل کافی دی گئی لیکن بعض کافی کیفین والی اور کچھ پیالیاں بغیر کیفین کی تھیں۔ اس بار جن خواتین و حضرات کو کیفین والی کافی پلائی گئی وہ میٹنگ میں چاق و چوبند رہے اور دوسروں کے مقابلے میں پوری ملاقات کو بہتر اور مثبت قرار دیا۔ انہی شرکا نے اپنے گروپ کے ساتھ مزید کام کرنے کو ترجیح دی۔اس پوری میٹنگ میں لوگوں کی آواز کو بھی ریکارڈ کیا گیا تھا اور جن افراد نے کیفین والی کافی نوش کی تھی انہوں نے بہت اہم اور متعلقہ نکات اٹھائے تھے۔ماہرین اس کی وجہ یہ بھی بتارہے ہیں کہ کافی لوگوں کو چاق و چوبند بناتی ہے اور کسی گروپ ڈسکشن میں اس کا استعمال بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved