تازہ تر ین

نوازشریف کابیانیہ ….اندرکی کہانیاں

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملتان میں ایک رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عسکری تنظیمیں جنہیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے ،کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہئے کہ سرحد پار جاکر 150 لوگوں کو قتل کردیں۔ انہوں نے کہا جس ملک میں دو تین متوازی حکومتیں چل رہی ہوں‘ آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، اس لئے ملک میں فقط ایک آئینی حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ نوازشریف کے بیان کی مذکورہ دو لائنز کو لے کر پاکستان سمیت بھارت میں بھی ایک ہنگامہ بپا ہے۔ بھارت کہتا ہے ممبئی حملوں بارے ہمارے مو¿قف کی تائید ہوگئی ہے جبکہ پاکستان میں بعض حلقوں کا مو¿قف ہے کہ نوازشریف نے ریاست کے خلاف بات کی۔ اس ضمن میں کوئی لگی لپٹی نہ بھی رکھی جائے اور 26 نومبر 2008ءکو ممبئی حملوں اور اس کے بعد حکومت پاکستان کے مو¿قف بشمول ملک کے ریاستی اداروں کی تفتیش کے حقائق یوں ہیں کہ نوازشریف کا حالیہ بیان تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں‘ جو کوئی نو سال قبل حکومت خود بیان کرچکی ہے۔ ملاحظہ ہو 12 فروری 2009ءکو اس وقت کے مشیر داخلہ مسکراتے ہوئے بڑے طمطراق سے دنیا بھر اور درجنوں ٹی وی کیمروں اور رپورٹرز کے سامنے سرکاری مو¿قف پیش کررہے ہیں کہ ممبئی حملوں کی سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔ اس سازش کے ماسٹر مائند اور دیگر منصوبہ سازوں کو ہم نے گرفتار کرلیا ہے۔ ان جگہوں کو بھی تلاش کرلیا گیا ہے۔ ٹیلی فون سمز آسٹریا سے خریدی گئیں‘ ان کی پے منٹ سپین اور اٹلی سے ہوئی وغیرہ وغیرہ اور یہ بھی کہ ان افراد کی ٹریننگ کہاں کہاں ہوئی، ہم نے یہ سب پتہ کرلیا ہے۔ 26/11 حملے کے مرکزی کردار اجمل قصاب نے انڈین اتھارٹیز کو اپنی گرفتاری کے بعد جو بیان دیا اس کی روشنی میں پاک فوج یا ”آئی ایس آئی“ نے کارروائی کی اور حملوں کے ماسٹر مائنڈذ کی الرحمن لکھوی سمیت سات ملزموں کو گرفتار کیا ۔جب بھارت نے ان ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو پاکستان نے کہا کہ ہم اپنے شہری بھارت کے حوالے نہیں کرسکتے، ایسا کوئی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نہیں ہے۔ حکومت پاکستان نے ایک مرکزی ملزم ذکی الرحمن کی اینٹی ٹیررازم کورٹ سے ضمانت کو ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کیا اور ہائیکورٹ نے اس کی ضمانت منسوخ کردی۔ حیرت تو یہ بھی ہے کہ نوازشریف کا جو بیان ”ڈان“ میں شائع ہوا ہے اس کی کوئی آڈیو‘ ویڈیو ابھی تک کہیں نہیں دیکھی گئی اور نہ ہی نوازشریف یا ان کے کسی ترجمان کی طرف سے اس بیان کی کوئی وضاحت کی گئی ہے۔
3 اگست 2015ءکو ممبئی حملوں کے تناظر میں ”ڈان“ میں شائع ہونے والے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ”ایف آئی اے“ طارق کھوسہ کے ایک مضمون کے مطابق ممبئی حملوں کا واحد زندہ گرفتار ہونے والا حملہ آور اجمل قصاب پاکستانی تھا‘ ہمیں اس کی رہائش‘ تربیت اور لشکر طیبہ میں شمولیت بارے ثبوت بھی ملے ہیں حالانکہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر جنوری2002ءمیں جنرل پرویز مشرف نے اس پر پابندی بھی عائد کردی تھی لیکن یہ خفیہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔ طارق کھوسہ کا کہنا تھا کہ ٹھٹھہ کے قریب لشکر طیبہ کے ایک خفیہ ٹریننگ سنٹر میں ممبئی حملوں کے ان حملہ آوروں کو تربیت دی گئی اور یہیں سے انہیں ممبئی بھجوایا گیا۔ ہمارے تفتیشی ادارے ان ٹریننگ سنٹرز کا سراغ لگا چکے ہیں‘ ان کیمپس میں ایسے باکس بھی ملے ہیں جن میں اسلحہ پیک کیا گیا تھا‘ وہ فشنگ ٹرالر بھی قبضہ میں لیا گیا ہے جس پر ان حملہ آوروں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے ممبئی ساحل کے قریب جو کشتی چھوڑی‘ یہ جاپان سے لاہور لانے کے بعد کراچی ایک کھیلوں کی دکان پر بھجوا دیا گیا جہاں سے لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد نے اسے خریدا۔ طارق کھوسہ کے مطابق کراچی سے اس آپریشن کی ہدایات جاری کرنے کے لیے استعمال کئے جانے والے آپریشن روم کا سراغ بھی لگایا جا چکا ہے اور اس حملہ کے مبینہ سرغنہ اور اس کے معاونین کی شناخت کے بعد گرفتاری بھی ہوچکی ہے۔ رقوم فراہم کرنے والے کئی بیرونی افراد بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں اور ان پر مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ طارق کھوسہ نے اپنے مذکورہ مضمون میں یہ بھی لکھا کہ پاکستان اور بھارت ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف اس قسم کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں لہٰذا اب ان حقائق کو تسلیم کرنے کا وقت آچکا ہے کہ دونوں ملک سمجھوتہ ایکسپریس اور ممبئی حملوں جیسے تنازعات سے آگے بڑھیں۔
نوٹ کرنے کا سوال یہ ہے کہ 2008ءمیں ممبئی حملہ ہوتے ہی جب بھارت نے براہ راست اس واقعہ کا الزام پاکستان پر لگایا تو پاکستان میں پیپلزپارٹی کی تازہ تازہ حکومت بنی تھی‘ چنانچہ حکومت نے اپنے تمام تر اثرانداز ہونے والے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر سرعت سے اس کی تفتیش کی اور ”اچھے ہمسائے“ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی بیانئے کو تقریباً من و عن تسلیم بھی کرلیا کہ سازش تیار کرنے والے اور حملہ کرنے والے ہماری ہی سرزمین سے ممبئی پہنچے تھے۔ اب یہ تفتیش ادھوری رہنے کی وجہ دونوں ممالک کا اپنے مو¿قف سے پیچھے نہ ہٹنا تھا۔ پاکستان کا مو¿قف تھا کہ ”آئی ایس آئی“ چیف اجمل قصاب سے تفتیش کے لئے بھارت جانا چاہتے ہیں لیکن بھارت نے یہ اجازت نہ دی اور بڑی عجلت میں اجمل قصاب جو اس واقعہ کا واحد زندہ گواہ تھا کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ دوسری طرف بھارت بضد تھا کہ پاکستان اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور دیگر ملزموں کو بھارت کے حوالے کرے جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں‘ اس لئے ہم اپنے شہریوں کو بھارت کے حوالے نہیں کرسکتے۔ چنانچہ نوازشریف کے تازہ بیان کے ضمن میں دو نکات پر بات کی جاسکتی ہے۔ ایک یہ کہ انہیں یہ بات کہنے اور کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ خصوصاً جب وہ خود پر چلنے والے بہت سے عدالتی مقدمات کے سلسلہ میں پہلے ہی شدید دباﺅ میں ہیں‘ دوسرا یہ کہ حالیہ بیان یا یہ دو لائنیں کہہ کر کہ ” کیاہمیں انہیں یعنی غیرریاستی عناصر کو یہ اجازت دینی چاہئے کہ وہ سرحد پار جاکر 150 لوگوں کو قتل کریں“ دیکھا جائے تو نوازشریف یہ بات کرکے کوئی انکشاف نہیں کررہے بلکہ یہ وہی بات ہے جسے دس سال پہلے ریاست پاکستان تسلیم کرچکی ہے۔
قطع نظر نوازشریف کے بیان‘ حکومت پاکستان کے مو¿قف یا بھارت کے الزام‘ مذکورہ ممبئی حملوں پر ایک معروف غیرملکی محقق اور کئی مشہور کتابوں کے مصنف نے ایک پوری کتاب لکھی ہے ۔میں نے اس کتاب کی تلخیص چند ہفتے قبل انہی کالموں میں کی تھی‘ حوالے کے لئے اس کتاب کے بعض حصے دوبارہ رقم کررہا ہوں۔ ایلیس ڈیوڈسن اسی سال فروری میں آنے والی اپنی تہلکہ خیز تصنیف ”THE BETRAYAL OF INDIA“جس کے 25 چیپٹر ہیں 900 صفحات کی اس کتاب میں مصنف نے 26/11 یعنی ممبئی حملوں کی اصلیت کو ننگا کرکے رکھ دیا ہے۔ یہی وہ مصنف ہے جس نے اپنی ایک دوسری کتاب HIGH JACKING AMERIC`S MINO ON 9/11 لکھ کر امریکی ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا تھا۔ اس نے ثابت کیا تھا کہ امریکہ کے پاس سرے سے کوئی ثبوت نہیں کہ 9/11 کے حملوں میں کوئی بھی مسلمان ہائی جیکر ملوث تھا۔ اسی طرح ممبئی حملے کے پس پردہ حقائق بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے کہ 26/11 واقعہ کا ماسٹر مائنڈ امریکی ”سی آئی اے“ کا ایجنٹ ہیڈلے تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امریکہ‘ برطانیہ‘ اسرائیل اور انڈین خفیہ ایجنسیوں کی ایک مشترکہ سازش تھی تاکہ اسلامو فوبیا کو ہوا دے کر پاکستان کو براہ راست اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے تاکہ پاکستان کو غیرمستحکم اور اس کے ایٹمی اثاثوں اور صلاحیت کو کمزور اور پھر ختم کردیا جائے لہٰذا یہ سب مغربی ملکوں کی لانگ ٹرم پلاننگ کا حصہ تھا۔ ایلیس ڈیوڈسن کے مطابق ”نیٹو“ بھی 26/11 کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔ 17 فروری 2018ءکو جب یہ کتاب مارکیٹ میں آئی تو مغربی دنیا خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسیوں‘ حکومت کے اثرانداز ہونے والے اداروں اور میڈیا میں افراتفری کا عالم ہے۔ مصنف کی اس کتاب ”انڈیا کا دھماکہ“ کے سرورق پر ممبئی کے ہوٹل تاج کی المعروف تصویر اور کتاب کے 900 صفحات نے بھارتی منصوبہ سازوں اور ان کے مغربی حریفوں کی پاکستان کے خلاف سازش کے وہ تمام تاروپود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں جو انہوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے تشکیل دیئے تھے۔ مصنف نے مزید ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ بھارتی حکومت نے شروع میں 9 مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری کا شور مچایا پھر حیرت انگیز طور پر ان میں سے آٹھ مر گئے اور ان کے پاس فقط ایک قصاب رہ گیا اور پھر اس کا بھی یکطرفہ ٹرائل دنیا کے سامنے ہے۔ مذکورہ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کے انتہائی مضبوط ثبوت موجود ہیں کہ مذکورہ واقعہ کے دوران ممبئی میں یہودی سنٹر اور عبادت گاہ پر حملے بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ مصنف کے مطابق دنیا کو یقین ہوچکا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر بھی پاکستان کی وحدت کو کمزور نہیں کرسکتے۔ مذکورہ کتاب کے آنے پر بھارت کے لیے شرمندگی اور لمحہ فکریہ تو ہے ہی لیکن اس کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عام شہریوں کو اس بات کا کیا جواب دے گا کہ حکومت نے کیوں ایک سازش کے تحت اپنے ہی 162 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور 300 سے زائد کو زخمی کیا۔!!!
ایک غیرملکی لیکن معروف مصنف کی مذکورہ کتاب بھارت کے لئے شرمندگی کا باعث بنی ہے لیکن کیا پاکستان کے لیے بھی اس میں کوئی سبق نکلتا ہے‘ کیا اس صورتحال میں اس بات کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان اس تمام تر صورتحال کا ازسرنو جائزہ لے اور اس واقعہ اور مقدمہ پر نئے حالات کی روشنی میں اپنے عوام اور دنیا کے لئے اپنا نیا بیانیہ جاری کرے تاکہ آئندہ کے لئے نوازشریف بھی اس واقعہ پر ویسا ہی مو¿قف بیان کریںجس کا تعین مجموعی طور پر پاکستان کے ریاستی ادارے کریں۔!!
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved